آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار16؍رجب المرجب 1440ھ 24؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ کے جنوبی سمت میں واقع خودمختار ریاست اسکاٹ لینڈ کی خوبصورتی و دلکشی تاریخی ناول نگار ’والٹر اسکاٹ‘ کے ناولز کے باعث دنیابھر میں معروف ہوئی، جس نے انگریزی زبان و ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس کے جزائر، سرسبز میدانوں، باغوں، جھیلوں، نہروں، دریا و سمندر کو دیکھ کر زمین پر بہشت کا گمان ہوتا ہے۔ یہی جمالیاتی حسن اسکاٹ لینڈ کی سرسبز وادیوں میں بنے پروقار طرز تعمیر میں بھی دکھائی دے گا۔ اسکاٹ لینڈ اپنے عالیشان قلعوں اور زیریں و بالائی جزائر میں واقع پروقار عمارتوں کے حوالے سے خاص شہرت کا حامل ہے۔ باغات اور عمارتوں کا یہ حسن اسکاٹ لینڈ کے لوگوں کی شناخت ہے۔ آیئے آپ کو اسکاٹ لینڈ کی کچھ دل آویز تاریخی عمارتوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔

کیئر لیوروک کیسل

اسکاٹ لینڈ کا جنوبی ساحل اپنے حیران کن وسطی ادوار کے کوٹ اور قلعوں کے باعث شہرت دوام رکھتا ہے، جہاں3ہزار سے زائد قلعے اسکاٹ لینڈ کے تحفظ اور جنگی بالادستی کی داستان سناتے ہیں۔ ایسا ہی آئیکونک کیئر لیوروک کیسل (Caerlaverock Castle)ہے، جو اپنی تکونی طرز تعمیر اور شاندار آرکیٹیکچر سے اہل فن کو اپنی جانب متوجہ کئے ہوئے ہے۔ نیشنل نیچر ریزرو کے کنارے پر ڈم فرائز اور گیلووے کے جنوب میں11کلومیٹر احاطے پر واقع اس یکتا قلعے کی تعمیر13ویں صدی میں شروع ہوئی، یہ17ویں صدی تک میکسویل فیملی کی شاہی عظمت کا نشانبر رہا۔ اسی صدی میں اسکاٹ لینڈ کی آزادی کی جنگوں کے دوران انگریزوں نے اس خالی قلعے پر اس وقت قبضہ جمایا جب میکسویل خاندان نے اسے خالی کر دیا۔ 13ویں صدی سے17ویں صدی تک مختلف شاہان اسکاٹ لینڈ نے اس قلعے کی تزئین و آرائش کا کام جاری رکھا۔ آج اس قلعے کو قومی ثقافتی ورثے اور ان تاریخی عمارات میں شمار کیا جاتا ہے، جنہیں دیکھنے کے لئے دنیابھر سے سیاح آتے ہیں کیونکہ اس کی طرزتعمیر دنیابھر میں منفرد اور انوکھی ہے۔ ہم اس قلعے کی تعمیراتی شان کو رنی کوٹ اور دراوڑ قلعے سے مماثل قرار دے سکتے ہیں، جو وقت کے فراموش کردہ لمحات میں آج بھی ویران لق و دق صحرائے سندھ اور چولستان میں اپنی شاہی عظمت کے گواہ ہیں۔

ایبر ٹاف ہاؤس

ایبر ٹاف ہائوس (Abertaff House) اِنورنیس شہر کی سب سے پرانی سیکولر عمارت ہے، جسےلوویٹ کے فریزر کے لئے1593ء میں بنایا گیا تھا۔ یہ16ویں صدی کے ٹائون ہائوس کی شاندار مثال ہے۔ پتھر سے بنے کوربی اسٹیپ آرکیٹیکچر پر بنی یہ تاریخی عمارت دو منزلہ ہے۔ 19ویں صدی تک یہ فریزر فیملی کی رہائش گاہ رہا، بعدازاں اسے کمرشل بینک آف اسکاٹ لینڈ نے حاصل کیا پھر اسے ثقافتی و تاریخی ورثہ قرار دیتے ہوئے1963ء میں نیشنل ٹرسٹ فار اسکاٹ لینڈ کو تحفے میں دے دیا گیا، جنہوں نے1966ء میں اس کی وسیع تزئین و آرائش کی۔ وسطی اِنورنیس کے قلعہ میں سے چرچ اسٹریٹ کے ساتھ شمال مغربی سمت آتے ہوئے فریزر اسٹریٹ پار کر کے اولڈ ہائی چرچ کی طرف پانچ منٹ کی پیدل مسافت پر آئیں تو ایبر ٹاف ہائوس کی پرشکوہ تاریخی عمارت سامنے ہوتی ہے۔

اسٹرلنگ کیسل

کیسل ہل کی اونچی نیچی گھاٹیوں پر قائم اسٹرلنگ کیسل(Stirling Castle) چہار اطراف بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مضبوط حصار باندھے ہوئے ہے،جس کا فضائی منظر ملاحظہ کریں توتکونی و محرابی چھتیں اسے دشمن کے نشانے سے محفوظ رکھتی ہیں۔ اسے 12ویں صدی کے ابتدائی عشرے میں تعمیر کیا گیا تھاجبکہ توسیعی کام زیادہ تر 1490ء سے1600ء کے درمیان کیا گیا۔اسکاٹ لینڈ کی جنگ آزادی کے دوران اسے فوجی چھاؤنی کی حیثیت حاصل رہی۔ اس قلعے میں گریٹ ہال اور رائل پیلس بھی ہے، جو اسے جداگانہ حیثیت دیتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کے لوگوں میں تعمیرات کا جمالیاتی ذوق اسٹرلنگ کیسل میں اپنے عروج پر نظر آتا ہے،تاہم شاہی قلعوں کی سرزمین اسکاٹ لینڈ کے ہر ایک قلعے کا تعمیراتی ڈیزائن اور آرائش منفرد کہانی پیش کرتی ہے۔ 

ایڈن برگ کیسل

ایڈن برگ کیسل(Edinburgh Castle) کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس قلعے کی چٹانی وادی میں انسانی آبادی کے شواہد فولادی دور سے ملتے ہیں۔یہ قلعہ 12ویں صدی سے ڈیوڈاول کے دور سے ہی شاہی قلعہ رہا ہے، جس کی تعمیراتی شوکت و عظمت میں اضافے کا کام اسکاٹ لینڈ کے ہر بادشاہ کے دور میں کیا گیا۔ یہ قلعہ خاموش آتش فشانی پہاڑی پر قائم ہے، جسے شاہوں نے پہلے رہائش گاہ کے طور پر رکھا بعد ازاں اس کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کے پیش نظر اسکاٹ لینڈ حکومت نے اسے ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔ قدیم دنیا کے تعمیراتی قلعوں میں اس کا طرزِ تعمیر دنیا بھر کے قلعوں سے منفرد ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے تمام جنگیں یہیں سے لڑی گئیں۔ اس وقت اسے اسکاٹ لینڈ کی علامت اور لینڈ مارک کی حیثیت حاصل ہے،جسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔

بالنا گائون کیسل

اسکاٹ لینڈ کی بالائی سرزمینوں پر واقع عالیشان قلعوں کی موجودگی اسکاٹ لینڈ کی تاریخی اہمیت کو آشکار کرتی ہے۔ ایسے ہی قلعوں میں سے ایک ایسٹر راس کے پاس، اِنورگورڈن ایریا میں دریائے بالنا گاؤن کے کنارے واقع بالنا گائون کیسل (Balnagown Castle)ہے، جو روسی قبیلے کے سرداروں کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ اسے14ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں بنایا گیا تھا۔ 1942ء تک وقت کے فراموش کردہ ہاتھوں سے یہ قلعہ بوسیدہ ہوتا چلاگیا اور اس سے پہلے کہ اس کی دفاعی خوبصورتی کا نادر تعمیراتی ڈھانچہ زمیں بوس ہوتا، مصری صنعتکار محمد الفاید نے اسے1972ء میں خرید کر اس کے گھر اور دیگر تعمیرات کی آرائشِ نو کروائی ۔ ماضی کی شان بحال ہوتے ہی اس کا شمار اسکاٹ لینڈ کے انتہائی حیران کن قلعوں میں ہوگیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں