آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شادی سے پہلے تھیلیسیمیا اسکریننگ لازمی قرار دیا جائے، یونس خان

پاکستان کے مایہ ناز ٹیسٹ کرکٹر اور سابق کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں انکی موجودہ بیوی نے دوسری شادی کرنے کی اجازت دی تو وہ دوسری شادی سے پہلے تھیلیسیمیا معلوم کرنے کا ٹیسٹ ضرور کروائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان تبدیلی چاہتے ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود کے خواہاں ہیں،عمران خان سے درخواست کروں گا کہ وہ شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کی اسکریننگ کے قانون کو لاگو کروائیں۔

گزشتہ دس سال سے تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کی تکالیف دیکھ رہا ہوں اکثر ان کا درد محسوس کرکے راتوں کو نیند نہیں آتی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں انٹرنیشنل تھیلیسیمیا ڈے 2019 کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پریس کانفرنس کا انعقاد عمیر ثنا فاؤنڈیشن نے کیا تھا، اس موقع پر ملک کے مایہ ناز بون میرو ٹرانسپلانٹ سرجن پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد، معروف دینی اسکالر حاجی حنیف طیب، ارسلان فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل اور نامور ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری کے علاوہ دیگر افراد موجود تھے۔

اس موقعے پر تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا درجنوں بچوں نے چراغ جلائے اور اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والا سال ان کے لیے نئی امیدیں لے کے آئے گا پاکستان سے تھیلیسیمیا کا خاتمہ ہوگا اور بچے صحت مند زندگی گزاریں گے۔

یونس خان نے مزید کہا کہ ان کی شادی 2007 میں ہوگئی تھی اس وقت انہیں تھیلیسیمیا اسکریننگ کا پتہ نہیں تھا لیکن اگر اب میں نے اپنی بیوی کی اجازت سے دوسری شادی کی تو میں اپنا تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ ضرور کرواؤں گا، ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو تھیلیسیمیا اسکریننگ جیسے ٹیسٹ کو شادی سے پہلے لازمی قرار دے دینا چاہیے۔

دریں اثنا سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب نے کہا ہے کہ ملک بھر میں تھیلیسیمیا کی بڑھتی ہوئی شرح قابل تشویش ہے،تھیلیسیمیا کی روک تھام کے لیے سندھ اسمبلی سے منظور  ہونے والے انسدادِ تھیلیسیمیا بل پر فی الفور عمل درآمد کرایا جائے۔انھوں نے ان خیالات کا اظہارپریس خطاب سے کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ نکاح نامہ اور شناختی کارڈ میں تھیلیسیمیا کا اسٹیٹس درج کیا جائے۔ملک بھر میں تھیلیسیمیا کے بچوں کی تعداد معلوم کرنے کے لیے رجسٹری قائم کی جائے۔

اس موقع پر دیگر مقررین نے کہا کہ تھیلیسیمیا کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے،جس طرح پولیو کے خاتمے کی جدوجہد شروع کی گئی ہے اسی طرح تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے بھی سرکاری سطح پر مہم کی ضرورت ہے۔

ملک میں 8فیصد آبادی تھیلیسیمیامائنر کا شکار ہے۔پاکستان میں سالانہ 27لاکھ خون کی تھیلیوں کی ضرورت پڑتی ہے جس میں 60فیصد تھیلیسیمیا کے بچوں کو درکار ہوتی ہے۔15ارب روپے سالانہ تھیلیسیمیا کے بچوں کے علاج معالجے پر خرچ ہوتے ہیں۔انسداد تھیلیسیمیا کا قانون بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا تھیلیسیمیا بل پر عمل در آمد ناگزیر ہے۔

بعد ازاں تھیلیسیمیا کے بچے،ان کے والدین،ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے حاجی حنیف طیب،ڈاکٹر طاہر شمسی،یونس خان،ڈاکٹر ثاقب انصاری،ڈاکٹر قیصر سجاد و دیگرکے ہمراہ پریس کلب پر چراغ روشن کیے اور ملک سےتھیلیسیمیا کے خاتمے کا عزم کیا۔

چراغ روشن کرنے کا مقصد تھیلیسیمیا کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔واضح رہے کہ ہر سال 8مئی کو تھیلیسیمیا کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے،اس بیماری میں خون بننے کا عمل رک جاتا ہے نتیجتاً مریض کو ہر ماہ خون لگوانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال چھ ہزار بچے تھیلیسیمیا کا مرض لے کر پیدا ہو رہے ہیں۔عمیر ثناء فاؤنڈیشن گزشتہ 15سال سے تھیلیسیمیا کے خاتمے کی جدوجہد کر رہی ہے۔اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ تھیلیسیمیا کا ملک میں تیزی سے پھیلنا تشویشناک ہے۔

اس مرض کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کرائیں۔انہوں نے کہا کہ عمیر ثناء فاؤنڈیشن پندرہ سال سے تھیلیسیمیا کے مرض سے آگاہی اور اس کے خاتمے کی کوشش کر رہی ہے،ہم نے معاشرے میں بڑے پیمانے پرتھیلیسیمیا آگاہی مہم چلا کر اس بات کی کوشش کی ہے کہ آنے والی نئی نسل کو اس مرض سے محفوظ بنایا جائے۔

ہم پاکستان کو تھیلیسیمیا سے پاک کرنے کی جدوجہد کر کر رہے ہیں اور معاشرے کے تمام طبقات اس مرض کے خاتمے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کوتھیلیسیمیا سے محفوظ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں تھیلیسیمیا کے انسداد کے حوالے سے بل منظور ہوا مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ سالوں گزرنے کے باوجود اس بل پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہر گزرتے دن کے ساتھ تھیلیسیمیا کے مریض بچوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں