آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناکامی کے خوف پر قابو کیسے پایا جائے؟

ناکامی کا خوف انسان کی زندگی میں پائے جانے والے مختلف غیر حقیقی اور بے بنیاد خوف میں سب سے طاقتور اور بااثر ہوتا ہے۔ بعض افراد اس خوف پر قابو پاتے ہوئے منزل کے لیے راستے ہموار کرلیتے ہیں جبکہ بعض اسے خود پر اس قدر طاری کرلیتے ہیں کہ یہی خوف ان کے راستے کی رکاوٹ بنتے ہوئے ناکامی کی وجہ بن جاتا ہے۔ ہمارے ایک استاد ہم سے اکثر کہا کرتے تھے، ’’ناکامی کامیابی کی کنجی ہے اور خوف کامیابی کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک کامیاب انسان ناکامی کے خوف سے اوپر اٹھ جاتا ہے جبکہ ناکام انسان اس کے خوف میں دبتا چلا جاتاہے‘‘۔

اگر آپ کامیابی کے خواہشمند ہیں تو ذہن میں موجود ناکامی کے خوف کو پس پشت ڈالنا اور یہ جاننا ہوگا کہ دنیا میں کامیاب لوگوں نے کیسے اس خوف پر قابو پایا اور ناکامی کو کامیابی کی سیڑھی سمجھ کر کیسے اپنی منزل حاصل کی۔ اس حوالے سے چند تجاویز ذیل میں درج ہیں۔

ناکامی کا خوف کن حالات میں ہوتا ہے؟

ناکامی یا مسترد کیے جانے کا خوف زندگی میں مختلف مقاصد کے حصول کے دوران محسوس ہوتا ہے۔ ان صورتحال سے نمٹنے کے لیے جذباتی کیفیات کی ضرورت ہوتی ہے، اس دوران آپ اپنے مخصوص ذاتی تجربات سے مدد لیتے ہوئے صورتحال پر قابو پاسکتے ہیں۔ ان میں سے تین صورتحال کا ذکر کیا جارہا ہے:

٭ پہلی صورت پیشہ ورانہ ہے۔ بعض افرادپیشہ ورانہ یا سماجی زندگی میں ناکامی کاخوف محسوس کرتے ہیں مثلاً انھیں لگتا ہے کہ آفس کے مخصوص ماحول میں ان کی ترقی (پروموشن) کبھی نہیں ہوسکتی یا پھر وہ کسی بھی قسم کی نئی ذمہ داریاں بخوبی نہیں نبھاسکتے۔

٭ دوسری صورتحال دوستانہ ہے۔ اکثر لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ نئے دوست نہیں بناسکتے کیونکہ لوگ انھیں پسند نہیں کرتے یا پھر انھیں لگتا ہے کہ لوگ صرف اپنے مفاد کے لیے انھیں استعمال کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف لوگوں کا گروپ جوائن کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

٭تیسری صورتحال تعلقات کی ہے۔ کسی بھی تعلق کو بنانا ایک مشکل ترین عمل ہے، اکثر لوگ مسترد کیے جانے کے خوف کے سبب پوری زندگی کسی سے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرپاتے، انھیں خوف آتا ہے کہ اگر وہ ناکام ہوگئے تو اپنی شکست کیسے تسلیم کریں گے۔ آپ کسی بھی جذبےکے لیے خود کو ناپسندیدہ اور ناقابل اعتمادانسان محسوس کرتے ہیں ۔

خود پر یقین رکھیں

کسی بھی خوف کو مختلف صورتحال میں رکھتے ہوئے بآسانی قابو پایاجاسکتا ہے۔ کوئی بھی ناکامی آپ کےلیے دنیا ختم نہیں کردیتی، آپ کسی بھی صورتحال یا تعلق کو ایک بار پھر سے شروع کرسکتے ہیں۔ برطانوی فلسفی جیمز کے مطابق دنیا میں جتنی بھی بڑی سائنسی ایجادات ہوئیں ان تما م کےمؤجد کو پہلے ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا، ان کی تاریخ پڑھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ کامیابی حاصل کرتے ہیں، وہ در اصل مسلسل ملنے والی ناکامی کے نتیجے کی ہی ایک صور ت ہے۔

خواہشات پر توجہ مرکوزکریں

اپنی خواہشات کا رخ مثبت سمت کریں، یہ دیکھیں کہ کیا آپ اپنے مقاصد کو خواہشات میں تبدیل کرسکتے ہیں؟ مثال کے طور پر ورکنگ انوائرنمنٹ میں ملنے والی ناکامی سے نمٹنے کے لیے اس طرح سوچیں کہ ’’ اگلے سال میں پروموشن حاصل کروں گا‘‘، یہ عزم آپ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مثبت انداز میں عمل کرتے ہوئےکامیابی کی طرف لے جائے گا۔

پیچھے چھپی نفسیات

ناکامی کے خوف پر قابو پانے کے لیے نہ صرف اسے تسلیم کرنا بلکہ اس خوف کا آپ پر آشکار ہونا بھی ضروری ہے۔ ایک بار جب آپ اس خوف کا سامنا کرلیتے ہیں تو آپ خود اعتمادی کے لیے بہتر انداز میں منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ خود اعتمادی اور کامیابی کے لیے ناکامی کے خوف کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ اس کے لیے چند باتوں پر عمل ضروری ہے۔

پیشن گوئی مسترد کریں

جب آپ کسی مقابلے سے قبل ہی اپنی ذات سے متعلق غلط مفروضے قائم کرلیتے ہیں تو دوسرے بھی آپ کوبآسانی مسترد کردیتے ہیں اور آپ کے خوف کو ہوا دیتے ہوئےاسے حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔ دوسری جانب جب آپ ماضی کی کسی ناکامی کوحال میں گواہی کے طور پر تسلیم کرتے ہیں تو ناکامی ہی آ پ کی قسمت بن جاتی ہے، لہٰذا ان مفروضات کو چیلنج کریں اور ان سے لڑنا شروع کریں۔

تصورات کا تخلیقی استعمال

تصورات کی مدد سے بھی ناکامی کا خوف دور کیا جاسکتا ہے۔اس خوف پر قابو پانے کے لیے تصورات کا تخلیقی استعمال کریں، ہر دن خود کو اس صورتحال میں رکھ کر سوچیں جہاں آپ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں خود کو نہ صرف کامیاب بلکہ خوش قسمت تصور کرنے کی کوشش کریں۔ یہ عمل آپ کے خوف کو کم کرتے ہوئے آپ کے خیالات اور توقعات کو مثبت سمت دکھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اصل محرکات جانیں

جب آپ اپنے اعتماد کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہوں تو سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کریںکہ آپ کے اعتماد میں کمی کہاں، کب اور کیسے آنا شروع ہوئی ؟کس چیز نے آپ کو ڈرنا سکھایا؟ وہ کون سے پیغامات ہیں جو آپ کے اعتماد میں کمی کا باعث بنے ؟ جب آپ ان سے متعلق جان لیتے ہیں تو ان سےنمٹنا اور ان پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔

تعلیم سے مزید