آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 19؍ صفرالمظفّر 1441ھ 19؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایسی کوئی وجہ نہیں کہ شنگھائی پاور سے معاہدہ نہ ہوسکے، مونس علوی

کراچی ( طاہر عزیز / اسٹا ف رپورٹر) کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مونس علوی نے کہا ہے کہ شنگھائی الیکٹرک پاور نے کے الیکٹرک کے 66.4؍ فیصد شیئر ز خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ 1.77؍ ارب ڈالرز مالیت کی خرید و فروخت کایہ معاہدہ انجام پانے کی صورت میںپاکستان میں نجی سیکٹر میں ہونے والا سب سے بڑا معاہدہ ہوگا، اگرحکومت کراچی کی ترقی اور قومی معیشت کو منفی اثرات سے بچانا چاہتی ہے تووہ تمام رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرے۔ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کو حتمی شکل دینے اور بعد ازاں شنگھائی الیکٹرک سے معاہدے میں تاخیر کی وجہ سے کراچی میں بجلی کی صورتحال پہلے ہی متاثر ہوچکی ہے۔ پاکستان میںسرمایہ کاری کے ماحول کیلئے یہ معاہد ہ گیم چینجر ثابت ہوگایا نہیں۔ اس حوالے سے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مونس علوی کاکہنا ہے کہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ طے نہ پاسکے کیوں کہ شنگھائی الیکٹرک پاور نے پچھلے 27ماہ سے اب تک کے الیکٹرک کو خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حل طلب ادائیگیوں کے مسائل اورکے الیکٹرک کی کلیئرنس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کے الیکٹرک اوروفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان حل طلب ادائیگیوں کے معاملے کو عام

آدمی کی جانب سے ہمیشہ ہی غلط طریقے سے سمجھا گیا لیکن یہ ایک پیچیدہ اور غیر متعلقہ معاملہ ہے جسے ایک دوسرے سے منسلک نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان اور اس کے اداروں پرلگ بھگ 70ارب کے قرضے کے الیکٹرک کو واجب الادا ہیں۔ ہمارا صرف یہ کہنا ہے کہ سوئی سدرن گیس کے قرضوں کوعلیحدہ نہیں دیکھا جاسکتا۔ حکومتی اداروں کے واجبات جو کے الیکٹرک کو واجب الادا ہیں ان کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ مونس علوی کاکہنا ہے کہ شنگھائی الیکٹرک کہ معاہدے کی تین بار تجدید کرچکا ہے۔ کے الیکٹرک کو خریدنے میں شنگھائی الیکٹرک پاور کی دلچسپی اب بھی برقرار ہے۔ حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والے مسلسل ملاقاتوں میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ گردشی قرضوں کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائیگا۔ کے الیکٹرک کی پوزیشن اس وقت بالکل ایسی ہی ہے جیسی شائع ہونے والے مالیاتی گوشوارے میں ظاہر کی گئی اور مطلوبہ تقاضوں کے تحت شنگھائی الیکٹرک پاور( (SEPکی جانب سے باضابطہ اس کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ کراچی میں لوڈشیڈنگ کب اور کیسے ختم ہوگی کیاکراچی کے عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نکل سکیں گے کاجواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 2009ء میں ابراج کی جانب سے کے ا لیکٹرک کی ہولڈنگ کمپنی KES Powerکا انتظامی کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاور یوٹیلٹی کی جانب سے خدمات کی بہتر فراہمی کے لیے اب تک 2ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔اس سے ادارے کی پیداواری صلاحیت میں1057؍ میگا واٹ کا اضافہ ہو ا، ترسیل و تقسیم کی صلاحیت میں بالترتیب 29اور 63فیصد اضافہ ہوا جبکہ نقصانات میں بھی 20فیصد تک کمی آئی۔ان اقدامات کے نتیجے میں اہم تنصیبات سمیت کراچی کا 70فیصد علاقہ لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ ہوچکا ہے۔ اس سوال پر کہ شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ کئے جانے والے معاہدہ میں کیا اہم نکات ہیں کے جواب میں مونس علوی نے کہاکہ حکومت پاکستان بخوبی اس بات سے آگا ہ ہے کہ یہ معاہدہ کتنا اہم ہے۔ یہ پاکستانی معیشت کی تاریخ میں نجی سیکٹر میں ہونے والا سب سے بڑا خرید و فروخت کا معاہد ہ ہے جبکہ یہ پاکستان میں بڑی بین الاقوامی کمپنی کی جانب سے ہونے والی چند نجی سرمایہ کاری میں سے بھی ایک ہے ۔انھوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کراچی کے بجلی انفرااسٹرکچر کو مزیدبہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے جبکہ کے الیکٹرک منافع پرڈیوڈنڈ ادا کرنے کے بجائے اسے دوبارہ سے کاروبار پر لگا رہا ہے۔ کیاکے الیکٹرک کراچی کو بجلی فراہم کرنے میں خودکفیل ہوجائے گا کے جواب میں مونس علوی نے کہا کہ اگر میٹرو پولیٹن سٹی کراچی کو بجلی کے حوالے سے خود کفیل بنانا ہے تو اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرور ت ہے۔ اسی وجہ سے شنگھائی الیکٹرک سے خرید و فروخت کا معاہدہ طے پارہا ہے اور رپورٹس کے مطابق یہ ادارہ یہاں9ا رب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کریگا جس سے بجلی کی پیداوار ،ترسیل اور تقسیم کی صلاحیت میں مزید بہتری آئیگی۔ انھوں نے کہا کہ شنگھائی الیکٹرک کو اس طرح کے کاموں کا تجربہ ہے اوروہ اس شعبے میں مہارت رکھتے ہیں جس کے سبب 10سالوں میں شنگھائی میں 3ہزار میگا واٹ سے 30ہزار میگا واٹ تک بجلی کی پیدا وار بڑھائی گئی۔ اگر اتنے اچھے موقع کو گنوا دیا گیا تو یہ کراچی کے لیے بہت المناک ہوگا ۔ابراج پر لگائے جانے والے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک ایک خود مختار لسٹڈ کمپنی ہے جسے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نگرانی میں چلایا جاتا ہے اور یہ لوگ کمپنی کے شیئر ہولڈرز کو جوابدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ابراج کے ناقدین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ابراج کو درپیش حالیہ مسائل سے قطع نظر کے الیکٹرک ابراج کی نمایاں کامیابی کی داستان ہے۔ مونس علوی نے کہاکہ اگرحکومت کراچی کی ترقی اور قومی معیشت کو منفی اثرات سے بچانا چاہتی ہے تووہ تمام رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرے۔ کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کو حتمی شکل دینے اور بعد ازاں شنگھائی الیکٹرک سے معاہدے میں تاخیر کی وجہ سے کراچی میں بجلی کی صورتحال پہلے ہی متاثر ہوچکی ہے۔ اسی سبب کے الیکٹرک کے کئی پیداواری منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے۔بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے2019کے لیے 900میگا واٹ پاور پلانٹ کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا تھا۔تاہم کے الیکٹرک نے حکومت کو مطلع کردیا ہے کہ 2019کے موسم گرما میں 600میگا واٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہوگا۔اس شارٹ فال پر قابو پانے کے لیے ہم تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگرشنگھائی کو کے الیکٹرک کے مجوزہ حصول میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد کم ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی کی صنعتی اور تجارتی صلاحیت بری طرح متاثر ہوگی۔کے الیکٹرک کسی کی بھی ملکیت میں ہویہ ادارہ کراچی میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پُرعزم ہے اورہمیشہ رہیگا ۔ سی ای اونے کہاکہ وقت کا تقاضہ ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ معاہدہ مزید کسی تاخیر کے بغیر بخوبی انجام پاجائے۔ مونس علوی کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اس معاہدے کی صورت میں آنے والی سرمایہ کاری سے پاکستان میں توانائی کا شعبہ مضبوط ہوگا۔ حکومت یہ بات بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ شنگھائی سے خرید و فروخت کا معاہدہ نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی ترقی کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

ملک بھر سے سے مزید