آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ کپ فائنل میں امپائرنگ کے معیار پر ہر جانب سے سوال اٹھایا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے سیمی فائنل میں امپائرنگ کرنے والے جنوبی افریقاکے ایریزمس اور سری لنکا کے دھرمینا کو فائنل کے لیے بھی آن فیلڈ امپائرز مقرر کیا گیا تھا جبکہ تجربہ کار پاکستانی امپائر علیم ڈار کو نظر انداز کیا گیا۔

ماضی کے عظیم آسٹریلوی امپائر سائمن ٹوفل نے لارڈز میں امپائرنگ کے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اوور تھرو پر انگلینڈ کو چھ رنز دے دیئے گئے، قوانین کے مطابق انگلینڈ کو پانچ رنز ملنے چاہیئے تھے۔

فائنل کے آخری اوور میں جب دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ جاری تھا، بین اسٹوکس رن لینے کے لئے بھاگے اور گیند ان کے بیٹ سے ٹکر ا کر بائونڈری لائن پار کر گئی۔ سائمن ٹوفل نے جو چھ بار آئی سی سی کے بہترین امپائر اور ایم سی سی کی امپائرز کمیٹی کے رکن ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ فاش غلطی تھی۔

لیکن ہارنے والی ٹیم نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن نے کہا کہ یہ سب کھیل کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ اضافی رن کی وجہ سے میچ سپر اوور میں چلا گیا، ٹوفل نے کہا کہ قانون کے مطابق انگلینڈ کو پانچ رنز ملنے چاہیے تھے۔ کیوں کہ جس وقت گیند پھینکی گئی تھی اس وقت بیٹسمین دوسرا رن لینے کے لئے نہیں بھاگے  تھے۔

اس غلطی کی وجہ سے بین اسٹوکس نے اسٹرائیک برقرار رکھا۔ بین اسٹوکس نے کہا کہ وہ اس واقعے کی وجہ سے پوری زندگی کین ولیم سن سے معافی مانگتے رہیں گے۔

سیمی فائنل میں دھرماسینا کا جیسن رائے کو غلط آؤٹ دینا ہو یا فائنل مقابلے میں ایریزمس کا راس ٹیلر کے خلاف فیصلہ، سابق کھلاڑی اور عام مداح ورلڈ کپ میں امپائرنگ کے معیار پر تنقید کرتے نظر آئے۔

بھارت کے سابق کرکٹر محمد کیف نے اس سلسلے میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس ورلڈ کپ میں امپائرنگ کا معیار اچھا نہیں رہا۔

انھوں نے ٹیم ریویو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ٹیم بُرا ریویو لیتی ہے تو اس سے ساری نظریں ٹیم کے بُرے ریویو پر مرکوز ہو جاتی ہیں،  نا کہ ناقص امپائرنگ پر۔‘

کمار دھرماسینا نے فائنل میں بھی تین غلط فیصلے دیے، جس سے ٹوئٹر پرلوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ آخر کس پیمانے پر امپائروں کا انتخاب کیا جاتا ہے؟ ورلڈ کپ فائنل میں آئی سی سی کی جانبداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آ ئی سی سی نے نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے درمیان فائنل کے لیے جن میچ آفیشلز کے ناموں کا اعلان کیا، اس کے مطابق علیم ڈار کو ریزرو امپائر رکھا گیا تھا۔

اس سے قبل آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے دوسرے سیمی فائنل میں بھی علیم ڈار ریزرو امپائر تھے۔ علیم ڈار دو ورلڈ کپ فائنل میں امپائرنگ کر چکے ہیں۔

یہ مسلسل دوسرا ورلڈ کپ ہے جس کے سیمی فائنل اور فائنل میں علیم ڈار امپائرنگ کے اعزاز سے محروم رہے، 2015 کے عالمی کپ میں بھی علیم ڈار کو کسی سیمی فائنل اور پھر فائنل میں امپائرمقرر نہیں کیا گیا تھا۔


کھیلوں کی خبریں سے مزید