آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 12؍شوال المکرم 1440ھ16؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ بھارت جنگ کی تیاریاں کر رہا ہے ،ہم اپنے دفاع کے حق کو استعمال کر رہے ہیں، اس دفعہ پاکستان کا فوجی ردعمل بھی مختلف قسم کا اور حیران کن ہو گا۔


ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پلواما واقعے کی تحقیقات چاہتا ہے، ہم جنگ کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے، امید ہے بھارت پاکستان کے امن کی پیشکش پر سنجیدگی سے غور کرے گا، پورا بھارتی میڈیا وار جرنلزم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 14فروری کو پلواما میں کشمیری نوجوان نے قابض فورسز کو نشانہ بنایا، واقعے کے فوری بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزامات کی بارش ہو گئی، بغیر سوچے، بغیر تحقیق، بغیر ثبوت کے الزامات لگائے گئے، جس کا پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طورپر جواب دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے جواب دینے میں تھوڑا وقت لیا ہے، اس کے بعد وزیراعظم نے اپنا بیان جاری کیا، وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھارت کو اس کے الزامات کا جواب دیا، پاکستان نے اپنے طور پر واقعے کی تحقیقات کیں، جب بھی پاکستان میں کوئی اہم ایونٹ ہونا ہو، اس قسم کا اسٹیج ایکشن ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے بھارت کو وہ پیشکش دی جو شاید پہلےکبھی نہیں دی گئی، ہمارے وزیراعظم نے انہیں یہ بھی کہہ دیا کہ ٹھیک ہے آجائیں دہشت گردی پر بھی بات کر لیں، کل نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں نیشنل ایکشن پلان پر تیزی سے عمل کا فیصلہ ہوا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم جنگی تیاریاں نہیں کر رہے، جنگ کی دھمکی بھارت کی طرف سے آ رہی ہیں،ہم ان دھمکیوں پر رسپانس دینے کا حق رکھتے ہیں، سول انتظامیہ کی طرح ملٹری رسپانس بھی مختلف ہو گا، ہم اپنے دفاع کے حق کو استعمال کر رہے ہیں، اس دفعہ فوجی ردعمل بھی مختلف قسم کا اور حیران کن ہوگا، تاہم ہم جنگ میں جانے کی خواہش نہیں رکھتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سعودی کراؤن پرنس کا پاکستان کا دورہ تھا، اچھی انویسٹمنٹ کی کانفرنس تھی، ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ پر بحث ہو کر پاکستان کے لیے فیصلہ ہونا تھا، ایسے ماحول میں پاکستان ایسی کارروائی کیسے کر سکتا ہے؟ پاکستان کو کیا فائدہ ہے؟ پاکستان کو تو اس کانقصان ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی طرف سے کوئی بھی شخص ایل او سی کو کراس کرے اور سیکیورٹی فورسز کے ہوتے ہوئے دراندازی ہو جائے، یہ واقعہ لائن آف کنٹرول سے میلوں دور ہوا ہے، جو دھماکا خیز مواد استعمال ہوا وہ وہاں کی فورسز اور انتظامیہ کے زیر استعمال تھا، جو حملہ آور تھا وہ مقبوضہ کشمیر کا مقامی لڑکا تھا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہندوستان میں موجود لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس قسم کے حملے کی بہت پہلے پیشگوئی کی، پاکستان بدل رہا ہے، ایک نیا مائنڈ سیٹ آ رہا ہے، ہم بہت مشکلوں سے گزر کر یہاں پہنچے ہیں، ہمارے عوام اور افواج نے خون کے سمندر سے گزر کر اسے جلابخشی ہے، ہم خطے کے امن کی کوشش کر رہے ہیں، اب نہ غلطی کی کوئی گنجائش ہے نہ ارادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے، ان کی پنشن اور دیگر فوائد روک لیے گئے ہیں، جاسوسی کے الزام میں 2 فوجی گرفتار ہیں، ان کا تعلق کسی نیٹ ورک سے نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں