آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

متوسط طبقے کے والدین کے لیے بیٹی کی شادی پر اُٹھنے والے اخراجات برداشت کرنا بے حد مشکل کام ہے۔ عام طور پر ہمارے یہاں والدین بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کے جہیز کا سوچ کر چھوٹی موٹی چیزیں خریدنا اور جمع کرنا شروع کردیتے ہیں تاکہ عین شادی کے موقع پر بھاری بھر کم اخراجات سے محفوظ رہا جاسکے۔ لیکن اس کے باوجود شادی کے دن نزدیک آتے ہی بے تحاشا خرچوں کی بھرمار شروع ہوجاتی ہے۔ ان خرچوں کو مینیج کرنا کسی کے لیے بھی کوئی آسان کام نہیں ہوتا کیونکہ شادی کا کھانا، ہال اور دیگر خریداری جلد ہی بجٹ سے باہر ہوجاتی ہیں۔ شادی کے اخراجات مینیج کرنے سے متعلق ماہرین کی آراء ہم اپنے قارئین سےشیئر کرنے جارہے ہیں، جو شادی کے دوران بجٹ کنٹرول کرنے میں مفید ومددگار ثابت ہوتے ہیں۔

شادی کیلئے دن کا انتخاب

شادی کےلیے مناسب دن کا انتخاب آپ کا بجٹ آؤٹ آف کنٹرول نہیں ہونے دے گا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ شادی کے اخراجات کے دوران آپ کا بجٹ کنٹرول میں رہے تو اس کا آغاز شادی کے دن کے بہتر انتخاب سے کریں۔ اس سلسلے میں ماہرین دو آسان طریقوں پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، جو آپ کے ہزاروں روپے بچا سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پہلا طریقہ یہ کہ شادی کی تاریخ ستمبر کے مہینے میں طے کی جائے، ماہ ستمبر کو ماہرین شادیوں کے لیے بہترین مہینہ قرار دیتے ہیں۔ دوسرا فیصلہ یہ کہ شادی کی تقریب جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے بجائے شروع کے چار روز میں رکھی جائے۔

غیر روایتی تقاریب

اگر شادی کی تقاریب کی جانب غور کیا جائے تو عام طور ہمارے یہاں لڑکے کا مایوں علیحدہ اور لڑکی کا علیحدہ کیا جاتا ہےجبکہ نکاح، شادی اور ولیمے کی تقاریب اس کے علاوہ ہیں۔ تاہم ماہرین کی رائے کے مطابق اگر آپ شادی کے اضافی اور بے جا اخراجات کو کنٹرول کرناچاہتے ہیں تو شادی کی تمام تر تقاریب دولہا دلہن کے گھروالے مل کر منعقد کریں ۔ اسی طرح منگنی کی علیحدہ علیحدہ رسوم میں یہ طریقہ کار آپ کے ہزاروں روپے بچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

تحائف کے بجائے نقد رقم

اگرچہ بھاری بھر کم ڈیکوریشن، انواع و اقسام کے کھانے وغیرہ کو شادی کی تقریبا ت میں سے ختم کرکے پیسوں کی بچت کی جاسکتی ہے لیکن آج کے مسابقتی دور میں ان ضروری لوازمات کو دور کرنا خاصا مشکل لگتا ہے۔ چنانچہ اس صورتحال میں تحائف دینے کے بجائے اگر مہمانوں کی جانب سے نقد رقم دی جائے تو ان کی بہت سی مشکلات دور کرسکتی ہے۔ عام طور پر یہ فرض رشتہ داروں کا ہے کہ وہ شادی والے دن تحائف کے بجائے رقم بطور تحفہ دیں کیونکہ یہ رقم شادی والے گھر میں کام آسکتی ہے۔ دوسری جانب اگر رشتے دار تحائف دینا چاہتے ہیں تو لڑکے یا لڑکی کے والدین سے مشاورت کرلیں تو یہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رشتہ داروں سے لی گئی مدد بھی آپ کے بے حد کام آسکتی ہے، آپ ان کی خدمات بطور میک اَپ آرٹسٹ، فوٹوگرافر، ہیئر اسٹائلسٹ، گرافک ڈیزائنز لے سکتے ہیں۔ اس کے لیے ان دوستوں یا رشتہ داروں کو تلاش کریں، جو آپ کی شادی کے اخراجات کم کرنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔

ایڈوانس بکنگ

شادی کے کسی بھی فنکشن کا وینیو ہو، کھانے کا آرڈر دینا ہو یا پھر میک اَپ آرٹسٹ اور ہیئر اسٹائلسٹ کی بکنگ کا معاملہ ہو، تمام مراحل ایڈوانس بکنگ کی صورت آسان بنائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً شادی سے تقریباً 6 ماہ قبل اگر ہال کی بکنگ کروالی جائے تو ہزاروں روپے کی بچت کی جاسکتی ہے، یہ بکنگ عین شادی کے دنوں کی بھاگ دوڑ اور اضافی اخراجات دونوں سے ہی نجات دلائے گی۔

مہمانوں کی فہرست

ماہرین کے مطابق، شادی میں شرکت کرنے والےمہمانوں کی فہرست بناتے وقت حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں، مثلاًجو دوست احباب گزشتہ 12ماہ سے آپ سے رابطے میں نہیں، انہیں مدعو کرنے سے پہلے خاندان اور دوستوں میں ان معزز افراد کو دعوت نامہ ارسال کریں جو زیادہ ضروری ہیں، اس کے بعد اگر گنجائش ہو تو آپ دیگر کو بھی مدعو کرسکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں