آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رابطہ…مریم فیصل
بات تو وہیں کی وہیں ہے اور تیس مئی بھی آہی گئی ہے ۔ مسزتھریسامے نے تو بہت بار کہا تھا کہ برطانیہ یونین سے نکل چکا ہے وہ اب یورپین پارلیمنٹ کے انتخابات کا حصہ نہیں ہوگا ۔ لیکن کچھ تبدیلی نہ آسکی اور اس ہفتے کے آخر میں برطانیہ پھر ایک بار ان انتخابات میں یونین کے دوسرے ممبر ممالک کی طرح ہی حصہ لے گا ۔اور ظاہر ہے کہ اگر انتخابات کا حصہ بنا ہے تو وہ بھاری حصے داری بھی دی ہوگی جو انتخابات کے لئے ہر ممبر ملک ادا کرتا ہی ہے اور اس طرح ایک بار پھر بھاری تعداد میں پونڈز یونین کی جیب میں چلے گئے ۔ برطانیہ کے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کا پیسہ نہ چاہتے ہوئےبھی یونین کے پاس ہی جارہا ہے ۔ یہ سیاست بھی عجیب تماشہ ہے دکھایاکچھ جاتا ہے اور ہوتا کچھ اور ہی ہے ۔ اتنے برس پہلے عوام کو اکسایا گیا کہ یونین سے علیحدہ ہونا ہے اور جب عوام بھی اچھی طرح اس علیحدگی کے حق میں ہو گئے تب معاملے کو ڈیل کی سولی پر لا کر لٹکا دیا گیا کہ ایم پیز ڈیل منظور نہیں کر رہے ہیں ۔۔ اب ہم ایک ہی بات کو بار بار کیا دہرائے لیکن یہ معاملہ ایسا طویل ہوگیاہے کہ ایک ہی بات دل سے نکل کر زبان تک آجاتی ہے کہ جب فیصلہ پارلیمنٹ میں ہی ہونا تھا تو پھر عوام کو اس سب میں صرف تماشائی بنا کر کیوں شامل کیا گیا؟؟ ۔ اس سب تماشے میں ایک نیا شوشہ بریگزٹ

سیکرٹری نے چھوڑا ہے کہ اگلے ماہ جب ایم پیز ایک بار پھر ڈیل کے لئے مختلف آپشنز پر ووٹ کریں گے ان میں پبلک ووٹ کاآپشن بھی شامل کردینا چاہیے ۔پھر پبلک اور پبلک کا ووٹ ؟؟ پبلک نے ہی توریفرنڈم میں ووٹ کیا تھا علیحدگی کے حق میں ۔ لیکن عوام کو کہاں ان پیچیدگیوں کا پتہ تھا کہ وہ کہیں گےکہ الگ ہوجاو تو اس کے بعد ایم پیز اور ملک کے وزیر اعظم کے درمیان ایک لمبی بحث شروع ہوجائے گی ۔ویسے تو اکتیس اکتوبر تک کی توسیع بھی مل گئی ہے اور ایسالگ رہا ہے کہ ساڑھے پانچ ماہ کا وقت اچھا خاصا ہے لیکن حقیقت میں یہ وقت بھی اتنی ہی رفتار سے گزر جا ئے گا جیسے تین سال کا وقت گزر گیا ۔ایک سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں تو اس حساب سے ایم پیز کے پاس ایک ہزار دن تھے چلیں ہالیڈیز وغیرہ نکال دیں تب بھی اتنا وقت تھا کہ ایک متفقہ ڈیل منظور کی جاسکتی تھی ۔وزیر اعظم تھریسامے نے تو اپنی ڈیل کو منظور کروانے کے لئے لیبر پارٹی کے ساتھ کراس پارٹی مذاکرات کی بھی کوشیش کر ڈالی جو بنا کسی نتیجے کے ختم ہوگئے ۔ہوا کچھ نہیں بس ایم پیز کے پاس ایک اور موقع آگیا ووٹ کرنے کا ۔ اور ابھی تو یہ سلسلہ بھی جاری ہے کہ مسزتھریسا مے وزرات ہی چھوڑ جائیں۔ یہ کوششیں بھی کی جارہی ہیں ۔لیکن وہ بھی کیا کریں برطانیہ کی جموری اقدار والی امیج و بچانے کے لئے ہر ممکن کو شش کر رہی ہیں اور اپنی سیٹ پر جمی ہوئی ہیں کہ کسی بھی طرح ڈیل کو منطوری کی سند مل جائے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں