آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب میں 4؍ صوبوں کی بات ہوسکتی تو یہ سندھ میں جرم کیوں؟ خالد مقبول

کراچی( اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیر ڈاکٹر خاالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہم مہاجر یا کراچی صوبے کی بات نہیں کر رہے بلکہ پاکستان بھر میں زیادہ سے زیادہ صوبے بنا ئے جائیں تاکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی یقینی بنے،جب پنجاب میں 3سے 4صوبوں کی بات ہو سکتی ہے کے پی کے اوربلوچستان میں بھی نئے صوبے ایشو نہیں تو پھر سندھ میں یہ جرم کیوںِ؟خدمت خلق فاؤنڈیشن کے کچھ افراد کی غلطی کی سزا غریب عوام کو نہ دیں۔ وہ اتوار کو کے کے ایف کے سالانہ امدادی پروگرام میں میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے نمائندوں کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا ہے کہ صوبے کے حوالے سے انکا موقف درست پیش نہیں کیا گیا حلیفوں کا موقف تھا جو ان سے جوڑ دیا گیا۔ خالد مقبول نے کہا کہ ہم سندھ کے مفاد کیخلاف کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کاسالانہ امدادی پروگرام حسب روایت ایم کیو ایم کے قیام سے زیادہ پرانی بات ہے۔ 40سال سے کبھی چھوٹے کبھی بڑے پیمانے پر یہ ذمہ داری نبھاتے ہیں غریب اور مستحق افراد کی ہمیشہ مدد کی ہے، سالانہ امدادی پروگرام میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیر ڈاکٹر خالد مقبول،ڈپٹی کنوینرز، کنور نوید جمیل،میئر کراچی وسیم اختر اور سینیٹرنسرین جلیل نے شرکت کی۔ خالد

مقبول نے کہا کہ گزشتہ ایک دو سال میں ہم روایت سے ہٹ کر مستحقین کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے انھیں یہاں بلا نے کے بجائے گھروں میں امدادی سامان تقسیم کر ر ہے ہیں ان تمام افراد کا بہت بہت شکریہ جو تعاون کرتے ہیں۔خالد مقبول نے کہا کہ ایم کیو ایم اور کے کے ایف کے سارے فنکشن بحال نہیں ہوئے مستحق اور نادار اور غریب افراد جو 40سال سے مستفید ہو رہیں ہیں ہماری اور کے کے ایف کی مجبوریوں کو سمجھیں، ہمیں امید ہے کہ غلط فہمیوں کے بادل چھٹیں گے تو کے کے ایف ملک بھر کی خدمت کے قابل ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید