آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کراچی کے بارے میں کافی عرصے سےشہری منصوبہ بندی اور دیگر شعبوں کے ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ شہر اپنے بڑھتے ہوئے گوناگوں مسائل کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔لیکن اب تو بعض ماہرینِ ارضیات اور آب پاشی اس خطرے کا اظہار کررہے ہیں کہ کراچی میں جس تیزی سے زیرِ زمین پانی نکالا جارہا ہے اس کی وجہ سے عروس البلادکے سمندر کے پانی میں دھنس جانے کے خطرات پیدا ہونے لگے ہیں۔

ماہرِ ارضیات پروفیسر جمیل حسن کے بہ قول کراچی میں گلی گلی آر او پلانٹ لگاکر زیرِ زمین پانی چوری کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے شہر کے لیے ارضیاتی خطرہ بڑھ سکتا ہے اورچند برسوں میں پانی کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب ماہرِ آبی امور، ناصر پنہور کا کہنا ہے کہ زیرِزمین پانی چوری کرکے دھڑلّے سے بیچا جارہا ہے ، لیکن انتظامیہ بے فکر ہے اور ریتی، بجری کابلا روک ٹوک جاری کاروبارقدرتی ندی نالوںکو خشک کرچکا ہے۔واضح رہے کہ صوبہ سندھ میں زیرِ زمین پانی نکالنے کا کوئی قانون نہیں ہے اور شہر میں اس طرح زیرِ زمین پانی نکالنے سے خطرہ ہو سکتاہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین پانی ختم ہو جانے کے بعد شہر میں خطرناک صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ایک تازہ رپورٹ کے مطابق شہر بھر میں گلی گلی بورنگ کیے جانے سے زیرِ زمین پانی ختم ہونے لگا ہے ۔ پہلےزیر ِزمین پانی چالیس،پچاس فیٹ تک بورنگ کرنے پر دست یاب تھا،لیکن اب اس کے لیے دو سو فیٹ کی گہرائی تک بورنگ کی جارہی ہے۔یاد رہے کہ عدالت کے حکم پر بنائے گئے واٹر کمیشن نے سب سوائل واٹر پر پابندی عاید کی تھی۔ تاہم شہر بھر میںفلٹرڈ واٹر کے نام سے زیرِ زمین پانی کی فروخت کا منافع بخش کاروبار عروج پر ہے جسے شہری حلقوں نے ٹینکر اور ہائیڈرنٹس مافیا سے بڑا مافیا قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال کٹاس راج کیس میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ زیرِ زمین پانی پر صرف سرکار کا حق ہے، کوئی بھی اس پانی کو حکومت کی مرضی کے بغیر استعمال نہیں کرسکتا ،بہ صورتِ دیگر پانی چوری کی ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود کراچی کا زیرِزمین پانی چوری کرکے دھڑلّے سے بیچا جارہا ہے،لیکن انتظامیہ سب کچھ جان کر بھی انجان بنی ہوئی ہے۔ماہر ارضیات پروفیسر ڈاکٹر جمیل حسن کے مطابق کراچی میںپہلے زراعت کے لیے زیرِ زمین پانی استعمال ہوتا تھا جس میںاب پچاس فی صد تک کمی آچکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریتی بجری کے کاروبار نےتمام قدرتی ندی نالوں کو خشک کردیا ہے۔ ان کے مطابق جب پانی کے لیے زیادہ گہرائی تک بورنگ کی جاتی ہے تو پھر زیرِ زمین پانی آہستہ آہستہ ختم ہوتاجاتا ہے جس سے کراچی کے سمندر میں دھنس جانے کے خطرات ہیں۔

گرمی کی شدّت میں جوں جوں اضافہ ہوتا جارہا ہے ویسے ویسے کراچی میں پانی کا بحران بڑھتا جارہا ہے۔ان دنوں شہر میں روزانہ کسی نہ کسی مقام پر پانی اور بجلی کے بحران سے متاثرہ شہری احتجاج کررہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ریاست کہیں نظر نہیں آتی۔لیکن جینا تو ہے۔ چناں چہ لوگوں کو اپنے طور پرہی مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ یو پی ایس اور جنریٹرخریدنے اور بورنگ کروانے یا کنواں کھدوانے پر مجبور ہیں۔کنواں کھدوانے کے لیے چوں کہ زیادہ جگہ اور رقم کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اب زیادہ تر افراد بورنگ کرانے کو ترجیح دیتے ہیں۔موسم کی شدّت میں جوں جوں اضافہ ہورہا ہے بورنگ کرنے والوں کا محنتانہ اور نخرے بھی بڑھتےجارہے ہیں۔دوسری جانب بعض حلقے شہر میں بورنگ اور کنووں کی بہت تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد سے پیدا ہونے والے ممکنہ ارضیاتی اور ماحولیاتی مسائل کے ضمن میں تشویش کا شکار ہیں۔

خطرات کے تذکرے

ان دنوں شہرمیںپڑھے لکھے بعض افراد نجی محفلوں میںاس ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے مل جاتے ہیں ۔ بعض ماہرین کے مطابق کراچی شدید خطرے کی لپیٹ میں ہے۔اس کے باسیوں کو پانی کی شدیدقلت کےمسئلے کا سامنا ہے جس کاحل بورنگ کے ذریعے نکال لیا گیا ہے-لیکن اس پانی میں معدنیات یا نمکیات کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہونے اور اس کے حیاتیاتی طورپرآلودہ ہونے کے سبب یہ پانی انسانی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے ۔ بورنگ سے نہ صرف زیرِزمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے بلکہ یہ عمل زمین کو کھوکھلا کر رہا ہےجو کسی بھی وقت زمین دھنسنے کا سبب بن سکتا ہے،یعنی سِنک ہولز بننے کے خطرات ہیں۔

سِنک ہولز بننے کا خطرہ

دوسری جانب جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ کراچی کی زیرِزمین چٹانیں چونےکے پتھر،ریت اور چکنی مٹی پر مشتمل ہیں۔ پاکستان کے دیگر شہروں کی نسبت کراچی میں کنوؤں کی کھدائی اور بورنگ کی شرح بہت زیادہ ہے۔

ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ سِنک ہول ایک ارضیاتی عمل ہے ۔ سنک ہول بننے کا عمل سطح زمین پر ظاہر ہونےسےپہلے شروع ہوجاتاہے۔یہ عمل زیادہ تر زیر ِزمین موجود ریت اور چٹانوں میں ہونے والے تغیّرات کا نتیجہ ہوتاہے۔ زیرِزمین موجود پانی کی سطح کم ہونے، بارشوں میں کمی یا مختصر مدت کے لیے بارش کا بہت زیادہ ہونا سِنک ہول بننے کی فطری وجوہات ہیں۔ چونے کے پتھروں کے گُھلنے سے پانی تیزابی ہو جاتا ہےاور یہ پانی چٹانوں میں شگاف بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قحط سالی اور اس کے بعد ہونے والی شدید بارش اور زیرِزمین موجودپا نی زیادہ مقدار میں نکالنے سے دنیا کے کئی مقامات پر یہ شگاف بڑھ رہے ہیں۔

کراچی میں بڑھتے ہوئے ارضیاتی خطرات کے ضمن میں وہ بڑی بڑی عمارتیں ب بھی اہم وجہ قرار دی جارہی ہیں جو ساحل پر بنی ہیں کیوں کہ وہ ریت کو جلد خشک کرکےتعمیر کی گئ ہیں۔ایسی ریت پوری طرح کمپریسڈ نہیں ہوپاتی، لہذا اس میں چھوٹے چھوٹے خلا بن جاتےہیں جو کراچی کو سِنک ہول کے خطرے کی جانب لے جا رہے ہیں۔

ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق زیرِ زمین ایکوا فرز (زیرِ زمین موجود پانی کے ذخائر)میں پانی کی مقدار خطرناک حد تک کم یاختم ہوچکی ہے۔گنجان آبادی والے ممالک، جیسے بھارت، پاکستان اور شمالی افریقا میں ایکوا فرز کی صورت حال زیادہ خراب ہے۔بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ لانڈھی، کورنگی اور ڈیفنس میںوقتا فوقتا آنے والے معمولی زلزلے بھی ایکوافرزمیں پانی کی کمی سے ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔

ماہرینِ ارضیات کے مطابق سِنک ہول زمین کی طرح سمندر میں بھی بنتے ہیں۔ زمین پر بننے والے سِنک ہول نہ صرف اُس علاقے کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ زیرِزمین پانی کا رُخ بھی تبدیل کردیتے ہیں۔گنجان آباد علاقوں میں بننے والے خلاؤں سے جانی اور مالی نقصان ہوسکتا ہے۔ ان کے بہ قول بعض خلاٰٰ سیوریج لائن اور برساتی نالوں کے رسنے سے بھی بنتے ہیں۔ ایسے خلا سے نقصان بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ زمین میں موجود زہریلے کیمیکلز سطح زمین پر آکر پینے کے پانی کوبھی خراب کرسکتے ہیں۔

کوئٹہ اور میکسیکو سٹی کی مثالیں

بعض حلقے چند برس قبل منظرِ عام پر آنے وال اس خبر کا حوالہ بھی دیتے ہیں جس میں کہا گیاتھا کہ کوئٹہ میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہونے سے کئی علاقوں کی زمین میں دراڑیں پڑگئی ہیں اور یہ شہر سالانہ 10 سینٹی میٹر کے حساب سے دھنس رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق ملک کا نواں بڑا شہر اور 28لاکھ سے زاید آبادی کا حامل کوئٹہ پانی کی شدید قلت کے سنگین خطرے سے دوچار ہے۔وہاں یومیہ ضرورت کا 94 فی صد یعنی ڈھائی کروڑ گیلن سے زاید پانی ٹیوب ویلز کی مدد سے زمین سے نکالا جارہا ہے جس کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح ماہانہ ایک سے ڈیڑھ فیٹ گررہی ہے۔ بعض مقامات پر زیرِ زمین پانی ایک ہزارفیٹ کی گہرائی تک جاچکا ہے۔

جامعہ بلوچستان کے ماہرین نے امریکی ماہرین ماحولیات کی مدد سے کی گئی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کوئٹہ میںزیرِ زمین موجودپانی کی سطح گرنے سے زمین کی تہہ میں خلاپیدا ہوگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے لیے اقدامات نہیں کیےگئے تو چند برسوں میں وادی کوئٹہ اور دیگر اضلاع کے لوگ نقل مکانی پرمجبور ہوجائیں گے۔

اس ضمن میں میکسیکو سٹی کی بھی مثال دی جاتی ہے جو سطح سمندر سے سات ہزار ساڑھے تین سو فیٹ کی بلندی پہ واقع دنیا کا بلند ترین اور بہت تیز رفتار سے آباد ہونے والا شہر ہے۔ اس کی آبادی دو کروڑ سے زاید نفوس پرمشتمل ہے۔ اسے دیکھ کر کسی کواس حقیقت پر بہ مشکل ہی یقین آئے گا کہ یہ عظیم شہر اپنی بقا کی جنگ میں فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ چکا ہے اوریہ رفتہ رفتہ دھنس رہا ہے۔اس کے غیر محسوس طریقے سے زیرِزمین دلدل میں دھنسنے کے بارے میں رپورٹس نصف صدی قبل ماہرینِ ارضیات نے جاری کی تھیں۔لیکن اس وقت انہیں در خورِ اعتنا نہیں سمجھا گیا تھا ۔تاہم ان کی صداقت اس وقت ثابت ہوئی جب 1950ء میں شہر کے وسیع وسطی علاقے کئی فیٹ بلند سیلابی پانی میں ڈوبنے لگے۔ یہ علاقے بیس برس میں بیس فیٹ تک زمین میںدھنس گئے۔دھنسنے کی یہ رفتار غیرمعمولی طور پر تیز تھی۔ شہر کے فٹ پاتھس اور سڑکیں ایک دن ہم وار دکھائی دیتیں تو اگلے ہی دن ان میں نشیب و فراز نمایاں ہوجاتے۔اکثر عمارتیں پیسا ٹاور کی طرح ایک طرف جھک گئیں، لہذا بعض عمارتیں گرانا پڑیں۔ سنگِ مرمر سے تعمیر شُدہ پیلس آف فائن آرٹس جو1935ء میں مکمل ہوا تھا، پندرہ برس کے دوران اتنا زمین میں دھنس گیا کہ اس کی دوسری منزل سطحِ زمین تک آ پہنچی۔ اس کے آس پاس کی زمین بھی دلدلی ہوتی جا رہی تھی۔

اس شہر کے دھنسنے کی رفتار 1951ء میں اتنی تیز ہوگئی کہ اسے روکنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا پڑا۔ لیکن سر توڑ کوششوں کے باوجود دھنسنے کی رفتار کم نہیں کی جاسکی۔ چناںچہ میکسیکو کا دارالحکومت پانچ تا آٹھ اِنچ فی برس کے حساب سے زمین میں دھنستا رہا۔ ماہرینِ ارضیات و ماحولیات کے مطابق اس شہر کے دھنسنےکا سبب پانی کی قلت ہے۔ صدیوں تک اس شہر کو کنوئوں کے ذریعے پانی مہیا کیا جاتا رہا۔ رفتہ رفتہ آبادی میں زبردست اضافے کے ساتھ پانی کی طلب اور استعمال میں بھی اضافہ ہوا۔ پانی کھینچنےسے زمین دھنسنے کا عمل شروع ہوگیا۔

میکسیکو سٹی آتش فشانی سلسلہ ہائے کوہ، ایناہواک کی وادی میں پھیلاہواہے۔پہلےیہاںبہت سی جھلیں تھیں ۔ پہلے وہاںکئی نہریںاور آب گاہیں تھیں۔اس لیے نقل و حمل کے واسطے کشتیاں اور بجرے استعمال ہوتے تھے ۔ 1521ء میں ہسپانوی بحری مہم جوئوں نے اس شہر پر قبضہ کیا، تواتھلے پانیوں والی جھیلوں کا پانی نکال نکال کر انہیں پاٹ دیا ۔اس دوران ہسپانوی ایندھن اورچاندی کی کانوں میں استعمال کرنے کے لیے مسلسل درخت کا ٹتے رہے۔ چنا ں چہ گرد و غبار کے طوفانوں کے ساتھ جو سیلاب آتے وہ اس لیے بہت تباہی مچاتے کہ پہاڑی ڈھلانوں پر انہیںروکنے والے درخت نہیں رہے تھے۔ اگلی پانچ صدیوں میںشہر کی آبادی میں اضافہ ہوتا رہا۔ 1930ء میں یہ دس لاکھ تک پہنچ گئی۔ بیس برسوںمیں تین گنا بڑھی۔ پھر اگلے پندرہ برسوںمیں دو گنا۔ ساتھ ساتھ شہر کے دھنسنے کا عمل بھی جاری رہا۔ پھر اس نے لوگوں کو چونکاناشروع کر دیا۔ 1880ء سے1938ءتک دھنسنے کا عمل ڈیڑھ اِنچ فی برس تھا۔ لیکن اگلے آٹھ بر سو ں میں یہ آٹھ فیٹ تک زمین میں دھنس چکا تھا۔اب یہ عمل مقامی باشندوں کو خوف زدہ اور پریشان کرنے لگا۔پانی کے ذخائر ٹوٹنا پھوٹنا شروع ہوگئے۔ 1900ء میں شہر کے گندے پانی کی نکاسی کے لیے تیس میل لمبی نہر کھودی گئی جو ڈھلوانیں اترتی دور پہاڑوں میں بنائی گئی سرنگ میں جا داخل ہوتی۔ یوں استعمال شُدہ پانی شہر میں یا اس کے قرب وجوار میں نہ ٹھہرتا۔اس کے باوجود 1950ء میں شہر بیس فِیٹ تک دھنس گیا اور گندا پانی پمپس کے ذریعے نہر میں ڈالنا پڑا۔ انجینئرزنے خبردار کیا کہ بھاری بارشیں یا پمپنگ میں ذرا سا بھی تعطل تباہ کن ثابت ہوگا ۔ 1951ء میں آنے والے سیلاب نے یہ بات واضح کر دی کہ ہنگامی اقدام کی واقعی ضرورت ہے۔1952ء میں ارنسٹوارچرو جب میکسیکو سٹی کا میئر بنا تو اسے دو سنگین قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اوّل پانی کی پائپس کے ذریعے فراہمی، تاکہ کنوئوں سے پانی کھینچا جانا ممنوع قرار پائے۔ دوم، گندے پانی کی تیز رفتار نکاسی کا انتظام ۔ اس نے شہر میں مختلف مقامات پر بڑے بڑے تالاب بنوائے تاکہ بارشوں کا پانی ان میں ذخیرہ ہوسکے ۔ پھر اسے پمپس کے ذریعے شہر سے باہر نکال دیا جاتا۔ اس نے شہر کے گرد بڑے بڑے نالے بھی تعمیر کرائے تاکہ پہاڑوں سے آنے والا پانی شہر میں داخل نہ ہو سکے۔ اس نے تیس کے قریب نئے پمپنگ اسٹیشنز بھی بنوائے۔ نیز نجی ملکیت کے چھے ہزار کنوئوں میں سے پانچ ہزار بند کرا دیے۔ یوں شہر کے دھنسنے کا عمل وقتی طور پر رُک گیا۔

ان تمام اقدامات کے باوجود 1962-63ء کی تیز و تند بارشوں نے بڑی نہر کو لبالب بھر دیا۔ اگر اس پانی کی سطح چند اِنچ اور بلند ہوجاتی تو تمام شہر پانی میں ڈوب جاتا۔ شہر کے باہر جو چند سو نئے کنوئیں کھودے گئے تھے‘ ان کی وجہ سے شہر کے دھنسنے کا عمل پھرشروع ہو گیا۔ چودہ برس کی سخت ترین کوششوں کے باوجود اب بھی بہت کچھ کرنا باقی تھا۔

ماہرین کے مطابق زمین سے کوئلہ اور تیل نکالنے کی وجہ سے سطحِ زمین ناہم وار اور بھربھری ہوجاتی ہے۔ اس میں کٹائو اور دھنسنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن میکسیکو سٹی ہی دنیا میں ایسی واحد مثال ہے جہاں سطحِ زمین کے بگاڑ کا سبب زیرِ زمین پانی کی گھٹتی ہوئی سطح ہے۔اس شہر سے تعلق رکھنے والے ایک انجینیئرکے بہ قول پمپس سے کھینچا جانے والا ایک گیلن پانی بھی زمین میں سوراخ کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ سےزیرِ زمین مٹی میں شگاف پڑ جاتے ہیں اور سطح زمین اسی تناسب سے دھنس جاتی ہے۔ اب وہاں یہ حال ہو چکا ہےکہ سو فیٹ کی گہرائی میں جابہ جا مٹی کے چھوٹے چھوٹے جزائر بن چکے۔ ان میں سے بعض اتنے مضبوط ہیں کہ عمارتوں کی بنیادوں کو بہ خوبی سہار سکتے ہیں۔ کئی مقامات پر زمین دلدل کا روپ دھار چکی ہے۔ ان مقامات پر جو تعمیرات ہو چکیں‘ وہ رفتہ رفتہ دھنس رہی ہیں۔

آج اس شہر میں تہ خانوں اور بنیادوں کے لیے کھدائی کرنا اعصاب شِکن کام بن چکا ہے۔وہاں کے انجینئرز کی کونسل کے سربراہ، برنارڈو کونٹاناکاکہنا ہےکہ جس جگہ کھدائی کی جاتی ہے وہاں گڑھا نمودار ہوجاتا ہے جس میں پانی رس رس کر جمع ہونے لگتا ہے۔ رفتہ رفتہ قریبی عمارتوں کی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں اور سڑکیں ٹیڑھی میڑھی ہوجاتی ہیں۔

پاسیو ڈی لا ریفارما میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کنکریٹ کے بہت بڑے تختے پر تعمیر کی گئی۔ یہ بھی زیرِ زمین موجود دلدل میں تیر رہی ہے۔ جب زلزلے کے جھٹکےآتے ہیں، جو میکسیکو سٹی میں معمول کی بات ہیں، تو یہ عمارت بری طرح لرزنے ،ڈولنے لگتی ہے۔میکسیکو سٹی کے وسیع و عریض اور خوب صورت ہوائی اڈے کا زیادہ تر رقبہ سیم زدہ اور دلدلی ہے۔ یہ اس جگہ واقع ہے جہاں پہلے جھیل ٹیکسیکو واقع تھی۔ جھیل کو سابقہ حالت میں لانے کے لیےیہ تجویز زیرغور ہے کہ اس جگہ کم طاقت کا ایٹمی دھماکا کر دیا جائے ۔یوں شہر کے تمام گندے پانی کو وہاں قابلِ استعمال بنا کر اُسے گرین بیلٹ میں ڈالا جائے گا۔ ایک منصوبہ یہ بھی زیرِ غور ہے کہ اسّی فِیٹ کی گہرائی میں سیم نالہ تعمیر کیا جائے جو کئی میل لمبا ہو۔اس کے ذریعے زیرِ زمین پانی زمین کےنیچےنیچے ہی شہر سے باہر نکال دیا جائے۔ اس سیم نالے کی تعمیر کے لیےعالمی بینک نے میکسیکو کی حکومت کو ایک خطیر رقم بہ طورِ امداد دی ہے۔ مزید آبی گزرگاہوں کی تعمیر بھی زیرِ غور ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شہر کو دھنسنےسےبچانا مطلوب ہے تو باقی ماندہ کنوئوں سے بھی پانی نکالنےپر پابندی عاید کرنا ہوگی۔

 کراچی میں سِنک ہول بننے کی بات درست نہیں ،ما ہرِ ارضیات

پرو فیسر مجید اللہ قادری،جامعہ کراچی کے شعبہ ارضیات کےسربراہ رہ چکے ہیں۔ان کے مطابق کراچی میں پانی کے حصول کے لیے کھودے جانے والے کنووں اور ہاتھ یا مشین سے کی جانے والی بورنگ سے زمین کے کم زور ہوجانے یا زلزلہ آنے کے امکانات کی باتیں سائنسی نظریات کے تحت درست قرار نہیں دی جاسکتی ہیں ۔البتہ ایسے عوامل سے یہ ضرور ہوتا ہے کہ ہم زمین اور فطری نظام پر دباو میں اضافہ کردیتے ہیں۔تاہم یہ درست ہے کہ کراچی میں پانی کے زیرِ زمین ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔لیکن اگر اسے خلا قرار دیا جارہا ہے تو اس سے ارضیاتی طور پر کچھ نہیں ہوگا۔زمین کو ئی معمولی یا نرم شئے نہیں ہے کہ اگر اس میں سو دو سو فیٹ کے چند ہزار یا زاید سوراخ کردیے جائیں تو وہ کسی پارچے کی مانندکم زور ہوجائے گی اور زلزلہ آجائے گا۔زلزلہ تو اس وقت آتا ہے جب دو یا زاید قشری پلیٹس آپس میں ٹکراتی ہیںیا جب آتش فشاں پھٹتا ہے ۔ بورنگ کے لیے مشینوں کے استعمال سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔زلزلے کے جھٹکوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔زمین اپنی ساخت کے اعتبار سے بہت سخت جان ہے۔ارضی چٹانیں بہت سخت ہوتی ہیں۔جب ہی تو ان پر لاکھو ں من وزنی عمارتیں صدیوں اور دہائیوں سے جوں کی توں کھڑی ہیں۔

بورنگ اورکنووں کی تعداد بڑھنے سے زیرِ زمین پانی کے ذخائر (ایکوا فرز)کم ہونے کی بات درست ہےاور اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔پچیس ،تیس برسوں میں کراچی میں کنووں اور بورنگ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہےجس کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہوئی ہے۔مثلا1970کی دہائی میں سولجر بازار کے علاقے میں اٹھارہ فیٹ کی گہرائی میں پانی مل جاتا تھا،لیکن اب زیادہ گہرائی تک جانا پڑتا ہے۔ کراچی میں منگھوپیر کی پہاڑی بارش کے پانی کےزیرِ زمین انٹیک کا واحد بڑا ذریعہ ہے۔شہر کی حدود میں صدیوں سے جو پانی فطری طریقے سے زیرِ زمین جمع ہورہا تھا اسے ہم نے پچیس، تیس برسوں میں تیزی سے نکال لیا ہے۔ اس صورت حال کا ایک منفی ماحولیاتی اثر یہ ہوسکتا ہے کہ وہ سبزہ یا پیڑ پودے، جن کی جڑیں زیادہ گہرائی میں جاکر پانی حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہیں،وہ ختم ہو جائیں۔زیرِ زمین پانی کی سطح بلندرہنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ زمین کی اوپری سطح پر نمی موجود رہتی ہےجس سے نہ صرف سبزہ اگتا ہے بلکہ زمین گرمی جذب کرنے کی زیادہ صلاحیت کی حامل رہتی ہے۔پاکستان میں گرمی کی شدت میں چند برسوںسے اضافےکے جس تجربے سے ہم گزر رہے ہیںوہ کراچی تک محدود نہیں ہے۔تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہو نے سے یہا ں گرمی کی شدّت دیگر علاقوں کی نسبت ایک تا دو ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتی ہے۔

زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہونے سےسِنک ہول بننے کا کوئی تعلق نہیں۔سِنک ہولز وہاں بنتے ہیں جہاں سطحِ ارض کے قریب چونے کے پتھر کی چٹانیں(لائم اسٹون) زیادہ ہوتی ہیں۔یہ چٹانیں رسوبی چٹانوں(سینڈ اسٹو ن )کے مقابلے میں نرم ہوتی ہیں۔چونے کے پتھر کی چٹانیںتوپورے ملک میں ہیں۔یہ درست ہے کہ ان چٹانوں میں پانی آسانی سے راستہ بنالیتا ہے۔سِنک ہول اس وقت بنتا ہے جب چٹانوں میں مسلسل پانی بہتارہتا ہے۔رسوبی چٹانوں میں مسام ہوتے ہیںجن میں پانی جمع رہتا ہے۔قدرتی طور پر چٹانوں میں پانی کا راستہ چھوٹی چھوٹی نالیوں کی شکل میں ہوتا ہے، نہ کہ ندی نالوں کی شکل کا۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید