آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نیوز اینکر بن کے پی ایچ ڈی کا خواب ادھورا رہ گیا

(عکّاسی:اسرائیل انصاری)

ذرائع ابلاغ اور ابلاغی عمل میں ایک اہم کردار ’’نیوز اینکر‘‘ اور ’’اینکر پرسن‘‘ کا بھی ہوتا ہے کہ ٹی وی اسکرین پر خبر سُننے اور دیکھنے کے دوران عموماً ناظرین نیوز اینکر کے لب و لہجے،ا لفاظ کے زیرو بم اور خبررسانی کو بھی خبر کی طرح بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم اور ذمّے دارانہ عمل ہے، جسےایک اچھا نیوز اینکر پیشہ ورانہ لگن، حاضر دماغی اور اپنی فن کارانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر بروئے کار لاتا ہے۔’’جیو نیوز‘‘ کے نوجوان اینکر، علی انیق سیّدبھی اپنے لب و لہجے، خبروں کی ادائیگی اور نمایاں اسلوب کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوںہم نے اُن سے جیو سے وابستگی، خاندانی پس منظر، ابتدائی تعلیم و تربیت، ذاتی مصروفیات، مشاغل اور بعض دیگر امور پر سنڈے میگزین کے مقبول ِعام سلسلے ’’کہی اَن کہی‘‘ کے لیےتفصیلی گفتگو کی، جو نذرِ قارئین ہے۔

نیوز اینکر بن کے پی ایچ ڈی کا خواب ادھورا رہ گیا
نمایندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

س: خاندان ابتدائی تعلیم و تربیت کے متعلق کچھ بتائیں؟ والد کیا کرتے تھے، بھائی بہنوں کی تعداد؟

ج: میرا تعلق بنیادی طور پرلاہور سے ہے۔ ہمارا خاندان کئی صدیوں سے لاہور ہی میں رہتا چلا آرہا ہے۔ شیخوپورہ کے قریب ٹھٹھہ قادر شاہ کے نام سے ہمارا ایک گائوں آباد ہے، جہاں اب بھی ہمارے خاندان کے بہت سے افراد مقیم ہیں، جب کہ مَیں اولڈ لاہور، کریم پارک، راوی روڈ، بلال گنج کے علاقے میں پیدا ہوا۔ میرے والد، عابد علی سیّد میونسپل کارپوریشن لاہور میں ملازمت کے بعد حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔ جب یونین کائونسل کا قیام عمل میں آیا، تو انہیں کائونسل کا جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ والد صاحب نے جوانی میں کافی محنت اور جدوجہد کی، اور نہ صرف اپنے بھائی بہنوں کی کفالت کی، بلکہ انہیںپڑھا لکھا کران کی شادیاں بھی کیں۔اس کے بعد اَن تھک محنت کرکے ہمیں اس مقام تک پہنچایا۔ جب مَیں 14برس کا تھا، تو 2001ء میں میری پیاری والدہ، ذکیہ علی اچانک ہی داغِ مفارقت دے گئیں۔ اُن کے اس طرح چلے جانےسے میری اورچھوٹی بہن، شہربانو کی تو دنیا ہی اجڑ گئی۔ اُن کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل ہمارے چچا بھی آسٹریلیا سیٹل ہوگئے، تو اُداسیوں نے جیسےگھر میں ڈیرے ڈال لیے۔پھر بزرگوں کے مشورے اوراصرار پر والد نے دوسری شادی کی۔ پہلی والدہ سے میرے بعد بہن شہربانو، جب کہ دوسری والدہ، عالیہ عابد سے ایک بہن، ایلیا سیّد ہے۔

س: تعلیم کہاں تک حاصل کی؟ بچپن میں کیسے طالب علم تھے؟

ج: ابتدائی تعلیم علاقے کے ایک نجی اسکول سے حاصل کی۔ میٹرک کے بعد والد کی خواہش تھی کہ گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی میں پڑھوں۔ کیوں کہ ’’جی سی یو‘‘ بڑی خوب صورت بلڈنگ میں قائم ایک بہترین تعلیمی ادارہ ہے۔ اسے لاہور کا لینڈ مارک کہا جاتا ہے، حالاں کہ مجھے پنجاب کالج سے اسکالر شپ مل رہی تھی، لیکن والد کی خواہش مقدّم جانتے ہوئے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد پنجاب یونی ورسٹی سے ماس کمیونی کیشن میں گریجویشن اورایم فِل کے بعد، 2011ء میں پنجاب یونی ورسٹی انسٹیٹیوٹ آف کمیونی کیشن اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لیا۔ تاہم، ان ہی دنوں اینکرنگ کا موقع ملا، توپی ایچ ڈی کا خواب ادھورا رہ گیا۔

س: بچپن میں کیسے طالب علم تھے؟

ج: اچھا طالب علم تھا۔ کلاس میں فرسٹ آتا تھا، بلکہ میری ہمیشہ ہی کوشش ہوتی تھی کہ ہر جگہ نمایاں رہوں۔ غیرنصابی سرگرمیوں میں بھی آگے آگے رہتا، لیکن نصابی سرگرمیوں میں زیادہ آگے تھا۔

س: بچپن کیسا گزرا؟ شرارتی تھے یا سنجیدہ؟

ج: جب تک والدہ حیات رہیں، میرا بچپن بہت اچھا اور خوش گوارتھا۔ میں چوں کہ والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں، تو مَن مانیاں بھی خوب کرتا تھا،بے انتہا شرارتی بھی تھا، لیکن والدہ کے انتقال کے بعد زندگی میں بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا۔ میں اس وقت کم عُمر تھا، والد سرکاری ملازم تھے، اور ہماری ساری جمع پونجی والدہ کے علاج پر خرچ ہوگئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد ایک طرف جہاں ہم شدّت سے ان کا خلا محسوس کررہے تھے، تو دوسری جانب شدید معاشی مسائل سے بھی دوچار ہوگئے۔ وہ ایک ایسا دَور تھا، جو بُھلائے نہیں بُھولتا۔

س: بچپن کی کوئی دوستی، جو آج تک قائم ہو؟

ج: محلّے میں میری کسی سے دوستی نہیں تھی۔ تاہم، پرائمری اسکول میں کچھ دوست بنے، جن میں اس دَور کے دوست، وقاص الیاس سے اب تک دوستی ہے۔ دراصل میں پڑھاکو بچّے کی طرح زیادہ ترگھر ہی میں رہنا پسند کرتا تھا۔ بہت ہی ضروری نوعیت کے کام سے باہرنکلتا تھا اور یہ عادت آج تک برقرار ہے۔

س: جیو میں کب اور کیسے آنا ہوا؟

ج: میں نے 2016ء میں ’’جیو‘‘ جوائن کیا۔ اس سے قبل ایک مشہور نجی چینل سے رپورٹنگ کی، اورپانچ چھے برس بعد اینکرنگ کی طرف آیا۔ 2008ء سے بہ طور اینکر کام شروع کیا۔ پھر ’’جیو ‘‘سے آفر آگئی اور بس یہیں کا ہورہا۔

س: تاریخِ پیدائش ، ستارہ کیا ہے؟ سال گرہ مناتے ہیں؟

ج: میری تاریخ پیدائش 11دسمبر 1987ء اور ستارہ، قوس ہے۔ جہاں تک سال گرہ منانے کی بات ہے، تو گھر والےاگرچہ اب بھی اہتمام کرتے ہیں، لیکن اب میں روایتی طریقے سے سال گرہ منامناکےاکتا چکا ہوں، چاہتا ہوں کہ سال گرہ والے دن کہیں ٹریولنگ پر نکل جائوں، مجھے دنیا دیکھنے کا بہت شوق ہے۔

س: آپ پاکستانی میڈیا کے سب سے بڑے نیوز چینل سے وابستہ ہیں، کیسا لگتا ہے؟

ج: ’’جیو ٹیلی ویژن ‘‘سے وابستگی میرے لیے ایک اعزاز ہے، میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھےیہاں کام کا موقع ملاکہ مشکل ترین حالات میں بھی یہ ادارہ اپنے ملازمین کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ گرچہ میڈیاانڈسٹری کے حالیہ بحران پر دیگر اداروں کی طرح ’’جیوٹی وی‘‘ بھی کٹھن حالات کا شکار ہے۔ تاہم، یہاں کے خوش گوار ماحول اور پروفیشنل لوگوں کے درمیان کام کرنے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔

س: پہلی بار کیمرے کے سامنے کیا احساسات تھے؟

ج: مَیں اپنے آپ میں رہنے والا شخص ہوں،اگرچہ دیکھنے میں بہت سوشل لگتا ہوں، لیکن ہوں نہیں۔ میں نے بہ حیثیت رپورٹربھی، کیمرا فیس کیا، لیکن بہ حیثیت اینکر پہلی بار کیمرے کا سامنا کیا، توگھبرا گیا۔ شاید میں نے اپنے اوپر بہت پریشر لے لیا تھا، جب پہلی بار خبریں پڑھنے کے لیے کیمرے کے سامنے بیٹھا، تو گھبراہٹ میں انٹرو دینا ہی بھول گیا، اور ہیڈلائنز کے بعد تعارفی کلمات’’ السّلامُ علیکم، مَیں ہوں علی انیق سیّد‘‘ کہے بغیر ہی خبر پڑھنا شروع کردی۔

س: لائیو نشریات کے دوران کوئی ایسی غلطی یا واقعہ، جس پر خود بھی نادم ہوں یا ہنسی آتی ہو؟

ج: جی ہاں، وہ تو سب ہی جانتے ہیں۔ لیکن میں نادم کم ہوں، ہنسی زیادہ آتی ہے۔اس لیے کہ مجھ سے لفظ ’’کتابچہ‘‘ پڑھنے میں جو غلطی ہوئی، تو لوگوں کا خیال تھا کہ مَیں شاید میں اس لفظ سے آشنا ہی نہیں، تو ایسا نہیں ہے۔ دراصل بعض اوقات پرومپٹر اسکرین (prompter screen) پر الفاظ کی ترتیب اوپر، نیچے ہوجاتی ہے، تو اُس روز بھی ایسا ہی ہوا۔ لفظ ’’کتا‘‘ پرومپٹر کی پہلی لائن میں اور ’’بچہ‘‘ دوسری لائن میں لکھا تھا، جسے میں اپنی رَو میں پہلے ’’کتّا‘‘ پھر ’’بچّہ‘‘پڑھ گیا۔ اس وقت میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ لکھا کیا ہے۔ اگر آپ دیکھیں، تو ویو میں میری وہ کنفیوژن دکھائی دے گی۔ میں کنفیوژڈ تھا کہ یہ کس بارے میں ہے۔ آیا یہ کسی پپی کے بارے میں ہے، یقین مانیں، اُس وقت میرے ذہن میں بالکل نہیں آیا۔ پھر جب دوسری بار بھی اوپر کتا اور نیچے بچہ لکھا آیا، تو کنفیوژن برقرار رہی، اور میں نے دوبارہ لفظ غلط پڑھ ڈالا۔ ایمان داری کی بات ہے کہ مَیں اس بات پر نادم ہوں، لیکن چوں کہ اصل حقیقت سے واقف ہوں، تو مجھے غلطی کے بعد خود بھی ہنسی آتی رہی کہ یہ بیوقوفانہ غلطی مجھ سے کیسے سرزد ہوگئی۔

نیوز اینکر بن کے پی ایچ ڈی کا خواب ادھورا رہ گیا
والدہ کے ساتھ

مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس میں کوئی خرابی ہے، مگر چوں کہ الفاظ اوپر، نیچے لکھے تھے، تو میں اس کی سینس نہیں بناسکا کہ او سی (آِن کیمرا) اسی طرح لکھا ہوا تھا۔ اوسی میں ہم کیمرے میں نظر آرہے ہوتے ہیں، جب کہ ویو میں نظر نہیں آتے۔ تو جوں ہی اوسی سے ہٹا اور فیگر آئوٹ کرنا شروع کیا کہ مسئلہ کیا ہے، کیا اس میں پرونائون کی غلطی ہے؟ ’’کا‘‘ نہیں لکھا یا ’’کے‘‘ نہیں لکھا، تو میں کا، کے، کی کے چکّر میں یہ بھول ہی گیا کہ یہ ایک مکمل لفظ ہے۔ اور پھر یہ کہ اس وقت صبح ساڑھے چھے بجے کا وقت تھا، مَیں اپنے طور پر جوش و دھڑلےکے ساتھ خبریں اس لیے پڑھ رہا تھا کہ لوگوں کو محسوس نہ ہو کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہے۔اور اسی کوشش میں مارا گیا۔

س: سنا ہے، اس غلطی کی پاداش میں سزا کے طور پر آپ پر کچھ عرصے کے لیے پابندی بھی لگائی گئی؟

ج: نہیں، نہیں۔ مجھے انتظامیہ کی طرف سے مکمل سپورٹ ملی اور کہا گیا کہ آپ کو گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ اس غلطی کے دوسرے روز آئوٹ پُٹ منیجر نے باقاعدہ مجھ سےآکر کہا کہ آپ اپنا کام روٹین میں اور آرام سے کریں، کوئی مسئلے کی بات نہیں، اس طرح کی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔

س: زندگی کی پہلی کمائی کب اور کتنی تھی، پیسا خرچ کرتے وقت سوچتے ہیں؟

ج: 2005ء میں جب میں نے بہ حیثیت کاپی رائٹر کام شروع کیا، تو پہلا معاوضہ دس ہزار روپے ملاتھا۔

س: جیو میں آنے کے بعد شروع میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ج: ’’ جیو‘‘ ایک انتہائی معتبر اور معیاری ادارہ ہے، یہاں مجھے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، سب تعاون کرنے والے اور انتہائی تجربہ کارلوگ ہیں۔

س:اگر کسی اور شعبے میں جانے کا موقع ملے، تو کون سا شعبہ اختیار کریں گے؟

ج: اگر مجھے میڈیا ہی میں رہنا ہے، تو اینکرنگ کے علاوہ کوئی اور شعبہ سُوٹ نہیں کرتا، اگرچہ مجھے رپورٹنگ سے بھی بہت لگائو ہے۔تاہم، میڈیا میں رہتے ہوئے اینکرنگ سے بہتر اور کوئی جاب نہیں۔

س: کس مقام تک پہنچنا چاہتے ہیں؟

ج: اس شعبے کو پہلے ہی بہت سی مشکلات درپیش ہیں، آگے کے حالات بھی کچھ اچھے دکھائی نہیں دے رہے ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ کسی موقعے پر اگر کچھ اچھا کرسکوں، مثال کے طور پر مَیں ایدھی صاحب کو بہت پسند کرتا ہوں،تو اگر موقع ملا اورکبھی اس قابل ہوا تو اگرچہ ایدھی صاحب تو نہیں بن سکتا، مگر ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کی فلاح کے لیے کچھ کام ضرور کرنا چاہوں گا۔

س: کس نیوز اینکر/صحافی سے زیادہ متاثر ہیں؟

ج: میں اپنے یونی ورسٹی فیلو، محمد جنید سے بہت متاثر ہوں،وہ بہت اچھے، بہت نفیس انسان ہیں۔ میں ان کی جتنی تعریف کروں، کم ہے۔ وہ کہیں بھی جاتے ہیں، ہر ایک سے فرداً فرداً ہاتھ ضرور ملاتے ہیں۔ جب کہ شاہ زیب خان زادہ کو ایک بہترین صحافی اور اینکرپرسن سمجھتا ہوں۔

س: کبھی ڈراموں، فلموں میں کام کی آفر ہوئی؟ اور اگر ہوئی، تو کیا قبول کرلیں گے؟

ج: اس طرح کی اگر کبھی کوئی آفر ہوئی، تو میں اپنے ادارے سے اجازت لے کر ضرور قبول کرلوں گا۔ یونی ورسٹی کے زمانے میں خود ڈرامے لکھتا اورایکٹنگ بھی کرتا رہا ہوں، بلکہ یونی ورسٹی میں میری وجۂ شہرت ہی یہی تھی۔ میرے لکھے ہوئے کئی ڈرامے کمرشل تھیٹر کے علاوہ لمز اور الحمرا آرٹس کائونسل میں بھی پیش کیے جاچکے ہیں، جنہیں بڑی پزیرائی بھی ملی۔ 2006ء میں ڈرگ ٹریفکنگ کے موضوع پر ایک ڈراما ’’ماجرا‘‘ الحمرا لاہور میں پیش کیا، جس میں یونی ورسٹی کے طلباء و طالبات نے بہترین پرفارمینس کا مظاہرہ کیا۔

س: دن میں کتنے گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں؟ کیا اپنا بلیٹن بھی دیکھتے ہیں؟ اور پھر غلطیاں سدھارنے کی کوشش بھی کرتے ہیں؟

ج: بالکل، میں انٹرنیشنل بلیٹن پڑھتا ہوں، تو بعض اوقات مجھے لائیو بھی مل جاتا ہے، صبح چھے بجے کا بلیٹن ساڑھے چھے بجے تک رہتا ہے، تو اسے دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اور پھر رات کا بلیٹن، جو اکثر وجیہ ثانی، محمد جنید پڑھتے ہیں، انہیں دیکھ کر تھوڑا سا تیار ہوجاتا ہوں۔

س: کوئی ایسا کام، جو آپ نے کرنے کے بارے میں سوچا، مگر کیا نہیں؟

ج: میں بزنس مین بننا چاہتا ہوں، اگرچہ اس کے لیے ابھی ماحول سازگار نہیں، لیکن اگرکبھی موقع ملا تو اپنا بزنس ضرور کروں گا۔

س: کوئی ایسی شخصیت، جس سے مل کر اچھا لگا ہو، یا پھر کوئی ایسا فرد، جس سے ملنے کی خواہش ہو؟

ج: ایدھی صاحب کے آخری ایّام میں اُن سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ اُن کی شخصیت اور سادہ طرزِ زندگی سے بے حد متاثر ہوکر جب عقیدت سے اُن کے ہاتھ چومے، تو دل کو بڑی راحت ملی۔ ایدھی صاحب بلاشبہ ہمارے مُلک کا ایک عظیم سرمایہ تھے۔ اُن کے علاوہ میں ڈاکٹر روتھ فائو سے ملنا چاہتا تھا۔ اصل میں مجھے بے لوث لوگوں سے ملنے کا بہت شوق ہے۔ نیز، میں ڈونلڈ ٹرمپ سے مل کر جاننا چاہتا ہوں کہ اُن کی شخصیت اتنی متنازع کیوں ہے؟

س: اخبار کا کون سا حصّہ سب سے پہلے پڑھتے ہیں اور کیوں؟

ج: اہم خبروں سے آگاہی کے لیے پہلے صفحۂ اوّل پڑھتا ہوں، اس کے بعد کالمزوغیرہ۔ حامد میر صاحب کے کالمزمجھے بہت پسند ہیں۔

س: زندگی کا کون سا دَور سب سے اچھا لگتا ہے؟

ج: اگرچہ زیادہ تر لوگوں کواپنا بچپن اچھا لگتا ہے،تاہم میری نظر میں جوانی کا دَور سب سے اچھا ہے کہ جوانی بااختیار ہوتی ہے۔

س: عشق و محبت کا زندگی میں کس حد تک دخل ہے؟ خود کبھی عشق کیا؟

ج: عشق نہیں کیا، تاہم، محبت مجھے کئی بار ہوئی اور مَیں سمجھتا ہوں کہ محبت کے بغیر زندگی بے معنی ہے۔

س: شادی کب کی؟ اپنی پسند سے کی یا والدین کی مرضی سے؟

ج: 2016ء میں اپنی پسند سے شادی کی، جس میں والدین کی مرضی بھی شامل تھی اور ماشاء اللہ مارچ 2019ء میں میرا بیٹا عرش علی سیّد پیدا ہوا۔ میری اہلیہ انعم کاظمی کا تعلق لاہور ہی سے ہے۔ شادی سے قبل وہ بھی ایک نجی ٹی وی چینل سے بہ طور نیوزمارننگ ہوسٹ وابستہ تھیں۔

س: زندگی میں کسی اور ملک جابسنے کا موقع ملے، تو کہاں رہنا پسند کریں گے؟

ج: امریکا میں رہنا پسند کروں گا، کیوں کہ وہاں کی تمام چیزیں حقیقت سے قریب تر ہیں۔

س: کون سی ڈشز اچھی لگتی ہیں یا خود بناسکتے ہیں؟

ج: مجھے کچھ بھی پکانا نہیں آتا، تاہم کھانے میں جاپانی سی فوڈز سوشیز، ڈمپلینز اور ڈم سم وغیرہ بہت پسند ہیں۔

س: کتب/ شاعری سے شغف ہے؟ کس مصنّف یا شاعر کو پڑھنا پسند کرتے ہیں؟

ج: شاعری سُننے کی حد تک پسند ہے۔ کُتب میں طنزو مزاح پر مبنی کتابیں پسند ہیں، مشتاق احمد یوسفی اور شفیق الرحمٰن کو بہت شوق سے پڑھا ہے۔

س: کس بات پر غصّہ آتا ہے؟ آئے تو ردِ عمل کیا ہوتا ہے؟

ج: مجھے ناانصافی پر بہت غصّہ آتا ہے، مگر جب آتا ہے، تو کوشش کرتا ہوں کہ روّیہ منفی نہ ہو۔

س: فیصلے درست کرتے ہیں؟ دل کی سُنتے ہیں دماغ کی؟

ج: فیصلے کرتے وقت دماغ کی سُنتا ہوں، لیکن عمل دل سے کرتا ہوں۔

س: محبت، دولت اور شہرت میں سے آپ کا انتخاب؟

ج: دولت۔ کیوں کہ ماں کی سچّی محبت کے علاوہ دنیا کی ہر محبت دولت سے خریدی جاسکتی ہے۔

س: خوشیاں کرنسی سے ملتیں، تو کیا چیز خریدتے؟

ج: ورلڈ ٹور پر نکل جاتا۔

س: پریشانی سے نکلنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟

ج: ورزش۔

س: زندگی کا سخت ترین دَورکون سا ہے؟

ج: زندگی کا سب سے سخت ترین دَور میری ماں کی وفات کا اور دوسرا جب میں کراچی آیا اور ڈینگی کا شکار ہوکر دو ہفتے بستر پر پڑا رہا۔ اس دوران میرے ساتھ نہ تو گھر کا کوئی فرد تھا، نہ کوئی سنگی ساتھی۔ تنِ تنہا ہی بیماری سے نبرد آزما رہا۔ کوئی خیال رکھنے والا نہیں تھا اور مجھ میں خود سے اٹھنے کی سکت تک نہیں تھی۔

س: تنقید کے کس حد تک قائل ہیں؟ کوئی آپ پر تنقید کرے، تو کیسا لگتا ہے؟

ج: تنقید کا میں بالکل قائل نہیں ہوں، ہاں، اصلاح پر یقین رکھتا ہوں۔ آپ کسی کی اصلاح کرسکتے ہیں، تو تنقید بھی کریں۔

س: بچپن کی یادیں، کوئی ناقابلِ فراموش واقعہ؟

ج: بچپن میں، مَیں اپنی فیملی کی ساتھ اکثر مَری گھومنے جاتا تھا، اُس دَور کی بہت سی خوش گوار یادیں ناقابلِ فراموش ہیں۔ ہم لوگ اکثر کشمیر پوائنٹ کے ایک ریسٹ ہائوس میں ٹھہرتے تھے۔ صبح ناشتے کا سامان ریسٹ ہائوس کے قریب دستیاب نہیں ہوتا تھا،تو اس کے لیے مال روڈ جانا پڑتا تھا۔ گھر والے سامان لینے کے لیے مجھے اور میرے کزن کو بھیجتے تھے، ہم جوتے پہن کربھاگتے ہوئے جاتے اور اسی طرح بھاگتے ہوئے واپس آتے تھے۔ ایک روز ہم اسی طرح بھاگتے ہوئے آرہے تھے کہ اچانک سامنے سے دو خونخوار کتّے ہماری طرف لپکے، انہیں دیکھ کر ہم مزید تیزی سے بھاگنے لگے، سرپٹ بھاگتے ہوئے کئی لوگوں سے ٹکرائے، اس دوران ایک خاتون، جو بڑا سا تھیلا لیے خراماں خراماں چلی جارہی تھیں، ہمارے ٹکرانے سے ان کا تھیلا گرا، تو سارا سامان سڑک پر بکھر گیا۔ وہ واقعہ آج بھی دل و دماغ میں تازہ ہے۔

س: والدین کی محبت کو کس طرح بیان کریں گے؟ خصوصاً ماں کی؟

ج: ماں کی محبت کا تو کوئی نعم البدل ہو ہی نہیں سکتا۔ ماں اپنی اولاد پر جان نچھاور کرسکتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی کی دھوپ میں باپ جیسا ٹھنڈا سایہ بھی کوئی نہیں۔

س: گھر والوں کو آپ کی کون سی عادت پسند، کون سی ناپسند ہے؟

ج: میرے والد کہتے ہیں کہ مَیں اپنے رشتوں میں مخلص ہوں، انہیں یہ پسند ہے کہ میں انہیں خوش رکھنے کے لیے تگ و دو کرتا ہوں۔

س:کوئی ایسی یاد، جسے دل سے جدا نہیں کرنا چاہتے؟

ج: اپنی مرحومہ ماں کی یاد۔

س: کوئی ایسا کام، جسے لاکھ کوشش کے باوجود مکمل نہ کرسکے ہوں؟

ج: پی ایچ ڈی۔ پی ایچ ڈی کے حوالے سے میں کورس ورک مکمل کرچکا تھا۔ کمپری ہینسو ایگزام بھی کمپلیٹ ہوچکا تھا، یعنی جتنے امتٖحانات دینے تھے، وہ دے چکا تھا، صرف تھیسس کا کام باقی رہ جانے کے باعث پی ایچ ڈی کا خواب اب تک ادھورا ہے۔

س: موسیقی کا شوق کس حد تک ہے؟

ج: موسیقی میں ورزش کے دوران سُنتا ہوں۔

س: پہلی بار سنیما میں فلم کب دیکھی تھی اور کون سے اداکار اچھے لگتے ہیں؟

ج: سنیما میں پہلی بار جراسک پارک دیکھی تھی۔آج کل میرا فیورٹ ایکٹر رابرٹ ڈائونی جونیئر ہے۔

س: ای میلز چیک کرتے، میسجز کا جواب دیتے ہیں؟

ج: جی ہاں، میلز باقاعدگی سے چیک کرتا ہوں، جوابات بھی دیتا ہوں۔

س: آپ اچھے دوست ہیں یا آپ کے دوست اچھے ہیں؟

ج: میرے دوست زیادہ اچھے ہیں۔

س: فارغ اوقات کے کیا مشاغل ہیں؟

ج: فارغ اوقات میں شطرنج کھیلتا ہوں۔

س: ذہین شخص کی رفاقت مزہ دیتی ہے یا پُرمزاح شخص کی؟

ج: مزہ تو پُرمزاح شخص کی رفاقت ہی میں ہے۔ ہاں، ذہین شخص سے آپ متاثر ہوسکتے ہیں۔

س: سیاست کے بارے میں کیا خیال ہے، کبھی کوئی اہم عہدہ مل جائے، تو پہلا کام کیا کریں گے؟

ج: اگر ایسا ہوا، تو سب سے پہلا کام مُلک میں صدارتی نظام کے نفاذ کی کوشش کروں گا، کیوں کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، کبھی جمہوریت کو پنپتے نہیں دیکھا۔ ہم پُتلیوں کو پسند نہیں کرتے، بلکہ پُتلی تماشا کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں، تو پھر میرے نزدیک ایسے میں صدارتی نظام ہی بہتر ہے۔

س: کون سے کھیل، کھلاڑی اچھے لگتے ہیں؟

ج: فٹ بال میں رونالڈو، کرکٹ میں وسیم اکرم اور موجودہ کرکٹ ٹیم کاکھلاڑی حسن علی بہت اچھا لگتا ہے، وہ بہت جفاکش ہے، اس کا اسٹائل اچھا لگتا ہے، جب کہ معروف ریسر، یوسین بولٹ بھی میرے پسندیدہ کھلاڑیوں میں شامل ہے۔

س: کوئی ایسا دن جس کے بار بار آنے کی خواہش ہو؟

ج: کام یابی کا دن۔

س: آپ کی کوئی انفرادیت؟ اپنی شخصیت کو کس طرح بیان کریں گے؟

ج: ہمیں ہماری تگ و دو، ہماری جدوجہد ہی منفرد بناتی ہے۔ اگر مجھ میں کوئی فرق ہے تو وہ جستجو کا فرق ہے۔ مَیں ہر وقت کام یابی اور مقصد کے حصول میں لگا رہتا ہوں۔ میری شخصیت میں فراغت بالکل بھی نہیں ہے۔

والد، فرسٹ کلاس کرکٹر، مجھے شغف نہیں 

میرے والد کو کرکٹ سے بہت لگائو تھا، وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں، لیکن مجھے کرکٹ کھیلنے کا کچھ زیادہ شوق نہیں تھا، لیکن چوں کہ وہ کھیلا کرتے تھے، تو مجھے بھی صحت مند رکھنے کے لیے اپنے ساتھ لے جاتے۔ جب کہ مجھے کمپیوٹر کا بہت شوق تھااورٹیکنالوجی کی طرف رجحان زیادہ تھا، تو اکثر جب وہ مجھے کرکٹ کھیلنے کے لیے لے جانا چاہتے، تو مَیں آنکھیں مِیچ کر لیٹ جایا کرتا تھا، حالاں کہ انہیں پتا ہوتا تھا کہ میں یہ جان بوجھ کر کررہا ہوں، مگر وہ کچھ کہتے نہیں تھے۔

دونوں میں اچھی ذہنی ہم آہنگی ہے


میری اہلیہ انعم کاظمی اگرچہ بیٹے کی پیدایش کے باعث گھریلو ذمّے داریاں نبھانے میں لگ گئی ہیں، لیکن مستقبل میں اگر وہ کسی چینل میں کام کرنا چاہیں گی، تو منع نہیں کروں گا۔

ان پر کوئی روک ٹوک نہیں، وہ اگرکام کرنا چاہیں، تو میری طرف سے اجازت ہے، نہ کرنا چاہیں، تو ان کی مرضی۔ ویسے ہم دونوں میں کافی اچھی ذہنی ہم آہنگی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید