آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ایک بار پھر محلاتی سازشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ میاں نواز شریف نے اگست 1994کو لاہور میں مسلم لیگ(ن) کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلایا اور ایک پُرجوش تقریر کے بعد حکومت کے خلاف ’’تحریکِ نجات‘‘ چلانے کا اعلان کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو بمشکل ایک برس ہوا تھا اِس لئے مسلم لیگ(ن) کے رہنما اس فیصلے پر گومگو کی کیفیت میں تھے۔ سرتاج عزیز اپنی کتاب Between Dreams and Realitiesمیں اس اجلاس کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک پارٹی رہنما نے نواز شریف سے کہا کہ پاکستان میں تحریک چلانے اور برسر اقتدار آنے کے لئے تین ’’الف‘‘ کی حمایت درکار ہوتی ہے یعنی اللہ، امریکہ اور آرمی۔ آپ کے پاس کتنے ’’الف‘‘ ہیں۔ نواز شریف مُسکرائے اور کہا، فی الحال تو صرف اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ بعد ازاں سامنے آنے والے واقعات نے ثابت کیا کہ تب نواز شریف کو بہت سے ’’الف‘‘ کی تائید ہی حاصل نہ تھی بلکہ صدر فاروق لغاری کی اشیرباد بھی ان کے ساتھ تھی۔ بہرحال ستمبر کے مہینے میں تحریک نجات کا آغاز ہو گیا۔ ملک بھر میں بڑے جلسے اور کامیاب ریلیاں ہوئیں۔ فوری طور پر حکومت سے نجات تو نہ مل سکی البتہ اس بھرپور تحریک کے نتیجے میں ایوانِ اقتدار کی دیواریں ہلا دی گئی تھیں، جنہیں گرانے کے لئے مذہبی دستہ سامنے لانے کا فیصلہ ہوا۔ اس بار جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کو سامنے لایا گیا جنہوں نے اسلام آباد میں دھرنا دے کر آخری ضرب لگائی۔ 20ستمبر 1996کو بینظیر بھٹو کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران قتل کر دیا گیا۔ ابھی مرتضیٰ کی قبر کی مٹی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ بینظیر کے ’’بھائی‘‘ فاروق نے اسمبلیاں تحلیل کرکے حکومت سے نجات دلا دی۔ ملک بھر میں مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، اپوزیشن لیڈر گلدستے اور مبارکبادیں وصول کرتے رہے۔

اس سے قبل نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تو اپوزیشن نے صورتحال سے بھرپور سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی کا ایک وفد نواز شریف سے ملاقات کرکے انہیں اپنے تعاون کا یقین دلاتا تو دوسرا وفد صدر غلام اسحاق خان سے ملاقات کرکے بتاتا کہ ہم آپ کی پشت پر کھڑے ہیں۔ صدر کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی ترغیب دینے کے لئے ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے پیش کئے گئے۔ آخرکار مُرادیں بر آئیں اور ایک بار پھر اٹھاون ٹو بی کی تلوار سے وزیراعظم کا سر قلم کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف کی حکومت بحال ہوگئی تو پھر وہی محلاتی سازشیں شروع ہو گئیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے لاہور میں کل جماعتی کانفرنس بلالی۔ نواز شریف کی گرتی ہوئی حکومت کو ایک اور دھکا دینے کے لئے متحدہ اپوزیشن نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ آرمی چیف نے مداخلت کی اور کاکڑ فارمولے کے تحت معاملات طے پا گئے تو سیاسی بساط پر آگے بڑھائے گئے مہروں کو سمیٹنے کی ضرورت پیش آئی۔ شجاع نواز نے اپنی کتاب ’’کراس سوارڈز‘‘ میں لکھا ہے کہ جنرل عبدالوحید کاکڑ نے محترمہ بینظیر بھٹو کو ٹیلیفون کرکے کہا کہ لاہور ایئر پورٹ پر ایک خصوصی طیارہ آپ کو راولپنڈی لانے کے لئے تیار کھڑا ہے۔ بینظیر بھٹو اپنے شوہر آصف زرداری کے ہمراہ جی ایچ کیو پہنچیں تو جنرل کاکڑ نے لگی لپٹی رکھے بغیر پوچھا آپ لانگ مارچ کیوں کرنا چاہتی ہیں؟ بینظیر نے کہا تاکہ ازسرنو انتخابات کے لئے دباؤ بڑھایا جا سکے۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ نے کہا آپ لانگ مارچ منسوخ کر دیں، انتخابات کروانا ہماری ذمہ داری ہے اور میں آپ کو اس کی گارنٹی دیتا ہوں۔ یوں اس لانگ مارچ کے شروع ہونے سے پہلے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے گئے۔

ماضی کی یہ سب یادیں اس لئے سوچ کے دریچے میں گھس آئیں کہ مریم کی طرف سے چپ کا روزہ افطار کئے جانے کے بعد ایک بار پھر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ چہ مگوئیوں، سرگوشیوں اور افواہوں کا سلسلہ تیز تر ہوتا جا رہا ہے اور اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عید کے بعد متحدہ اپوزیشن کی ممکنہ احتجاجی تحریک کیسی ہوگی؟ کیا یہ تحریک عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوگی؟ اور پھر بلین ڈالر کا سوال تو یہ ہے کہ کیا کسی عوامی تحریک کے نتیجے میں حکومت کو گرایا جا سکے گا؟ حکومتی سطح پر محض ایک افطار پارٹی سے متعلق جس قدر واویلا کیا گیا، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہونے جا رہا ہے اور یہ محض نشست و برخاست والا معاملہ نہیں ہے۔ دہائی دی جا رہی ہے کہ ابھی تو حکومت کو محض نو یا دس مہینے ہوئے ہیں، حکومت کو کچھ کرنے کا موقع دیئے بغیر سڑکوں پر آنا زیادتی ہوگی لیکن وہ یہ بھول رہے کہ اسی تحریک انصاف نے سابقہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے ایک سال بعد ہی اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ ہمارے ہاں یہی دستور ہے کہ سنبھلنے کی مہلت نہیں ملتی۔ یوں تو کوئی بھی حکومت ہو، اسے پانچ سال پورے کرنے کا موقع ملنا چاہئے لیکن موجودہ حکومت کے بارے میں تو بالخصوص یہ رائے موجود ہے کہ اسے مدت پوری کرنے دی جائے۔ کوشش کی جائے کہ اگر کبھی حکومت ڈگمگائے تو اسے سہارا دیا جائے تاکہ کسی کے دل میں کوئی حسرت، کوئی ارمان باقی نہ رہے۔

جہاں تک اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کا سوال ہے تو عید کے بعد ہلکی پھلکی موسیقی تو شروع ہو سکتی ہے تاہم اسے ردھم میں آنے اور پکے راگ گانے کے لئے کچھ وقت درکار ہوگا۔ نومبر کے مہینے میں کچھ بڑی تبدیلیاں ہونا ہیں، اپوزیشن کی کوشش ہوگی کہ احتجاجی تحریک کو ٹی ٹوینٹی بنانے کے بجائے ٹیسٹ میچ کے انداز میں سست روی سے آگے بڑھایا جائے۔ اس تحریک کے دوران عوام کو سڑکوں پر لانا بھی یقیناً ایک چیلنج ہوگا۔ تباہ حال معیشت اور مہنگائی و بے روزگاری کے باعث یہ کام زیادہ مشکل نہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ اپوزیشن کے پاس تحریک چلانے کے لئے کتنے ”الف‘‘ ہیں؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں