آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دہلی پر جب بہادر شاہ ظفر کی ’’حکمرانی‘‘ تھی تو عالمِ پناہ کی سر پرستی میں آئے دن مشاعرے ہوا کرتے تھے، غالب، داغ، مومن، شیفتہ، آزردہ اور ذوق جیسے اساتذہ وہاں حاضر ہوتے، بادشاہ سلامت کے روبرو اپنی غزلیں کہتے اور داد سمیٹتے۔ ابراہیم ذوق چونکہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے سو اس مناسبت سے ان کی تکریم زیادہ تھی، غالب کا خیال تھا کہ استاد ذوق بادشاہ کے محل تک رسائی میں رکاوٹ ڈالتا ہے اسی لئے غالب کو لال قلعے میں مشاعرے کے لئے نہیں بلایا جاتا، غالب کی انا کو بھلا یہ کیسے گوارا ہوتا۔ سو ایک دن استاد ذوق کی سواری غالب کے محلے سے گزری تو غالب نے یہ مصرع کہا ’’ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا‘‘۔ استاد ذوق اِس چوٹ کو سہہ نہ سکے، اُنہوں نے بادشاہ سے شکایت کی، اب کی بار غالب کو مشاعرے میں مدعو کیا گیا تو وہاں بادشاہ نے غالب سے فرمائش کی کہ وہ شعر پڑھا جائے جس پر غالب نے شعر یوں مکمل کیا ’’ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا، وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے‘‘ اور مشاعرہ لوٹ لیا۔ اس کے بعد لال قلعے کا کوئی مشاعرہ غالب کے بغیر نہیں ہوا۔ اُن دنوں اس فن میں ہندوستانیوں کا کوئی ثانی نہیں تھا کیونکہ شاعری کی سرپرستی نہ صرف بادشاہ کرتا تھا بلکہ راجے، مہاراجے، نواب، رؤسا اور بڑے لوگ بھی کرتے تھے، اس زمانے میں شاید ہی کوئی دوسرا ایسا شعبہ ہو جس کی اتنی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو، بہادر شاہ ظفر کے محل میں کلام پیش کرنے والے شعراء کے نام ہمیں زبانی یاد ہیں مگر لال قلعے کے کسی سائنسدان، فلسفی، ریاضی دان یا ماہر فلکیات کے بارے میں ہم نہیں جانتے کیونکہ ایسا کوئی تھا ہی نہیں۔ شاعری کی سرپرستی کی گئی تو ایک سے ایک اعلی ٰ شاعر پیدا ہو گیا، علمِ طبیعات کی سرپرستی کی جاتی تو شاید کوئی ایک آدھ ماہر طبیعات بھی دربار میں مل جاتا۔

اودھ میں واجد علی شاہ کے دربار میں چلتے ہیں، یہ نواب اپنی مثال آپ تھے، ہندوستانی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسرا نواب ایسا ہو جس میں اس قدر ٹیلنٹ ہو۔ نواب صاحب ایک اعلیٰ پائے کے کمپوزر تھے، کتھک ڈانس کے ماہر تھے، شاعر تھے، کئی غزلیں، ٹھمریاں، نظمیں اُنہوں نے تخلیق کیں اور موسیقی کی تعلیم باقاعدہ اساتذہ سے حاصل کی۔ تھیٹر کی سرپرسی میں تو نواب صاحب نے کمال ہی کردیا، موصوف کے زمانے میں شاہی خرچ پر سینکڑوں لڑکیوں کو رقص اور موسیقی کی تربیت دی جاتی، واجد ولی شاہ کے دربار میں لکھاریوں، شاعروں، موسیقاروں اور شعر و ادب کے دلدادہ لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا، وہ سب نواب صاحب کے زیر کفالت تھے، غالب کا وظیفہ بھی واجد علی شاہ نے اسی زمانے میں مقرر کیا تھا۔ جب انگریزوں نے ریاستوں پر قبضہ شروع کیا تو نواب صاحب کی فوج نے لڑائی کئے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیے اور اودھ کا تاج انگریز ریزیڈنٹ کے سر پر رکھ دیا، واجد علی شاہ کی ماں سے یہ سب برداشت نہیں ہوا، وہ بعد میں ملکہ وکٹوریا سے ملنے لندن گئی تاکہ ملکہ کے سامنے اپنا مقدمہ رکھ سکے کہ اس کے بیٹے کے ساتھ انگریزی ریزیڈنٹ نے اچھا سلوک نہیں کیا، یہ ایک علیحدہ سے دلچسپ روداد ہے، پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

ہمارا مقدمہ مگر کچھ اور ہے۔ بہادر شاہ ظفر ہوں، نواب واجد علی شاہ ہوں یا ہندوستان کا کوئی بھی اور بادشاہ یا نواب، انہوں نے جس فن کی سرپرستی کی اس فن کے ماہر اس وقت کے معاشروں میں پیدا ہو گئے، ہندوستانی شاعری، موسیقی، رقص، یہ وہ شعبے ہیں جن کی سرپرستی اعلیٰ ترین سطح پر ہوئی، لوگو ں کے وظیفے لگائے گئے، انہیں سرکاری خرچ پر تربیت کی سہولت دی گئی، انہیں عزت دی گئی اور یوں معاشرے میں ان کاموں کیلئے ایک incentive پیدا ہو گیا جس کے نتیجے میں معاشرے کا ٹیلنٹ ان شعبوں میں ابھر کر سامنے آگیا۔ آج بھی بر صغیر کی شاعری کی روایت ایسی تابندہ ہے کہ ایک سے ایک اعلیٰ شاعر یہاں پیدا ہوتا ہے، باقی شعبوں میں بھلے ہم زوال پذیر ہو گئے ہوں مگر شاعری میں اب بھی دم باقی ہے، یہی حال موسیقی کا ہے، کیسی کیسی شاہکار موسیقی یہاں ترتیب دی گئی، ایک سے بڑھ کر ایک موسیقی کا استاد برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہوا مگر ان بادشاہوں، نوابوں، مہاراجوں نے سائنس، طب، ریاضی یا فلسفے کی سرپرستی نہیں کی، اگر کی ہوتی تو شاید انہی معاشروں میں سے کوئی نہ کوئی ماہر ان شعبوں کا بھی پیدا ہو جاتا۔ چلیں بادشاہوں کی بات پرانی ہوئی اسے چھوڑ دیتے ہیں، آج کے دور میں واپس آتے ہیں، آج کی دنیا میں جہاں جہاں سائنس، ہنر یا تخلیق کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے وہاں وہاں ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔ مثلاً آج کے پاکستان میں بظاہر جامعات کی بہتات ہے، ان جامعات میں تحقیق کے لئے (کم یا زیادہ) فنڈ بھی مختص کیے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود ہمارے ہاں کوئی تخلیق ہوتی ہے نا تحقیق۔ فنڈز کی کمی کا رونا اس لئے درست نہیں کیونکہ جو امداد تحقیق کے لئے ملتی ہے اس کے بارے میں چپڑاسی سے لے کر وائس چانسلر تک سب جانتے ہیں کہ وہ کٹ پیسٹ پی ایچ ڈی میں لگ جاتی ہے، اس سے آگے کچھ نہیں۔ ایک وجہ اور بھی ہے کہ معاشرے میں تحقیقی یا تخلیقی کام کرنے کے لئے کوئی incentiveموجود نہیں، نئی تخلیق کے لئے نئے تجربے کرنا پڑتے ہیں، تجربوں کا نتیجہ کبھی نکلتا ہے کبھی نہیں نکلتا، یہ سالہا سال کا عمل ہے جبکہ ہم کسی کو یہ رعایت دینے کے لئے تیار نہیں، ایک ایسے ملک میں جہاں کالج کا پرنسپل آڈٹ کے ڈر سے سائنسی آلات کو اپنے طلبا سے چھپا کر تالے میں رکھتا ہو کہ کل کو اس سے یہ باز پرس نہ ہو جائے کہ سائنسی کٹ میں سے فلاں چیز کم کیوں ہے، اس ملک میں کیا خاک تخلیق ہو گی؟

ایک دہشت زدہ معاشرے میں جہاں ماہر طبیعات نے اس بات کا حساب دینا ہو کہ جو آلات تم نے خریدے وہ پیپرا رولز کے مطابق نہیں تھے، وہاں اس سے کسی ایجاد کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ دوسری طرف اس گئے گزرے وقت میں ہم کوئی نہ کرکٹر ضرور پیدا کر لیتے ہیں کیونکہ کرکٹ کی سرپرستی قدرے بہتر انداز میں ہو رہی ہے مگر کوئی سائنسدان، فلسفی، ماہرِ فلکیات یا کیمیا دان پیدا نہیں کر پاتے کیونکہ معاشرے میں اس کے لئے کوئی incentiveموجود نہیں۔ دنیا کی ہر قوم میں ذہین اور ٹیلنٹڈ لوگ برابر پیدا ہوتے ہیں، معاشرہ ان میں سے جتنوں کی قدر کرتا ہے ان کا ٹیلنٹ سامنے آ جاتا ہے، بہادر شاہ ظفر نے شاعری کی سرپرستی کی، غالب اور ذوق کا ٹیلنٹ سامنے آ گیا جبکہ اسّی کی دہائی میں ہم نے جس ’’ٹیلنٹ‘‘ کی سرپرستی کی بعد میں اسی ’’ٹیلنٹ‘‘ کو ختم کرنے کے لئے ہمیں جنگ لڑنا پڑی۔ یہ تو حال ہے!