آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کے پی کے میں سرکاری اسکولوں کے 73سے77 فی صد بچے میٹرک سے قبل ہی اسکول چھوڑنے پر مجبور

کسی بھی مُلک کی ترقّی کاجائزہ لینا ہو، تو اُس کی شرحِ خواندگی دیکھنی چاہیےاوراِسی بنا پر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ملک و قوم کس قدرترقّی یافتہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ترقّی یافتہ ممالک کی شرحِ خواندگی نہ صرف بہت بلند ہےبلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اپنےنظامِ تعلیم اور نصاب کوبہتر سے بہتربنانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں۔اُن ممالک میںماہرینِ تعلیم کی ایک ٹیم نصاب کا جائزہ لیتی اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بالخصوص اسکولوں میں جدید نصاب پڑھایا جائےاوریہ صورتِ حال صرف ترقّی یافتہ ممالک ہی کی نہیں بلکہ آج پڑوسی ملک بھارت سمیت کئی ترقّی پزیر ممالک میں بھی شعبۂ تعلیم، حکومتوں کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہوچکاہے، کیوں کہ ذی شعور اقوام جان گئی ہیں کہ تعمیر و ترقّی کا رازصرف اور صرف علم میں پنہاں ہے۔ اس ضمن میں اگروطنِ عزیز کی بات کی جائے، تویہاں معیار ِ تعلیم بہتربنانےاور نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے نا م پر محض دو، چار مضامین کی درجہ بندی آگے پیچھے کرنےیاسرورق تبدیل کرنے ہی کو معیارِ تعلیم تسلیم کرلیا گیا ہے۔پاکستان کو آزاد ہوئے سات دَہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن شعبۂ تعلیم میں کوئی بہتری آنے کے بہ جائےمسلسل ابتری و تنزّلی ہی آرہی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ یہاںتعلیمی نظام یا نصاب کے حوالے سے بات نہیں کی جاتی ،پچھلے کئی عشروں میں بہت سی تعلیمی پالیسیاں مرتّب کی گئیں۔ متعدد کانفرنسز ، سیمینارز کا بھی اہتمام کیا گیا،مگر ان سب کے باوجود تعلیمی نظام صرف پالیسیوں اور کاغذوں ہی کی حد تک اَپ ڈیٹ ہوسکاہے ،جو باعثِ تشویش ہے۔اگرصرف واجبی خواندہ افرادہی کو ،( جو اپنا نام لکھنا ،پڑھنا جانتے ہیں)خواندہ تسلیم کر کےاعداد و شمار مرتّب کیے جائیں، تو بھی یہ شرح 50 فی صد سے اوپر نہیں جاتی۔پھرہمارا ملک نہ صرف شرحِ خواندگی کے لحاظ سے کئی ممالک سے پیچھے ہےبلکہ یہاں دُہرا تعلیمی نظام بھی رائج ہے، جسے یک ساں کرنے کےبھی صرف دعوےہی کیے جاتے ہیں۔ عملی طور پرکچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔تعلیمی سہولتوںکا فقدان ایک الگ سنجیدہ مسئلہ ہے، جس پر ہر سال اربوں روپے خرچ کرنے کی باتیں تو ہوتی ہیں ،لیکن اب بھی سیکڑوں اسکول بنیادی سہولتوں تک سے عاری ہیں۔معیار ِ تعلیم کی با ت کی جائے، توسرکاری اسکولوں کی حالت اس قدرابتر ہے کہ متوسّط اور غریب طبقے کے لوگ بھی اپنے بچّوں کو نجی اسکولوں ہی میں پڑھانےکو ترجیح دیتے ہیں۔’’؎وقت کرتا ہے پرورش برسوں…حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘‘ کے مصداق ہمارا معیار ِ تعلیم بھی اچانک اس قدربدتر نہیں ہوا بلکہ مختلف حکومتوں کی بے پروائی اور عدم توجّہی کے باعث یہ اس نہج تک پہنچا ہے۔اس روز بہ روز گرتے ہوئے تعلیمی معیار میں کئی عوامل کارفرما ہیں، جن پر بہت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

2018 ء میں اسپیکٹیٹر انڈیکس(SPECTATOR INDEX )نامی ایک عالمی ادارے نے137ممالک میں معیار ِ تعلیم کے حوالے سے ایک مفصّل و جامع رپورٹ جاری کی، جس میں مختلف ممالک کے تعلیمی معیار کو جانچ کراُن کی درجہ بندی کی گئی ، جس کے مطابق سویٹزرلینڈ پہلے،سنگاپور دوسرے ،فِن لینڈ تیسرے،ہالینڈ چوتھے ،امریکا پانچویں ،قطر چھٹے،کینیڈا ساتویں،نیوزی لینڈ آٹھویں ،متحدہ عرب امارات نویں اورڈنمارک دسویں پر ہے۔قابلِ توجّہ امر یہ ہے کہ مذکورہ فہرست میں پاکستان 94ویں اور پڑوسی ملک بھارت 34 ویں پوزیشن پر ہیں۔

مشاہدے میں ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپنےانتخابی منشور میں’’معیاری تعلیم کی فراہمی‘‘کا نعرہ سرِفہرست تورکھتی ہیں، لیکن حکومت سازی کے بعداِسی شعبے کو نظر انداز کردیا جاتا ہےاورانتخابات سے قبل اور بعد کی ترجیحات میں اسی تبدیلی کوپاکستان میں تعلیمی پس ماندگی کی بڑی وجہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ہر مرتبہ عام انتخابات سے قبل تحریکِ انصاف ، مسلم لیگ (نون) اور پیپلزپارٹی سمیت تمام بڑی،چھوٹی سیاسی جماعتوںنے عوام کو سبز باغ دکھائے ،لیکن کوئی بھی جماعت اپنے منشور پر مکمل طور پر عمل پیرا نہ ہوئی ۔ 2013ء کے عام انتخابات میں جب پہلی مرتبہ تحریک ِانصاف کو خیبر پختون خوا کی حکومت سنبھالنے کا موقع ملا، تو صوبے میں یک ساں نظامِ تعلیم اور نصاب نا فذ کر نے کا دعویٰ کیا گیاتھا،لیکن پچھلے چھے برسوں کے دَوران تعلیم کے معیار میںکوئی نمایاں تبدیلی نہیں لا ئی جا سکی۔ البتہ، ا سکولوں کے انفراسٹرکچر میںکسی حد تک ضروربہتری آئی ہےاوراساتذہ کی کمی پوری کرنے کے ساتھ اُن کی حاضری کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تاہم، اب بھی کئی ا سکولوں میں بجلی، پانی ،بیت الخلاء اور چاردیواری کے مسائل بدستور موجود ہیں۔صوبے کے 26فی صد سرکاری اسکو ل بجلی کی سہولت،18فی صد پینے کے صاف پانی ، 8فی صد بیت الخلاء اور 8ہی فی صد چاردیواری سے محروم ہیں۔ اسکولوں میں فرنیچر اور کلاس رومز کی تعداد میں کمی ایک الگ مسئلہ ہے،لیکن صوبے میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بچّوں کا ’’ڈراپ آئوٹ‘‘ بن رہاہے، جس پر کوئی توجّہ نہیں دی جارہی ۔ حکومتی سطح پر شرحِ خواندگی کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک میں 58فی صدافراد خواندہ ہیں، جن میں 30فی صد مرد اور 48فی صد خواتین شامل ہیںاورخواندہ افراد کی شرح میں ہرسال کچھ نہ کچھ اضافہ بھی دکھایا جاتا ہے۔ اسی قسم کا دعویٰ اسکولوں میں داخلوں کے حوالے سے بھی کیا جاتا ہے ۔ہر صوبہ رجسٹریشن مہم کی تشہیر کرتا اور پھر داخلوں کے حوالے سےبڑے بڑے اعدادوشمار پیش کرتا ہے۔خیبرپختون خوا کی بھی یہی صور تِ حال ہے،موجودہ اور سابقہ تمام حکومتوں نے تعلیمی انقلاب اور بہتری کےبلند بانگ دعوے کیے، لیکن اعداد و شمار نےتمام حکومتوں کے دعووں کے پول کھول کےرکھ دیئےہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ،کے پی کےمیں 88فی صدبچّوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کیا جاتا ہے ،جس کے لیے محکمۂ تعلیم، حکومت کے ساتھ مل کر کوششیں کرتا ہے، میڈیا کے ذریعے اشتہاری مہمات بھی چلائی جا تی ہیں،تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ بچّوں کوا سکول میں داخل کروائیں۔بچّوں کی اکثریت کچّی (نرسری) اورپکّی( پہلی) جماعت میں داخل ہوتی ہے، جس کے بعد پرائمری سطح پر رجسٹریشن کے بلندبانگ دعوے کیے جاتے ہیں،لیکن آج تک کوئی بھی حکومت پرائمری کی انرولمنٹ کو سیکنڈری اسکولز تک برقرار رکھنے میں کام یاب نہیں ہوسکی ۔ ہرسال اگلی کلاسز میں بچّوں کی تعداد میں مسلسل کمی آتی جا رہی ہے۔صوبے میںہائی اسکولزکی کمی ،غیر معیاری تعلیم ، ناقص امتحانی نظام ونتائج اورمعاشی و معاشرتی مسائل کےباعث 73 سے 77 فی صد بچّے پرائمری تعلیم کے بعدسرکاری اسکول چھوڑ نے پر مجبور ہیں۔ سرکاری اسکولوں کے صرف23 سے 27فی صدبچّے میٹرک تک تعلیم حاصل کرپاتے ہیں۔متوسّط طبقے کے طلبہ کی اکثریت نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ لیتی ہے، جب کہ غریب والدین کے بچّے اپنی تعلیم ادھوری چھو ڑکر’’ چائلڈ لیبر‘‘ کا حصّہ بن جاتے یا گھروں تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔سرکاری اسکولز میں پرائمری کی سطح پر بچّوں کی رجسٹریشن/ انرولمنٹ 63فی صد، جب کہ ہائی اسکولز میں صرف 35فی صد رہ گئی ہے، حالاںکہ نجی اسکولوں میں پرائمری کی سطح پر انرولمنٹ 33فی صداور ہائی اسکول میں بڑھ کر 65فی صد ہو جاتا ہے ۔ خیبر پختون خوا میں آج بھی18,00560بچّے کبھی کسی اسکول میں داخل ہی نہیں ہوئے۔آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت پانچ سے سولہ برس کے تمام بچّوں کو مفت اورلازمی تعلیم دلوانا ریاست کی ذمّے داری ہے، لیکن تمام ہی حکومتیں اس میں ناکام رہی ہیںاور بچّوں کا نام اسکول سے خارج کروانے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 2006-7 ء میں 7,05542بچّوں کو کِنڈر گارٹن (کے-جی) میں داخل کروایا گیا، 2011-12ء میں صرف 3,81281بچّے ہی پانچویں جماعت تک پہنچ سکے، جب کہ 2,23,529طلبہ نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور2016-17ء میں صرف174334بچّے دسویں جماعت تک پہنچے ۔یوں مجموعی طورپر23فی صدبچّوں نے سرکاری اسکولوں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور 5,44024بچّوں نے میٹرک سے قبل ہی اسکول کو خیرباد کہہ دیا ۔ایلمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے مطابق 2007-8ء میں 6,68335 بچّوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں کی نرسری میں ہوا،جن کی تعداد پانچویں جماعت میں3,70619اورمیٹرک تک پہنچتے پہنچتے یہ تعدادمزید کم ہوکر صرف 25فی صدیعنی1,69782رہ گئی ۔ خیبر پختون خوا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 64.59 فی صدطلباء اور 46فی صد طالبات پرائمری تک تعلیم حاصل کرتی ہیں، جب کہ انضمام شدہ قبائلی علاقوں میں صرف24.33فیصد طلبا اور19فی صد طالبات پرائمری تک تعلیم حاصل کرتی ہیں،یہ تعداد ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے مزید کم ہوجاتی ہے ۔ دستاویزات کے مطابق 2012-13 ء میں پانچویں جماعت میں 3,70619 بچّوں نے داخلہ لیا، جن میں سے 2,97646طلبہ چھٹی جماعت، 2,60968 طلبہ ساتویں جماعت، 2,38597بچّے آٹھویں جماعت، 1,96029طلبہ نویں جماعت اور صرف 1,69782طلبہ میٹرک تک پہنچ سکے۔یوں صرف پانچویں سے دسویں جماعت کے دَوران سرکاری اسکولوں سے 2,00837 طلبہ ڈراپ آئوٹ ہوگئے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق خیبر پختون خوا میں مجموعی طور پر21,179پرائمری اسکولز قائم ہیں، جن میں12,593طلباکے لیے اور8,586طالبات کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں، لیکن حیرت انگیز طورپرصوبے میں ہائی اسکولوں کی تعدادصرف 2,242ہے، جن میں طالبات کے 812اور طلبا کے 1430اسکول شامل ہیں۔ اسی طرح ہائیر سیکنڈری اسکولوں کی تعداد صرف 647ہے ،جن میں طلبا کے لیے413اور طالبات کے لیے 234اسکولز ہیں۔ کے پی کے میں 791مکتب ا سکول اور255کمیونٹی اسکول بھی کام کر رہے ہیں۔ صوبے میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار اساتذہ اور تقریباً ایک لاکھ دیگر اسٹاف کام کر تا ہے۔ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری کی سطح پر146ارب روپے (مجموعی بجٹ کا23فی صد)خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اور اس رقم کا بھی زیادہ حصہ اساتذہ کی تنخواہوں کی مَد میں خرچ ہوجاتا ہے۔  

’’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ‘‘کے تحت بھی طلبہ کو میٹرک تک مفت تعلیم دی جائے گی ،ضیا ء اللہ بنگش

وزیرِاعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ،ضیا ءاللہ بنگش کا کہنا ہے کہ اسکولز سےبچّوں کا ڈراپ آئوٹ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے ،جسے حل کرنے کے لیےہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔پہلے مرحلے میں سرکاری پرائمری اسکولزکو شام کے اوقات میں ہائی اسکولز میں تبدیل کر دیا جائے گا، جب کہ مِڈل اسکولز بھی ہائی اسکولز بنا دئیے جائیں گے۔دوسرے مرحلے میں جن علاقوں میں پرائمری اسکولز کم ہیں، وہاں کرائے پر عمارتیں لی جا رہی ہیں، تاکہ چَھٹی جماعت کے بعد طلبہ اپنے ہی علاقے میں ہائی اسکول کی تعلیم بھی بآسانی حاصل کرسکیں۔تیسرا اور بڑا اقدام ، ’’پبلک ،پرائیویٹ پارٹنر شپ‘‘ ہے۔جس کے تحت چَھٹی سے دسویں جماعت کے طلبہ کو نجی اسکولز میں داخل کروایا جائے گا، جہاں اسکول کے تمام اخراجات بہ شمول فِیس حکومت ادا کرے گی۔ چوں کہ فوری طور پر بڑی تعداد میںہائی اسکولز تعمیر کرنا ممکن نہیں، اس لیے اِن تینوں اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپریل سے ’’سالانہ انرولمنٹ مہم‘‘ کا آغاز کیا جا رہا ہے اور اس مرتبہ ہماری بھرپور توجّہ ہائی اسکولز میں بچّوں کا ڈراپ آئوٹ ختم کرنے پر مرکوز ہے۔در اصل ماضی میںمناسب منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث یہ مسائل پیدا ہوئے۔اگر پرائمری اسکولز کے ساتھ ہائی اسکولز بھی تعمیر کیے جاتے،تو بچّوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ میرے اپنے بچّے بھی سرکاری اسکول میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ہم سرکاری اسکولز کا معیارِ تعلیم بہتر کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

 اکثریت معاشرتی و معاشی مجبوریوں کی بناپر تعلیم ادھوری چھو ڑتی ہے، تدارک کے لیے حکومت سنجیدگی سے کام کررہی ہے،شوکت یوسف زئی

صوبائی وزیر ِ صحت واطلاعات، خیبر پختون خوا، شوکت یوسف زئی نے اعتراف کیا کہ پرائمری کے بعد بچّوں کی اکثریت معاشی و معاشرتی مجبوریوں اور دیگروجوہ کی بناپر تعلیم ادھوری چھو ڑدیتی ہے، جس کے تدارک کے لیے حکومت سنجیدگی سے کام کررہی ہے، تاکہ بچّےکم ازکم میٹرک تک تومفت تعلیم حاصل کرسکیں ۔انہوں نے کہا کہ والدین کی عدم دل چسپی کی وجہ سے بھی یہ معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔بچّوں کو والدین خود ہی ’’چائلڈ لیبر‘‘بناتے ہیں، حالاں کہ حکومت بچّوں کو مفت تعلیم دے رہی ہے ۔جن علاقوں میں مِڈل یا ہائی اسکول موجود نہیں ، وہاں کرائے کی عمارتوں میں اسکولوں کا بندوبست کیا جارہا ہے،تاکہ بچّوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر سےدُورنہ جانا پڑے۔انہوں نے کہا کہ میرا تعلق شانگلہ سے ہے، جو کافی پس ماندہ ضلع ہے ۔وہاں والدین ،بچّوں کواسکول بھیجنے کے بہ جائے روزگار کمانےپر لگا دیتے ہیں ۔شانگلہ کے اکثر نوجوان، بلوچستا ن میں کان کنی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ حالاں کہ اس کام میں اُن کی جان تک چلی جاتی ہے ۔در اصل ماضی میں سرکاری اسکولوں پر توجّہ نہیں دی گئی، جس کے باعث عوام کا ان سے اعتماد اُٹھ چکا ہےاور اسی بنا پر لوگ نجی اسکولوں کا رُخ کرتے ہیں۔ تحریکِ انصاف حکومت نے اسکولز کی کمی کو پورا کیا ہے بلکہ اسکولوں میں سہولتیں مہیّا کرنے کے لیے اربوں روپے کے فنڈز بھی خرچ کیے ہیں ۔ سرکاری اسکولوں میں معیارِ تعلیم بہتر کرنے سے لوگوں کا اعتماد بحال ہو گا اوروہ اپنے بچّوں کو وہاں داخل کروائیں گے۔متوسّط اور امیر گھرانوں کےافراد اپنے بچّوںکو پرائیویٹ اسکولز ہی میںپڑھانا پسند کرتے ہیں،لیکن اب حکومت سرکاری اسکولوں میں شام کے اوقات میں ہائی کلاسز شروع کرنے کا بندوبست بھی کررہی ہے، تاکہ ہائی اسکولزکی کمی کا مسئلہ حل ہوسکے ۔اسکولز سے بچّوں کےڈراپ آؤٹ کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مانیٹرنگ کا ایک نیانظام وضع کیا جارہا ہے، تاکہ بچّوں کے ڈراپ آؤٹ کا تعیّن کرکے وجوہ پر قابو پایا جاسکے ۔ وزیر ِ اعظم عمران خان نے سڑکوں اور پُلوں کے بہ جائے عوام پر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس میں تعلیم کی فراہمی ہماری اوّلین ترجیح ہے۔ اسی لیے حکومت سالانہ بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیےزیادہ فنڈز مختص کررہی ہے ۔ہم توسابقہ حکومتوں کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور اس پورے نظام کو ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا۔ تاہم، عوام کو بہت جلد’’ تبدیلی ‘‘کا احساس ہوگا ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں