آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک بڑا دلچسپ سوال اٹھ رہا ہے۔ ہر سال مارچ کی آٹھویں تاریخ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس طرح خواتین کا ایک دن منایا جاتا ہے اُسی طرح مردوں کا دن بھی منایا جانا چاہئے۔ برابری کا مطالبہ کرنے والے تو یہی چاہیں گے، مگر عورتوں کے دن تو بےشمار نعرے لگ سکتے ہیں۔ مثلاً خواتین کو وہی حقوق دئیے جائیں جو مردوں کو حاصل ہیں، عورتوں کو کمتر نہ تصور کیا جائے، اُن کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کیا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خواتین کو صنفِ نازک کہنا قانوناً ممنوع قرار دیا جائے۔ اب اگر مردوں کا دن بھی منایا جائے اور لوگ نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں تو وہ نعر ے کیا ہوں گے۔ ہمارے ذہن میں ایک دو ہی نعرے آتے ہیں، مثلاً زچگی کی چھٹّی شوہروں کو بھی دی جائے اور یہ کہ مردوں کیلئے روز روز شیو بنانے کی زحمت ختم کی جائے۔ اِس معاملے میں خواتین مزے میں ہیں، منہ دھو کر گھر سے نکل کھڑی ہوتی ہیں۔ اک ذرا سا میک اپ ہی تو کرنا ہوتا ہے، اس پر خواتین کو کوئی اعتراض نہیں۔ ہاں اس پر مرد حضرات کو شکایت ہو سکتی ہے کہ گھر کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس کمبخت میک اپ کی وجہ سے خواتین دن میں کچھ اور نظر آتی ہیں، شب میں کچھ اور۔ خواتین جس انصاف کا مطالبہ کرتی رہی ہیں وہ تو اب عالمی تحریک بنتا جا رہا ہے۔ ان کی حقوق کی بات ہر جگہ ہونے لگی ہے۔ بی بی سی میں تو ایک ہی منصب پانے والے مرد اہل کاروں کی اجرت زیادہ اور خواتین کی تنخواہ کم پائی گئی تو ایک شور اٹھا اور معاملہ اوپر تک گیا۔ اس طر ح کی بحث یوں بھی چھڑنے لگی ہے کہ اب تک خواتین چھوٹے موٹے منصب تک پہنچ کر اسی میں مگن ہو لیتی تھیں مگر اب سارے ہی میدان سب کے لئے کھل گئے ہیں۔ خواتین ترقی کرنے لگی ہیں اور وہ بھی مقابلے پر آنے کے بعد۔ وہ فضائیہ کے طیارے اڑا رہی ہیں، فوج اور پولیس میں بھرتی ہو کر اعلیٰ کارکردگی دکھا رہی ہیں، بینک اور انشورنس میں بھی آگے آگے ہیں۔ بزنس ایڈمنسٹریشن کے کورس شاندار کامیابی سے پاس کر کے، ہر جامعہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لے کر مختلف میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ تازہ خبر یہ کہ کھیلوں میں خواتین بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں، فٹ بال اور کرکٹ میں ان کادخل ہی نہ تھا، اب صورت یہ ہے کہ مردوں سے بہتر کھیل رہی ہیں۔ ویٹ لفٹنگ اور اس سے بھی بڑھ کر باکسنگ میں اپنی دھاک بٹھا رہی ہیں۔ پتہ نہیں یہاں اس کا ذکر مناسب ہو گا یا نہیں، خیر سے جرائم پیشہ گروہوں میں بھی برابر کی حصہ دار بن رہی ہیں۔ ایک خبر ہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کی جیلوں میں اس وقت بیانوے عورتوں پر قتل کے مقدمے چل رہے ہیں۔ اس سے ایک بات صاف عیاں ہے کہ جب پورا معاشرہ سرگرم عمل ہو تو معاشرے کے سارے ہی طبقے حرکت میں آجاتے ہیں۔

سیاست کی بات تو رہ ہی گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ خواتین کو سیاست اور سیاست کو خواتین خوب خوب راس آئی ہیں۔ کیا چھوٹے بڑے اور کیا غریب اور مالدار ملک، سب ہی میں خواتین سیاست کے میدان میں نام پیدا کر رہی ہیں۔ ذرا سوچئے کہ بہت عرصہ ہوا جب سری لنکا اور اسرائیل میں خواتین نے حکمرانی کی تھی۔ پھر یہ سلسلہ آگے بڑھا تو بھارت اور پاکستا ن سے ہوتا ہوا آج جرمنی میں سرگرم ہے، امریکہ میں خاتون صدر بنتے بنتے رہ گئیں، وہاں روسیوں نے انٹرنیٹ پر ایسے ایسے کمالات دکھائے کہ دنیا دیکھتی ہی رہ گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ نام کے ایک صاحب مقبول خاتون امیدوار ہلیری کلنٹن کو پچھاڑ کر صدر بن بیٹھے جن کی کامیابی پر جو سب سے زیادہ حیران ہوا وہ امریکی ووٹر تھا۔ اس وقت بھی امریکی کانگریس میں خواتین نے اہم مقام بنا لیا ہے اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں عورتیں آگے آگے ہیں اور سنہ دو ہزار بیس کے انتخابات کے جو امیدوار میدان میں اترنے کے لئے پر تول رہے ہیں ان میں ایک آدھ نہیں، کئی خواتین شامل ہیں۔

بہرحال مارچ کی آٹھویں تاریخ کو شہر شہر خواتین کی پریڈیں ہوں گی(جن میں مردوں کو شامل ہونے کی دعوت ہے) اور ریلیاں ہو ں گی، تقریریں ہوں گی اور ہر طر ف پلے کارڈ ہی پلے کارڈ ہوں گے۔ تیاریاں جاری ہیں اور دنیا دیکھے گی کہ جسے ہم نے صنفِ نازک کہہ کہہ کر زمانے کی نازک سی شاخ پر بٹھا دیا تھا، وہ اپنی تمام تر توانائی کے ساتھ میدان عمل میں اترے گی اور اپنے ہونے کا بھر پور سکّہ منوائے گی۔ اس مرحلے پر میرا دل ان کم سن لڑکیوں کے لئے دھڑک رہا ہے جو لوگوں کے گھروں میں معمولی اجرت پر ملازمت کرتی ہیں اور جہاں گھر والے ان کو زر خرید لونڈی سمجھ کر ان پر ظلم کے ایسے ایسے پہاڑ توڑتے ہیں کہ دیکھا نہیں جاتا۔ حال ہی میں ایک گھرانے کی نو عمر ملازمہ کو بری طرح مارا پیٹا گیا۔ پتہ چلا کہ ظلم ڈھانے والی گھر کی تین جوان لڑکیاں تھیں۔ شاید ملازمہ سے شیشے کا گلاس ٹوٹ گیا تھا یا ایسا ہی معمولی سا قصور ہوا تھا جس کی سزا کے طور پر گھر کی پڑھی لکھی جوان لڑکیوں نے ملازمہ کو بے پناہ ایذا دی۔ بے رحمی کی یہ کارروائی ایک نفسیاتی مرض ہوتا ہے جس میں آسودگی سے محروم لوگ ظلم ڈھا کر ایک طرح کی لذّت اٹھاتے ہیں۔ تشدد کا یہ عمل جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے، ایذا رسانی اور زیادہ شدت اختیار کرتی جاتی ہے۔ (بچوں کو پڑھانے والے بھی بارہا اس نفسیاتی مرض کے شکار ہوتے ہیں) اِن دنوں انٹر نیٹ پر صوبہ سندھ کے کسی علاقے کی تصویر عام ہو رہی ہے جس میں ایک مظلوم ماں اور اس کی چھوٹی سی معصوم بیٹی کو پولیس نے زنجیروں میں جکڑ کر بٹھا رکھا ہے، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چار کلو کپاس چرائی تھی۔

تصویر پر کسی نے کمنٹ کرتے ہوئے لکھاہے: انہیں چوری کی نہیں، غریبی کی سزا مل رہی ہے۔ اُسی تصویر پر میرا تبصرہ ہے کہ جس طرح عورتوں کا دن منایا جارہا ہے اسی طرح کبھی مظلوموں کا دن بھی منانا چاہئے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ دو دن ایک ہی دن منائے جا سکتے ہیں۔