آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ18؍ربیع الاوّل1441ھ 16؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تفہیم المسائل

سوال: میرے شوہر نے مجھے نکاح کے بعد طلاق کا حق دے رکھا ہے، جس کے بعد ایک موقع پر میں نے اپنے شوہر کے فون پر SMS کیا: ’’ میں تمہیں طلاق دیتی ہوں ،طلاق دیتی ہوں ،طلاق دیتی ہوں‘‘،کیا اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ؟ (طیبہ یاسمین ،گجرات )

جواب: شریعت کا منشا یہ ہے کہ زوجین خوشگوار ازدواجی زندگی گزاریں،لیکن اگر کبھی حالات نامساعد ہو جائیں اور زوجین کا اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے رشتۂ نکاح کو جاری رکھنا دشوار ہوجائے اور نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے تو شوہر کو یہ حکم ہے کہ’’تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ‘‘ کرتے ہوئے طلاق دے کربیوی کو اپنی زوجیت سے علیحدہ کر دے ۔شوہر کو طلاق کا اختیار اس لیے دیا تاکہ طلاق کم سے کم واقع ہو کیونکہ عورت فطری طورپر جلدباز ہوتی ہے اور بسا اوقات بغیر سوچے کوئی فیصلہ کرلیتی ہے اور بعد میں اسے افسوس ہوتا ہے ،اس کے مقابل مرد نتیجے پر بھی غور کرتا ہے۔

شوہر کی طرف سے تفویض کیے جانے پر بیوی کو طلاق کا اختیار حاصل ہوجاتاہے ،لیکن اس اختیار کی صورت میں وہ خود پر طلاق واقع کرے گی، شوہر کو طلاق نہیں دے سکتی،جبکہ آپ نے سوال میں جو صورت درج کی ہے ، اس کے مطابق بیوی نے شوہر کو تین بار کہا: ’’ میں تمہیں طلاق دیتی ہوں ‘‘، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:’’ اگر مرد نے عورت کو طلاق کا مالک بنایا ،عورت نے مردکو طلاق دے دی ،تو طلاق واقع نہیں ہوگی‘‘۔

نیز تفویضِ طلاق کا حق استعمال کرنے سے پہلے دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ تفویض شرعی شرائط کے مطابق ہے اور شوہر کی طرف سے تفویضِ طلاق کا حق دائمی ہے ،نیز شوہر نے کتنی طلاق کا حق تفویض کیاہے ۔ اس کے کلمات فقہائے کرام نے یہ بتائے ہیں کہ شوہر نکاح منعقد ہونے (یعنی ایجاب وقبول) کے بعد بیوی سے کہے : ’’تم جب کبھی بھی چاہو اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہو ‘‘۔ ان الفاظ سے صرف ایک طلاق کا حق عورت کو حاصل ہوگا ،جب تک تین طلاق کی صراحت نہ ہو ۔ اسی طرح ایجاب وقبول اور نکاح منعقد ہونے سے پہلے جو نکاح نامے کے کالم میں لکھ دیاجاتاہے :’’ شوہر نے طلاق کا حق بیوی کو تفویض کردیاہے‘‘، یہ شرعاً غیر مؤثر ہے، کیونکہ ایجاب وقبول اور انعقاد نکاح سے پہلے وہ عورت اس کی بیوی بنی ہی نہیںاور خود اس کو(نکاح سے پہلے ) اُس وقت طلاق کا اختیار نہیں ہوتا تووہ یہ حق بیوی کو کیسے تفویض کرسکتا ہے، کیونکہ خود شوہر کو یہ حق نکاح منعقد ہونے کے بعد حاصل ہوتاہے ،اس پرہم تفصیلی طورپر لکھ چکے ہیں ۔آپ کے سوال میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ شوہر نے تین طلاقوں کا حق تفویض کیاہے ،جو الفاظ سوال میں مذکور ہیں ان کے مطابق توصرف ایک طلاق کا حق تفویض کیا گیا ہے ، اس لیے آپ کو تین طلاق کا حق حاصل ہی نہیں ہے اور ایک طلاق کاحق بھی اس صورت میں کہ تفویض ِ طلاق شریعت کے مطابق ہوئی ہو ۔خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آپ کا نکاح بدستور قائم ہے ۔

اقراء سے مزید