آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
  • فائر کی زوردار آواز نے سنّاٹا چیر دیا
  • برستی بارش سے دونوں کے بہتے آنسوؤں کا بھرم قائم تھا
  • اِک دَربدر، خاک بسر… اور عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک کا سفرِ مسلسل

وہ تین لڑکے تھے، میری نظر فوراً اُن کی بائیکس کی طرف گئی، ہارلے ڈیوڈسن، ہایابُوسا اور شوگن… تینوں ہی قیمتی بائیکس تھیں۔ لڑکے حُلیے سے بھی عام چور اُچکّوں سے مختلف لگ رہے تھے۔ قیمتی جینزاور ہاتھوں میں پکڑے سگریٹ کی مہک بازاری تمباکو سے جُدا تھی، پھر یہ چوری، ڈاکا کیسا؟ میں اِن ہی خیالات میں اُلجھا ہوا تھا کہ اُن کا سرغنہ چلّا کہ بولا، ’’سُنا نہیں، نیچے اُترو… چلو، جلدی کرو…‘‘ زہرا کا رنگ خوف کے مارے سفید پڑنے لگا، کیوں کہ اس نے دوسری جانب کھڑے لڑکے کے ہاتھ میں 32بور کا خوف ناک پستول دیکھ لیا تھا۔ میں نے سُکون بحال رکھتے ہوئے ان سے کہا، ’’ تمہیں جو کچھ چاہیے، مَیں ویسے ہی تمہارے حوالے کرنے کو تیار ہوں، تم ہمیں جانے دو۔‘‘ وہ غُرّا کربولا، ’’لگتا ہے تمہیں سیدھی زبان سمجھ نہیں آتی، چُپ چاپ نیچے اُترجائو، ہمیں جو کچھ چاہیے ہوگا، ہم خود لیں گے…‘‘ زہرا کپکپاتی آواز میں بولی، ’’ساحر! اِن سے بحث مت کرو… جیسا کہتے ہیں، پلیز ان کی بات مان لو…‘‘، ’’ٹھیک ہے، لیکن تم اندر ہی بیٹھی رہنا… اپنی طرف کا دروازہ لاک کرلو… اور کچھ بھی ہوجائے…تم نیچے مت اترنا۔‘‘ میں زہرا کو ہدایت دے کر دھیرے سے دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ گاڑی کی چابی مَیں نے غیر محسوس طور پر کار بند کرکے زہرا کے قدموں میں پھینک دی۔ وہ لڑکے شاید اناڑی اُچکّے تھے، اس لیے میری یہ حرکت نوٹ نہیں کرسکے۔‘‘ مَیں نے اپنی جیب سے والٹ، گھڑی اور فون وغیرہ نکال کرگاڑی کے بونٹ پر رکھ دیئے۔ ’’میرے پاس یہی کچھ ہے، تم چاہو، تو میری تلاشی لے سکتے ہو۔‘‘ ایک لڑکے نے دوسرے کی طرف دیکھ کر کمینی سی مُسکراہٹ سے کہا ’’اوئے سَنی… واٹ اِز دِس یار… یہ تو کوئی بات نہ ہوئی… اس نے تو چُپ چاپ سارا مال نکال دیا، تھوڑا سا تِھرل تو ہونا چاہیے تھا۔‘‘ اُن کا سرغنہ، سَنی جس کے ہاتھ میں پستول تھا، فلمی انداز میں پستول گُھما کر بولا ’’ ڈونٹ وَری… ابھی تِھرل کے لیے پوری رات باقی ہے بوائز…‘‘ سب لڑکے زور سےہنس پڑے۔ تو میرا خیال ٹھیک تھا۔ یہ عام روایتی چور اُچّکے نہیں تھے، مَیں نے اپنے حواس بحال رکھے۔ ’’تم لوگوں کو جو کچھ چاہیے تھا، وہ مَیں نے دے دیا ہے۔ چاہو تو میرے سارے کریڈٹ کارڈز اور اے ٹی ایم کا پِن بھی لے لو، لیکن اب ہمیں جانے دو۔‘‘ اِس سارے عرصے میں ان تینوں کی نظر گاڑی کے اندر بیٹھی زہرا کے سراپے کا طواف کرتی رہی۔ سَنی نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف مُڑ کر معنی خیز لہجے میں بولا، ’’ڈیٹ سے آرہے ہو اِس وقت، یہ چیز توبڑی کمال بِٹھا رکھی ہے ڈُوڈ…‘‘ تینوں نے زور سے ایک قہقہہ لگایا۔ مَیں نے اپنےحواس بہ مشکل قابو میں رکھے، ’’وہ میری منگیتر ہے، تم مجھ سے بات کرو، مَیں تمہاری ہر ڈیمانڈ پوری کروں گا، جتنا پیسا چاہیے، ملےگا تمہیں۔‘‘ سَنی نے غور سے زہرا کی طرف دیکھا، ’’واہ بھئ… یہ آدھی رات کو اس ویرانے میں اپنی منگیتر کو لے کر گھومنے والا پہلی مرتبہ دیکھا ہے میں نے… کیوں سِڈ۔‘‘ وہ پھر زور سے ہنسے۔ سَنی نےغصّے سے چلّا کر کہا ’’اِس محترمہ سے بھی کہو کہ نیچے اترے۔ ذرا ہم بھی تو دیکھیں، تمہاری اس منگیتر گرل فرینڈ کو۔‘‘ سِڈ نامی لڑکا زہرا والی سائڈ کے دروازے کی طرف بڑھا۔ مَیں نے چلّا کر اُسے خبردار کیا ’’وہیں رک جائو…دروازے کو ہاتھ بھی مت لگانا۔‘‘ زہرا ڈر کر گاڑی میں مزید سمٹ گئی۔ مَیں تیزی سے سِڈ کی طرف لپکا۔ انہیں شاید میری طرف سے ایسی کسی حرکت کی ہرگز توقع نہیں تھی۔ سَنی زور سے چلّایا ’’اوئے کاشی! پکڑو اس پاگل کو۔‘‘ تیسرا لڑکا پستول نکال کر میری طرف لپکا۔ سِڈ نے اپنا پستول والا ہاتھ زور سے زہراوالی سائڈ کے دروازے پر دے مارا اور فضا شیشہ ٹوٹنے کے چھناکے سے گونج اٹھی۔ سِڈ نے اندر ہاتھ ڈال کر دروازے کا لاک کھولنے کی کوشش کی، لیکن اُس وقت تک میں اس کے سر پر پہنچ چُکاتھا۔ کہتے ہیں بہت زیادہ بہادری اور حماقت میں زیادہ فرق نہیں ہوتا، لیکن اُس وقت میرے پاس کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔ زہرا زور سے چِلّائی۔ سَنی ہماری طرف لپکا، کاشی نے مجھے پیچھے کھینچنے کی کوشش کی، لیکن میں نے سِڈ کے پستول والے ہاتھ کی کلائی نہیں چھوڑی۔ ایک ہنگامہ سا مَچ گیا، وہ تینوں واقعی اناڑی لگتے تھے، ورنہ انہیں مجھ پر قابو پانے میں زیادہ دیر نہ لگتی۔ اُسی لمحے سِڈ مجھ سے بھڑگیا اور اُس نے خود کو مجھ سے چھڑوانے کے لیے ہر ممکن زور آزمائی شروع کردی۔ سَنی اور کاشی چلّارہے تھے اور پھر ٹھیک نیچے گرتے ہی فائر کی زوردار آواز نے سنّاٹے کو چیردیا۔ سِڈ کا ہاتھ گرتے گرتے بہک گیا اور ایک اور فائر ہوا، کاشی زور سے چلّایا ’’ اوہ نو… سَنی… میں نے اور سِڈ نے گھبرا کر سَنی کی طرف دیکھا، جو وہیں کھڑے کھڑے زمین پرگِرچکا تھا اور خون کا ایک چھوٹا سا تالاب اس کے اِردگرد اکٹھا ہونا شروع ہوگیا تھا۔ سِڈ نے گھبرا کر پستول میرے ہاتھ ہی میں چھوڑ دیا۔ کاشی بھی حواس باختہ ہوکر سَنی کی طرف لپکا۔ مجھے یاد آیا کہ آج شام مجذوب نے یہی تو کہا تھا مجھ سے کہ میں کسی اور کی موت کا وعدہ نبھانے جارہا ہوں…اُن دونوں کو میرا دھیان ہی نہیں رہا کہ اب پستول میرے ہاتھ میں بھی ہے۔ سَنی کی سانسیں تھم رہی تھیں۔ کاشی اور سِڈ نے گھبرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور تیزی سے اپنی اپنی بائیکس کی طرف لپکے، مَیں چلّایا، ’’رُکو…اِسے گاڑی میں ڈالنے میں میری مدد کرو…شاید یہ بچ جائے۔‘‘ لیکن وہ دونوں بائیکس کو کِک لگا کر یوں سرپٹ بھاگے کہ پیچھے پلٹ کربھی نہیں دیکھا۔ زہرا بہت ڈرگئی تھی۔ میں نے جلدی سے سَنی کی نبض چیک کی، زندگی کے آثار معدوم تھے، مَیں نے فوراً اپنے ایک پولیس آفیسر دوست، ایس پی کامران کو کال ملائی اور اُسے ساری صورتِ حال بتائی۔ کامران نے سختی سے کہا ’’تم وہیں ٹھہرو… اور دیکھو کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا، مَیں ابھی ایمبولینس کے ساتھ وہاں پہنچتا ہوں۔‘‘

کامران کے آتے آتے دُور ساحل پر صبح کی سپیدی نمودار ہونے لگی تھی، لیکن کون جانتا تھا کہ ٹھیک اِسی وقت میری زندگی کی وہ طویل رات شروع ہونے والی ہے، جس کا خاتمہ آخرِکار سینٹرل جیل کی اِس سیلن زدہ بیرک میں ہونا تھا۔ سَنی کی میّت اسپتال پہنچا دی گئی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی سارے شہر میں یہ خبر پھیل چُکی تھی کہ مُلک کے سینئر وزیر، سلمان دانش کا بیٹا، سَنی میرے ہاتھوں ماراگیا۔ شہر میں جیسے بھونچال سا آگیا تھا اور پاپااور ایس پی کامران کی لاکھ کوششوں کے باوجود شام سے پہلے ہی پولیس ہمارے دروازے پر موجود تھی۔اتنےبڑے سیاست دان کےبیٹےکاقتل کوئی معمولی بات تو نہیں تھی۔ سلمان دانش نے حکومت کے سب ایوان ہلا ڈالے تھے، پاپا کی پہنچ بھی بہت اوپر تک تھی، مگر سلمان کا پلڑا بھاری رہا۔ کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ سَنی اور اُس کے دوست اُس رات سڑک پر لُوٹ مار کے ارادے سے کھڑے تھے۔ پولیس، عدالت، وکیل، سبھی کا ایک ہی سوال تھا کہ اتنے بڑے گھر کے لڑکے کو کہ جس کے دن کا خرچہ لاکھوں میں تھا، کسی سے کچھ لُوٹنے کی کیا ضرورت تھی؟ کوئی یہ جان نہیں پایا کہ جب زندگی میں سب کچھ حاصل ہوجائے، تو ایک چیز کھو جاتی ہے اور وہ ہے، ’’امنگ.....‘‘ ان لڑکوں کے اندر امنگ ختم ہو رہی تھی، اور اُسے ہی جگانے،کچھ تِھرل یا ایڈونچر کی غرض سے وہ وہاں مورچہ لگائے کھڑے تھے۔ پاپا نے مُلک کے بہترین وکیلوں کا پینل میرے کیس کے لیے جمع کررکھا تھا، مگر سلمان دانش کو اپنے بیٹے کی موت کا بدلہ چاہیے تھا، کاشی اور سِڈ کے بیان بھی میرے خلاف تھے کہ مَیں نے زہرا کے ساتھ اُن لوگوں کا پیچھا کیا اور گاڑی سے اُترتے ہی دوفائر کیے، جن میں سے ایک سَنی کو جالگا۔ ہر چیز میرے خلاف جارہی تھی۔ مثلاً اتنی رات گئے مَیں اور زہرا اُس ویران سڑک پرکیا کررہے تھے؟ اگر وہ لڑکے لُوٹ مار کے ارادے سے کھڑے تھے، تو گولی ان ہی کے سرغنہ کو کیوں لگی؟ اگر اتفاقیہ حادثہ تھا، تو پھر دوگولیاں سَنی کی سمت کیوں چلائی گئیں۔ کاشی اورسِڈ کےباپ بھی کھرب پتی تھے اور سچّی گواہی کی صُورت میں اُن کے اپنے بیٹے پر قتل کا الزام آتا تھا۔ قتلِ عمد نہ سہی، قتلِ خطا ہی سہی… لہٰذا اُن دونوں خاندانوں نے بھی اپنا پورا اثرورسوخ مجھے سزا دلوانے پر صرف کردیا۔ پاپا تنہا ہوتے گئے۔ ہَٹ کےملازمین کے بیانات میں تضاد پیدا کر کے انہیں بھی مشکوک کردیا گیا، تاکہ اُن کی گواہی میرے حق میں نہ جا سکے۔ درپردہ میرے اپنے وکیلوں کو خرید کرمیرے کیس کو کم زور کیاجاتا رہا، حتیٰ کہ یہ بات بھی بھری عدالت میں گھڑلی گئی کہ دراصل سَنی زہرا کو پسند کرتا تھا، اُس کا رشتہ بھجوانے کی کوشش بھی کرچُکا تھااورمجھے اس بات کا قلق تھا،تو مَیں نے سَنی پرجذبۂ رقابت میں گولی چلائی۔ کتنی عجیب بات ہے، سچ کو بھی سچ ثابت کرنا، ان عدالتوں، کچہریوں میں کس قدر مشکل ہو چکا ہے۔ جب کہ جھوٹے گواہ، ثبوت اور الزام کتنی آسانی سے حق تسلیم کرلیے جاتے ہیں۔

ممّا اور پاپا ہر پیشی پر مجھے مزید کچھ نڈھال اور کم زور دکھائی دیتے۔ زہراشروع میں اپنے ابّا کے ساتھ چُپ چاپ سیاہ شال لپیٹے کمرئہ عدالت میں پیچھے کی بینچز پر بیٹھی مجھے تکا کرتی، بس اُس کی نم پلکیں اور بڑی بڑی سیاہ آنکھیں مجھ سے کلام کیا کرتیں۔ امجد اسلام امجد نے ٹھیک ہی تو کہا تھا کہ ؎ ’’تخلیے کی باتوں میں گفتگواضافی ہے‘‘ میرے اور زہرا کے درمیان بھی یہی معاملہ تھا، ہمیں باتیں اضافی لگتی تھیں، اور جب وہ میرے سامنے ہوتی، تب بَھرا ہجوم اور بھیڑ بھی میرے لیے تخلیہ بن جایا کرتی۔ لیکن جب سَنی کے وکیل نے بَھری عدالت میں مجھے قصوروار ثابت کرنے کے لیے زہرا کے کردار پر کیچڑ اچھالنا شروع کی، تو مَیں نے زہرا کےابّا کو پہلی مرتبہ بےچین دیکھا۔ وہ ایک شریف،وضع دار انسان تھے، جن کی پچھلی سات نسلوں نے بھی کبھی ان کورٹ کچہریوں کے معاملات نہیں برتے تھے۔ جہاں کسی عفّت مآب کی عزت اُچھالنا کسی اچھے وکیل کے پینتروں میں شمار ہوتاہے، وہ کیس جیتنے کے لیے کسی کی روح پر چاہے جتنےچرکے لگائیں، وہاں تماش بینوں کو صرف تالیاں بجانےسےغرض ہوتی ہے، گویا عدالت میں کیس نہیں لڑا جاتا، فقرے بازی کا مقابلہ ہوتا ہےاور مَیں زہرا کے ابّا کو اس فقرے بازی سے اذیت میں مبتلا دیکھ رہا تھا، لہٰذا مَیں نے انہیں زہرا کے ساتھ کمرئہ عدالت میں آنے سے منع کردیا۔ مجھے یاد ہے، اُس دن جب مجھے ہتھکڑیوں میں پیشی سے واپس جیل لےجایا جارہا تھا، وہ راہ داری کے ایک ویران گوشے میں کھڑی میرا انتظار کر رہی تھی۔ مَیں نے سنتری سےچند لمحے رُکنے کی درخواست کی۔ سنتری نے ایک پَل میری طرف دیکھا، پھر نہ جانے اُسے میرے چہرے پر کون سی تحریر لکھی نظر آئی کہ دھیرےسےمُسکرادیا۔’’کون ہےیہ تمہاری سائیں…؟ لُگائی ہےیاہونےوالی ہے؟‘‘اُس کےمعصومانہ سوال پر میں بھی مُسکرادیا، ’’یہ سب کچھ ہے میری… اور جس دن تمہارا قانون میری ہتھکڑیاں کھول دے گا، لُگائی بھی ہوجائے گی۔ تم ضرور آنا میری شادی میں۔‘‘ سنتری نے قہقہہ لگایا اور اپنے دو ساتھیوں کو لے کر ایک جانب ہوگیا۔ زہرا کی پلکیں لرز رہی تھیں۔ ممّا، پاپا اور اُس کے ابا ذرا فاصلے پر کھڑے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ اتنے بہت سے ہفتوں کے بعد یہ ہماری پہلی براہِ راست ملاقات تھی۔ اس کے کومل لب دھیرے سے کانپے، ’’کیسے ہو صاحب…؟‘‘ ، ’’تم جیسا صاحبہ۔‘‘ اُس کی مُسکراہٹ شکستہ تھی، ’’پھر تو بہت اچھے ہو، لیکن بس اب یہ کھیل ختم کردو… مَیں ٹھیک نہیں ہوں… ہر روز کسی کرامت کی آس میں یہاں آتی ہوں، مگر …مایوس لوٹ جاتی ہوں۔‘‘ مجھے لگا، جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ اب گھر چلو واپس کہ ہمارے نکاح کے انتظار میں چاند تاروں کی چمک ماند پڑنا شروع ہوگئی ہے۔ ’’پھول بازار‘‘ کے سارے گل فروش تمہارے سہرے میں پھول ٹانکنے کو دَم سادھے بیٹھے ہیں۔ کاری گر ریشم نہیں بُن رہے کہ میرا عُروسی جوڑا ابھی طے نہیں ہوا۔ وقت وہیں رُکا کھڑا ہے، تم آئو تو گھڑیاں اپنی رفتارپکڑیں…کیوں ستاتےہو تم ان سب کو صاحب؟ اُس کی آنکھیں چھلک پڑیں، آس پاس جیسے سب کچھ دُھل ساگیا۔ مَیں نے تڑپ کر اُسے روکا، ’’کہتے ہیں مریض اور قیدی کے سامنے حوصلہ نہیں چھوڑنا چاہیے لڑکی،کیسی طبیب اور ہمدرد ہو… اپنے بیمار کو رُلائوگی کیا…؟ مَیں کہیں بھی رہوں، تمہاری آنکھوں کی قید ہی میں رہوں گا اور صیاد پر لازم ہے کہ اپنے صید کی پوری دیکھ بھال کرے۔ جب تمہاری ان پیاری آنکھوں میں پانی آتا ہے، تو تمہاری پلکوں کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا یہ قیدی بھی بھیگنے لگتا ہے۔ اور تم تو جانو کہ جاڑے میں بھیگنا مطلب کھانسی، نزلہ، زکام، بخار یعنی علاج کا خرچہ الگ۔‘‘ وہ مُسکرادی، ’’باتیں خُوب بنالیتے ہو…‘‘ اُس کے مُسکرانے سے بارش کےبعدجیسے دھوپ نکل آئی۔

مَیں نے اسے تسلی دے کر رخصت کیا اور ساتھ یہ وعدہ بھی لیاکہ اب وہ عدالت کی کارروائی دیکھنے نہیں آئے گی۔ مَیں جانتا تھا کہ اُس نے کس بھاری دل سے میری یہ بات مانی ہوگی۔ ’’بہت ضدی ہو، ہمیشہ اپنی ہی منواتے ہو… مگر جب رِہا ہو کے واپس آو گے، تب صرف تمہاری صاحبہ ہی کی چلے گی، یاد رکھنا…‘‘جاتے جاتے اس نے راہ داری میں دوتین بار مجھے پلٹ کردیکھا۔ ہر بار اُس کی پلکیں مجھے پہلے سے زیادہ نم اور چمکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ مَیں وہیں کھڑا اُسے اپنے ابّا کے ساتھ جاتے دیکھتا رہا۔ راہ داری کے کنارے پر وہ ایک پَل کو رُکی اور لمحہ بھر کے لیے میری اور اس کی نظر ملی،تو اُس کی پلکوں کے موتی بولے، ’’الوداع…‘‘ میرا دل چاہا میں دیوانہ وار بھاگتے ہوئے اُس کےپاس جائوں اور اپنی ہتھیلیوں میں اس کی آنکھوں کےستارےجمع کرلوں، انہیں زمین پر گرنے نہ دوں۔ اس کے ہاتھ تھام کرکہوں ’’پریشان کیوں ہوتی ہو، مَیں ہوں ناں…سب ٹھیک کردوں گا۔‘‘ لیکن میں کچھ بھی ٹھیک نہیں کرپایا۔ کبھی کبھی ہم کسی کرامت کے انتظار ہی میں بیٹھے رہ جاتے ہیں۔ ہم بھولے انسان یہ بھی نہیں جانتے کہ کرامات ہماری مرضی اور اختیار کے تابع نہیں ہوا کرتیں۔ پاپا کی ساری تدابیر اور تراکیب دَھری کی دَھری رہ گئیں اور چھے ماہ کی مسلسل بحث، پیشیوں کے بعد بالآخر عدالت نےمجھے عُمرقید کی سزا سُنادی۔ گویا اب جو عُمر بچی تھی، وہ قید میں بسر ہوگی۔ مَیں یہ جیل اورقید کا نظام کبھی سمجھ ہی نہیں پایا۔ ایک ہماری ہی طرح کا انسان، سیاہ چُغہ پہن کر اپنے ہی جیسے کسی انسان کو عُمر بھر کےلیے سلاخوں کے پیچھے قید رکھنے کاحکم کیسے دے سکتا ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ منصب کی کرسی پر بیٹھا ہے؟ بات اگر سزا اور جزا کی ہے، تو پھر انصاف کا معاملہ انسان اور فرشتے کے درمیان طے ہوناچاہیے۔ انسان ہی انسان کو سزا کیسے دے سکتا ہے؟ دونوں ہی کم زور، دونوں ہی مصلحتوں کے مارے، مشکوک، سزاوار، کھوٹے، گناہ گار۔ میری سزا سُنتے ہی پاپا وہیں عدالت میں کرسی پر ڈھے سے گئے اور ممّا کچھ اس طرح بستر پر گریں کہ پھر کبھی اُٹھ نہ پائیں۔ پاپا نے مجھے تسلّی دی ’’تم فکر نہ کرو، میں ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ جائوں گا۔ ابھی سب دروازے بند نہیں ہوئے۔‘‘ مَیں نے انہیں تسلّی دینے کے لیے اُن کے ہاتھ تھام لیے، لیکن میں انہیں یہ نہیں کہہ سکا کہ یہ اوپر کی عدالتیں سیٹھ سلمان کے لیے بھی اتنی ہی کُھلی ہوئی ہیں، جو میری عُمرقید سے مطمئن نہیں۔ اس کی خواہش تو مجھے سُولی پر لٹکتا دیکھنے کی تھی۔ اُس نے عدالت کے باہر جمع صحافیوں کے سامنے ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ مجھے موت کی سزا دلوانے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گا۔ ممّا، پاپا عدالت سے جیل جاتے وقت روتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئے۔ زہرا اپنے ابّا کے ساتھ کچھ فاصلے پر کھڑی روتی نظروں سے مجھے دیکھتی رہی، جیسے کہہ رہی ہو ’’بہت ستاتے ہو مجھے صاحب! کہا تھا ناں، بس کردو اب واپس آجائو۔‘‘ لیکن میں اُسے کیا بتاتا کہ سلطان بابا کے جانے کے بعد میری زندگی سے جیسے سب ہی کرامات، کرشمے روٹھ سے گئے تھے۔ مجھے سینٹرل جیل پہنچا دیا گیا۔ سیٹھ سلمان دانش اور پاپا دونوں ہی میری سزا کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے۔ ممّا بسترسےجا لگیں، پاپا جب بھی مجھ سے ملنے آتے، مَیں اُن کی آنکھوں میں ممّا کے کرب واذیت کی ایک نئی کہانی پڑھتا۔ ہفتے، مہینے اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔ پھر ایک روز خبر آئی کہ ممّا اب ہمارے درمیان نہیں رہیں، مجھے چند گھنٹوں کے پیرول پر ان کی تدفین میں شرکت کی اجازت ملی تھی۔ جیل سے سیدھے قبرستان پہنچایا گیا۔ ممّا بہت سُکون سے لیٹی ہوئی لگ رہی تھیں، جیسے ابھی ابھی ان کی آنکھ لگی ہو، مجھے تو ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکان بھی دکھائی دی، جیسے انہیں پتا ہو کہ اُن کا لاڈلا ساحر اُن سے ملنے کے لیے ضرور آئے گا۔ آس پاس لوگ کچھ عجیب وغریب سی باتیں کررہے تھے۔ ’’صبرکرو بیٹا، قسمت کو یہی منظور تھا، وہ یہاں سے بہت اچھی جگہ چلی گئی ہیں۔ اب وہ جنّت میں تمہارا انتظار کرتی ہوں گی۔‘‘ میرے ذہن میں ایک عجیب سا سوال ابھرا، اگر اُن کا مجھ جیسا ناخلف بیٹا اگلے جہاں میں جنّت کا حق دار ہی نہ ٹھہرایا گیا تو…پھر میری ان کی ملاقات دوبارہ کیسے ہوگی؟ جن کی مائیں انہیں چھوڑ جاتی ہیں، ان بچّوں کی سانس کی ڈوری کیسے جُڑی رہ جاتی ہے۔ وہ جس کی کوکھ میں سانسوں کا یہ رشتہ جُڑتا ہے، جب اُس کی سانسیں تھم جائیں، تو اس کے وجود کا ٹکڑا، اُسی جسم کا ایک حصّہ اپنے پھیپھڑوں میں ہوا کی روانی کیسے برقرار رکھ پاتا ہے؟ اُس روز مجھے پتا چلا کہ سانس لینا ایک الگ چیز اور جینا کچھ الگ بات ہے۔ وہ سب ہی جو سانس لیتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ زندہ بھی ہوں، جیسے اس وقت میں اور پاپا۔ ہم دونوں کی صرف سانسیں ہی چل رہی تھیں، ہم بھلا زندہ کب تھے۔ تدفین کے بعد مجھے دوبارہ زنداں میں پہنچا دیاگیا۔ پلٹتے وقت جب میں نے پاپا کو گلے لگایا، تب ہی میرے دل نے مجھ سے کہہ دیاتھا کہ اب ان کا دل بھی اس جسمِ ضعیف کا زیادہ عرصے تک ساتھ نہیں نبھا پائے گا۔ قبرستان سے لوٹتے وقت بارش شروع ہوچُکی تھی۔ دُور ایک درخت کی چھتری سے ٹپکتی بوندوں سے پرے مجھے زہرا سیاہ شال لپیٹے کھڑی نظر آئی۔ وہ یک ٹک مجھےدیکھتی رہی، برستی بارش اور بھیگے چہروں نے ہم دونوں کے بہتے آنسوئوں کا بھرم قائم رکھا اور میں قیدیوں کی گاڑی میں چڑھ گیا۔

اب مَیں نے دن، ہفتے، مہینے کا حساب رکھنا چھوڑ دیا تھا۔ پھر ایک روز سنتری میرے پاس آیا ’’کوئی نیا بندہ تم سے ملنے آیا ہے۔‘‘ میں ملاقاتی کمرے کی جالی سے پرےجا کھڑا ہوا۔ تب ہی آنے والے کے قدموں کی گونج اُبھری۔ مَیں اس مُلاقاتی کی آمد کا بہت پہلے سے انتظار کررہا تھا، آخر وہ لمحہ آہی گیا تھا۔ وہ دھیرے سے بولے، ’’کیسے ہو…؟‘‘ (جاری ہے)