آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر13؍ربیع الاوّل 1441ھ 11؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان کو اب بھی مشکل حریف کا سامنا ہے

سید رازم شاہ(پشاور)

پاکستان کی ٹیم کی انتظامیہ نے قوم کو ورلڈکپ میں جانے سے پہلے بڑے سہانے خواب دکھائے تھے خاص طور پر سے چیف کوچ مکی آرتھر نے جو کہ ماضی میں ایک ناکام کوچ سے پہچانے جاتے ہیں تعلق ان کا جنوبی افریقا سے ہے وہاں کی قومیت تھی مگر خراب کارکردگی کی وجہ سے وہاں سے نکالے گئے اور پھرآسٹریلیاکی شہریت لےکر وہاں کے کوچنگ کے فرائض انجام دینے لگے مگر آسٹریلین بھی نالاں ہوگئے اور ان کی چھٹی کردی اب یہ پاکستان میں رہائش پذیر ہونے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ یہاں ان کا کوئی احتساب نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ کر کٹ بورڈ میں اعلی عہدے دار سے لے کر اکثر کوچنگ اسٹاف بھی باہر سے ہی آئے ہوئے ہیں، بولنگ کوچ اظہر محمود اور ٹیم انتظامیہ نے ورلڈ کپ میں جانے سے قبل کہا تھا کہ ہم نے ایک بہت اچھا اور تیز بولر نکالا ہے محمدحسنین جو کو ابھی تک ورلڈکپ کا ایک میچ بھی نہیں کھیلا ہے ۔ رہ گئے بیٹنگ اور بولنگ کوچ کے کارنامے تو وہ سب کے سامنے ہیں۔ چیف سلیکٹر نے شاید کرکٹ کھیل کر اتنا پیسہ نہیں کمایا جتنا چیف سلیکٹر بن کر کمایا۔ دوسال پہلے چیمپینزنز ٹرافی جیتنے پر ایک کروڑ ملے، ریٹائرہونے پر بھی ایک کروڑ لیے۔ ٹیم کے ساتھ ان کا سفر بزنس کلاس میں، قیام فائیو ہوٹل میں، ڈیلی الاؤنس کی مدد میں خطیر رقم ڈالر کی شکل میں۔ ان کے دور میںعابد علی، خرم منظور، شان مسعود یا احمد شہزادجیسے اوپنرز میں کوئی ناکوئی نقص نکال کر انہیں ٹیم سے باہر کردیا گیا ۔ یہ جب کپتان تھے تو پاکستانی ٹیم آئر لینڈسے ہا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی تھی۔ماضی کے چیف سلیکٹرز امتیازاحمد(مرحوم) جاویدبرکی، صلاح الدین صلو، اقبال قاسم ،ماجدخان، ڈاکٹرظفرالطاف مرحوم، اعجازبٹ اور کئی دوسرے چیف سلیکٹرز کا طریقہ یہ ہوتا تھاکہ بہترین ٹیم منتخب کرکے کپتان کو دے دیتے تھے جوٹورسیکشن کمیٹی کی مشاورت سے حالات کے پیش نظر یعنی پچ کا تجربہ، موسم کی صورتحال اورمدمقابل کی قوت دیکھ کر گیارہ کھلاڑیوں کاانتخاب کرتا تھا۔ ٹیم منیجر ایک عرصے سے ٹیم سے چپکے ہوئے ہیں، ان کا کام ہے کہ لڑکوں کو قابو میں رکھیں ہر کھلاڑی اپنے من پسند دوستوں کے گھر دعوتیں اڑارہے ہیں اور ٹیم حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں،اگر کرفیو کا وقت رات 11 بجے مقررکیا گیا ہے تو لڑکے دیر سے کیوں آئے اتناکمزور دور شاید ہی پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں آیا ہو، اب ایک بار پھر ورلڈ کپ کے بعد پاکستان کر کٹ میں وسیم باری، محسن خان سمیت کچھ کھلاڑیوں کو عہدے ملنے کی اطلاعات ہیں دیکھے آگے کیا ہوتا ہے،ورلڈ کپ میں جنوبی افریقا کے خلاف جیت خوش آئند ہے مگر ابھی ہماری خوش فہمی کا دور شروع نہیں ہوا ہے، مشکلات اب بھی ہیں، نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش اور افغانستان آسان حریف نہیں ہیں، بنگلہ دیش اور افغانستان کی کار کردگی حیران کن ہے ، اس لئے ہمیں بہت سنبھل کر آگے بڑھنا ہوگا۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید