آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 گلاب علی سہتو، ٹھری میر واہ

سندھ کے دیگر علاقوں کی طرح ٹھری میرواہ میں بھی قبائلی تنازعات کی وجہ سے امن و امان کی صورت حال ابتر ہوتی جارہی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہورہا ہے جیسے یہ شہر بھی ہمیشہ میدان جنگ بنا رہے گا۔

سندھ کی وادی اپنی منفرد تہذیب و ثقافت کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے لیکن اب قبائل کے درمیان لڑائیاں صوبہ سندھ کی ثقافت کا بدنما حصہ بنتی جارہی ہیں ۔ جہاں ان قبائلی تنازعات مختلف علاقوں میں ، سینکڑوں معصوم انسانوں جانیں موت کی بھینٹ چڑھی ہیں،وہیں ان علاقوں میں لوگوں کے کاروبار اور بچوں کی تعلیم بھی سخت متاثر ہورہی ہے۔ان شہروں میں رہنے والے باشعور لوگوں کا کہنا ہے کہ قبائلی لوگ چھوٹی چھوٹی بات کو اپنی عزت، غیرت اور انا کا مسئلہ بنانے میں معروف ہیں جس کی پاداش میں کسی بھی انسان کو زندگی سے محروم کرنا، ان کے لیےبڑی بات نہیں ہے۔ضلع شکارپور میں مہر اور جتوئی قبائل نبرد آزما ہیں جب کہ اسی ،شکارپور میں آٹھ برس کےعرصہ میںعیسانی اور جکھرانی قبائل کے درمیان تصادم میں درجنوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ ضلع خیرپور میں سولنگی اور جاگیرانی قبائل ،ضلع جیکب آباد میں جکھرانی اور بھیو کے درمیاں دشمنی کا سلسلہ کئی عشرے پر محیط ہے۔جیکب آباد میں ہی ، چاچڑ اور سبزوئی قبائل کے درمیان اٹھارہ برس قبل ایک بیل کی چوری سے شروع ہونے والا خونی تنازعہ آج تک انسانی جانوں کی بھینٹ لیتا رہتا ہےاوردونوں قبائل کے مسلح افراداپنے اپنے گاؤں میں مورچہ بند رہتے ہیں۔جیکب آباد کی تحصیل کندھ کوٹ میں واقع کئی گاؤں ایک دوسرے کے قبیلے کے لوگوں کے لیے’’نوگوایریا‘‘ بنے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دادو میں اگر چانڈیو قبیلہ برسرپیکار ہے تو خیرپورمیں اوڑھ، الرا، سولنگی، جاگیرانی،اجن،کلیری،جتوئی، لورائی اور چاچڑ قبائل نے جنگ وجدل کو تفریحی مشغلہ بنارکھا ہے

ٹھری میرواہ کا شہر،ضلع خیرپور میں واقع ہےجوانتظامی اعتبار سے ضلع خیرپور سندھ کی ایک تحصیل ہے۔ضلع خیرپور کے میرواہ تعلقہ اور میرواہ سب ڈویژن کا صدر مقام ہے۔ ٹھری میرواہ ضلع خیرپور کے قديم شہروں میں سے ایک ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ٹھری میرواہ کچھ دکانوں پر مشتمل ایک چھوٹا ساکاروباری مرکز تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی وسعت میںا ضافہ ہوتا گیااور اب یہ ایک گنجان آبادی والا شہر ہے۔

اس شہر میں بھی بہت سی برادرياں رہائش پذیر ہیں جن میں جوگی،بانبھن،شر،انصاری،کبر،ويسر،مانڈن،راجپجوگی، شرر، بھٹی، ڈہر،سولنگی،جلبانی،لغاری،شينا(پنجابی)،دشتی،راجپوت هندو، راجڑ، پرہياڑ، گوپانگ وغیرہ شامل ہیں جو عرصہ دراز سے باہمی مل جل کر رہ رہے تھے لیکن اب یہاں بھی صورت حال مخدوش ہوتی جارہی ہے اور قبائلی تنازعات کا سلسلہ سر اٹھانے لگا ہے۔ حال ہی میںگوپانگ برادری کے دو گروہوں میں پرانی دشمنی کے سبب ہونے والےتصادم کے دوران فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ۔شدید فائرنگ کی وجہ سےپورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹھری میرواہ تحصیل بھر میں امن امان کی صورتحال ایک بار پھر خراب ہونے لگی پولیس متحارب قبائل کے درمیان مصالحت کرانے اورعلاقے میںامن امان بحال کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ قبائلی تنازعات ایک مرتبہ پھر شروع ہونے لگے ہیں۔ ٹھری میرواہ کےعلاقے پولیس اسٹیشن بوزداروڈا تھانے کی حدود میں واقع گائوں ہاشم گو پانگ میں ایک بار پھر امن امان کی صورتحال خراب ہو گئی ہے گوپانگ برادری کے دو گروہوں میں پرانی دشمنی کی بنا پر تصادم کے نتیجے میں ایک شخص نذیر گوپانگ ہلاک ہوگیا ۔مسلح افراد نے دن دھاڑے گھرکے اندر گھس کر کر ایک شخص نذیر احمد گوپانگ کوہلاک کردیا، جس کے بعد علاقے میں زبردست فائرنگ شروع ہوگئی جس کے باعث پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقتول کے ورثاء نے لاش کے ہمراہ ٹھری میرواہ ٹو بوزداروڈا لنک روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئےدھرنا دیا اور شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے برادری کے سرکردہ افراد نے کہا کہ نذیر گوپانگ کو بے گناہ قتل کیا گیا ہے اور پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہی ہیں ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے ۔مقتول کے بھائی ظہیر احمد سلیمان گوپانگ اور دیگر کا کہنا تھا کہ پرانی دشمنی کی بنا پر ملزمان نے فائرنگ کرکے ہمارے بندے کو قتل کیا ہے ۔ پولیس کو ہم نے بروقت اطلاع دی مگروہ جائےوقوعہ پر نہ پہنچ سکی اور ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ جب تک مقدمہ درج نہیں ہوتا اور ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا تو احتجاج جاری رہے گا۔ پولیس کی یقین دہانی پر مقتول کے ورثاء نے احتجاجی دھرنا ختم کیا۔ پولیس نے لاش، ٹھری میرواہ اسپتال سے پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد ورثاء کے حوالے کردی ۔قبائلی تنازعے میں قتل کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی ہے۔مقتول کی لاش کو اس کے آبائی قبرستان میں پولیس کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا ۔بوزداروڈا تھانے پر مقتول کی بیوی کیمدعیت میں سیکشن 302۔2019 کے تحت بارہ ملزمان غوث بخش،محمد اعظم، دلیل، تیمور، سکندر، ممتاز، امیر، غلام مصطفی ، غلام حیدر، غلام اصغر ، ارشاد،بنک گوپانگ پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ۔ ہاشم گوپانگ گاؤں میں خونی تصادم کی وجہ سے علاقے میں خوف وہراس پھیلا ہوا ہے: لوگ انے گھروں میں محبوس ہوگئے ہیں

پولیس کااس سلسلے میں کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں، لیکن بعض ذرائع کے مطابق واقعے میںملوث ملزمان اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہم نے علاقے میں امن امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے پولیس چوکی بھی قائم کردی ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ قبائلی تنازع میں قتل ہونے والا شخص نذیر گوپانگ علاقے کا بدنام ڈاکو تھا جو قتل، ڈکیتی، لوٹ مار کے کئی مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں