آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈلی اسمتھ نے سمندر کے گہرے مقام پر ایسے بیکٹیریادریافت کیے ہیں جو تیل کے اجزا کو کھا تے ہیں ۔بحرالکاہل کے مقام پر ایک جگہ ماریا نا ٹرینچ ہے ،جس میں ایک گہری کھائی ہے ۔اس کی گہرائی 11 ہزار میٹر یعنی قریباً 36 ہزار فیٹ ہے اور عین اسی مقام پر ماہرین نےکچھ بیکٹیریا دریافت کیے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق پورے کرۂ ارض کے مقابلے میں سب سے زیادہ تیل کے اجزا کھانے والے بیکٹیریا ماریا ناخندق میں ہی ملے ہیں ۔2010 ء میں خلیج میکسیکو میں تیل کے بہائوکو کم کرنے کے لیےایسے ہی بیکٹیریا کا م آئے تھے ۔ جن کی بدولت خام تیل کو سادہ اجزا میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ماریانا ٹرینچ میں پائے جانے والے بیکٹیریا بھی عین وہی خواص رکھتے ہیں ۔سائنس دانوں نے سمندر کی سطح میں چھ ہزار میٹر کی گہرائی تک دیکھا تو ہر جگہ ایسے ہی بیکٹیریا کی نظر آئے ۔ایک رپورٹ کے مصنف نکولائی پیڈ نچوک کے مطابق چوں کہ یہ بیکٹیریا تیل کو بطور غذا استعمال کرتے ہیں تو اس سے ظاہر ہوا ہے کہ سمندروں کی گہرائی تک تیل یا اس کے اجزا سرائیت کررہے ہیں جو ایسے بیکٹیریا کی افزائش بھی کررہے ہیں ۔اس سے قبل سمندری الجی کو بھی یہی کام کرتے دیکھا گیا ہے ۔اگر چہ اس ضمن میں مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں