آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قصور کی زینب کے ساتھ جو ہوا وہ کسی بھی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھا لیکن ہم نے اُس سانحہ پر شور تو بہت مچایا، انگنت فوٹو سیشن بھی ہوئے، ٹاک شوز اور ٹی وی چینلز نے ریٹنگز بھی خوب کمائیں، سیاست بھی ہوئی اور عدالتی سوموٹو نے اپنی انٹری بھی ڈالی لیکن عملاً ہم نے کچھ کیا نہ سیکھا۔ نہ کسی خرابی کو درست کیا گیا نہ بیماری کی تشخیص ہوئی اور نہ ہی اُس کے علاج کے لیے کوئی کارروائی ہوئی۔ زینب کے واقعہ کے بعد شاید ہی کوئی دن گزرا ہو جب اخبار اور ٹی چینلز پر ملک کے کسی نہ کسی علاقہ میں بچی یا بچے سے زیادتی کی خبر نہ چلی ہو۔ بہت سے کیسوں میں اُن معصوموں کو زیادتی کے بعد قتل بھی کر دیا گیا۔ لیکن کسی ایک آدھ کیس کے علاوہ میڈیا، حکومت اور عدالت‘ کسی نے ان واقعات کو وہ توجہ نہ دی جو زینب کیس کو ملی۔ اب اسلام آباد میں ایک اور معصوم بچی فرشتہ مہمند کے ساتھ وہی سانحہ پیش آیا۔ اُس کو زیادتی کے بعد بہیمانہ طریقہ سے قتل کر دیا گیا۔ اس سانحہ پر میڈیا اور سیاستدانوں نے پھر توجہ مرکوز کی اور اس کی بڑی وجہ پاکستان کے دارالخلافہ کی پولیس کی طرف سے بچی کے اغوا ہونے کے بعد چار دن تک ایف آئی آر درج نہ کرنا اور مقتولہ کے والد اور رشتہ داروں کی شکایت سننے کے بجائے اُن کی تضحیک کرنا تھا۔ اس واقعہ پر میڈیا ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم بھی بول پڑے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے بھی ایک ایک کر کے متاثرہ خاندان کے گھر جانا شروع کر دیا اور یوں فرشتہ کا گھر پریس کانفرنسوں اور فوٹو سیشن کا مرکز بن گیا۔ پولیس سمیت دوسرے محکموں کے بڑے بڑے افسر بھی فرشتہ کے والد سے افسوس اور ہمدردی کے لیے اُن کے گھر گئے، یہاں تک کہ فوجی ترجمان کی طرف سے بھی ہمدردی اور تعاون کا ایک بیان میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلا دیا گیا۔ ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے فرشتہ کے والد نے اپنی جیب سے ڈھیر سارے وزیٹنگ کارڈز (Visting Cards) نکال کر دکھائے کہ جو آتا ہے اپنا وزیٹنگ کارڈ دے جاتا ہے۔ فرشتہ کے والد کا کہنا تھا کہ میری بچی چلی گئی... میرے جگر کا ٹکڑا کٹ گیا... کیا کروں میں ان وزٹنگ کارڈز کا... یہاں میت کے گھر میں پریس کانفرنسیں ہو رہی ہیں... میڈیا آ رہا ہے، سیاسی گفتگو ہو رہی ہے... اب یہاں کہیں الیکشن بھی نہ ہو جائے... خدا کے لیے حکمران، سیاستدان اور میڈیا مجھے چھوڑ دیں... میں ایک غریب آدمی ہوں... چھوٹے سے گھر میں رہتا ہوں، مجھ پر جگہ تنگ نہ کریں...

فرشتہ کا والد ایک غریب مزدور شخص ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ اُس کے اور اُس کی بیٹی کے نام پر سیاست ہو رہی ہے، ٹی وی چینلز اپنی اپنی ریٹنگ بنا رہے ہیں، حکمران دکھاوے کی کارروائی کر رہے ہیں۔ وہ بیچارا تو انصاف بھی نہیں مانگ رہا، وہ تو یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ قاتل کو پکڑو اور اُسے سرِعام پھانسی دو۔ کیونکہ اُسے پتا ہے کہ چند دن کے بعد معاملات پھر وہی ہوں گے۔ اُسے شاید یہ بھی پتا ہو کہ زینب کا والد بیچارا دہائیاں دیتا رہا کہ اُس کی بیٹی کے قاتل کو سرِعام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے اُس سفاک مجرم کو نشانِ عبرت بنایا جائے اور کسی دوسرے کی بیٹی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔ وہ سپریم کورٹ گیا، پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوا، میڈیا میں بھی آیا لیکن اُس کی کسی نے نہ سنی۔ یہاں تک کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی سرِعام پھانسی دیئے جانے کے عمل کا گول مول انداز میں ایسا جواب دیا کہ زینب کے والد کے اس مطالبہ کہ سفاک مجرم کو نشانِ عبرت بنایا جائے، کو تقویت نہ ملی۔ اور یوں زینب کے قاتل کو پھانسی تو دے دی گئی لیکن اُسے نشانِ عبرت بنتے کسی نے نہ دیکھا۔ جب حالات یہ ہوں گے تو ہر روز کسی زینب، کسی فرشتہ کے ساتھ زیادتی کر کے اُسے قتل کرنے والے درندوں کی شیطانی سوچ زور پکڑے گی یا اُنہیں ڈر اور خوف محسوس نہ ہوگا۔ ہم جو کر رہے ہیں، جو ہمارا دکھلاوے کا معاشرتی رویہ ہے اُس سے شیطانی سوچ رکھنے والے اِن درندوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پاکستان میں روزانہ دس سے بارہ معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ نجانے ایسے کتنے واقعات ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے حالات بہت بگڑ چکے ہیں۔ یہ معاملہ ہو یا دوسرے معاشرتی رویے، پاکستان کا معاشرہ انسانوں کے بجائے جانوروں اور درندوں کا معاشرہ بنتا جا رہا ہے۔ کوئی خرابی نہیں جو ہم میں موجود نہ ہو۔ ہر طرف گند ہی گند پھیلا ہے اور کوئی دن نہیں گزرتا جب کوئی نئی گندگی ہمارے سامنے نہ آتی ہو۔ ہمارے معاملات، اخلاقیات ایسے ہیں کہ سوچ کے ڈر لگتا ہے کہ ہم کیسے لوگ ہیں، کیا معاشرہ بنا دیا ہم نے اور آخر ہمارا بنے گا کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم میں خرابیاں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہیں۔ لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ تمام تر معاشرتی گند اور خرابیوں کے باوجود اصلاحِ معاشرہ اور کردار سازی پر کسی کی کوئی توجہ نہیں اور یوں معاشرتی خرابیوں اور گندگی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید