آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ اسلام میں نکاح کے لیے حق مہر کی شرط کیوں رکھی گئی ہے، اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے ؟

جواب:۔ مہر کی رسم اسلام سے پہلے بھی شریف خاندانوں میں رائج تھی ،اسلام نے اس شائستہ رسم کو برقراررکھا ہے۔یہ رسم عورت کی عظمت اوراہمیت کو ظاہر کرتی ہے،یہ عورت کی معاشی کفالت کاحصہ بھی ہے اوراس سے نکاح کا رشتہ بھی پائیدار اورمستحکم ہوتا ہے۔مہر کی مصلحتوں اورحکمتوں کو بیان کرتےہوئے بدائع الصنائع میں شمس العلماء علامہ علاء الدین کاسانیؒ تحریر فرماتے ہیں: اگر صرف معاہدۂ نکاح کی وجہ سے شوہر پر مہر لازم نہ ہوتو وہ معمولی ناچاقی پیدا ہونے پر بھی نکاح ختم کردے گا،کیونکہ جب مہر اس پر لازم نہیں تو نکاح کاختم کرنا اسےگراں بھی نہیں گزرے گا،یوں نکاح سے مطلوبہ مقاصدحاصل نہیں ہوں گے۔ مزید یہ کہ نکاح کے مقاصد اسی وقت حاصل ہوسکتے ہیں، جب زوجین میں موافقت ہو اورموافقت اسی وقت ہوسکتی ہے کہ جب شوہر کی نظر میں بیوی کی عظمت ہو اورشوہر کی نظر میں اسی وقت بیوی کی عظمت پیداہوسکتی ہے جب اس پرکوئی ایسی چیز لازم کردی جائے جو اس کی نظر میں قیمتی اورقابل قدرہو ،کیونکہ جس چیز کاحصول مشکل ہو،اس کی دل میں قدر ہوتی ہے ،انسان اسے عزیزرکھتا ہے اورجوچیز بآسانی ہاتھ آجاتی ہے، وہ انسان کی نظر میں حقیر ہوتی ہے،لہٰذااگرعورت کی اہمیت اوروقعت شوہر کی نظر میں نہ ہوتو دونوں میں موافقت نہ ہوگی ،نتیجے میں نکاح کے مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔(بدائع الصنائع ۲؍۲۷۵)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: مہر سے نکاح پائیدار ہوتا ہے، نکاح کا مقصد اس وقت تکمیل پذیر ہوتا ہے، جب میاں بیوی خود کو دائمی رفاقت ومعاونت کا خوگر بنائیں، اور یہ بات عورت کی طرف سے تو اس طرح متحقق ہوتی ہے کہ نکاح کے بعد زمام اختیار اس کے ہاتھ سے نکل جاتاہے، وہ مرد کی پابند ہوجاتی ہے، مگر مرد بااختیار رہتا ہے، وہ طلاق دے سکتا ہے، اور ایسا قانون بنانا کہ مرد بھی بے بس ہوجائے، جائز نہیں، کیوں کہ اس صورت میں طلاق کی راہ مسدود ہوجائے گی، اورمرد بھی عورت کا ایسا اسیر ہوکر رہ جائے گا، جیسا عورت اسیر تھی، اور یہ بات اس ضابطے کے خلاف ہے کہ مرد عورتوں پر حاکم ہیں، اور دونوں کا معاملہ کورٹ کو سپرد کرنا بھی درست نہیں، کیوںکہ قاضی کے یہاں مقدمہ لے جانے میں سخت مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اور قاضی وہ مصلحتیں نہیں جانتا جو شوہر اپنے بارے میں جانتا ہے۔ پس مرد کو دائمی نکاح کا خوگر بنانے کی راہ یہی ہے کہ اس پر مہر واجب کیا جائے، تاکہ جب وہ طلاق دینے کا ارادہ کرے تو مالی نقصان اس کی نگاہوں کے سامنے رہے اور وہ ناگزیر حالات ہی میں طلاق دے،پس مہر نکاح کو پائیدار بنانے کی یہ ایک صورت ہے۔دوسری مصلحت:- مہر سے نکاح کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، نکاح کی عظمت واہمیت بغیر مال کے جوکہ عورت کا بدل ہوتا ہے، ظاہر نہیں ہوتی، کیوںکہ لوگوں کو جس قدر مال کی حرص ہے، اور کسی چیز کی نہیں، پس مال خرچ کرنے سے نکاح کا مہتم بالشان ہونا ظاہر ہوتا ہے۔(حجۃ اللہ البالغۃ ۲؍۳۳۶-۳۳۷ حجاز دیوبند رحمۃ اللہ الواسعۃ شرح حجۃ اللہ البالغہ ۵؍۶۸)اس کے علاوہ بھی مہر کی حکمتیں ہیں جو علماء نے لکھی ہیں، مگر اصل حکمت یہ ہے کہ مہر شریعت کا حکم ہے اورہم حکمت کےنہیں بلکہ حکم کےپابند ہیں اورمسلمان کےلیے شریعت کاحکم ہی ہرقسم کی حکمت ہے ،کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ شریعت کاہر حکم انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے ہے۔

اقراء سے مزید