آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 24؍ذوالحجہ 1440ھ 26؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’عیدالاضحٰی‘‘ صبر و وفا، ایثار و قربانی اطاعتِ ربانی کی عظیم داستان

ڈاکٹر حافظ محمد ثانی

’’عیدالاضحٰی‘‘جسے عرف عام میں عید قرباں بھی کہا جاتا ہے،یہ اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت اور جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور ان کے فرزند حضرت اسماعیلؑ کے بےمثال جذبہ اطاعت و فرماں برداری اور اللہ کے حضور عظیم قربانی کی یادگاراورایک تاریخ ساز دن ہے۔یہ مذہبی اور رُوح پروَر تہوار ہماری دِینی اور مِلّی تاریخ کی وہ عظیم یادگار ہے جو حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور اُن کے اطاعت شعار اور وفا شعار فرزند، حضرت اسماعیل ذبیح اللہؑ کی طرف منسوب ہے۔یہ تسلیم و رضا،اطاعت و استقامت اور جاں نثاری کی وہ عظیم داستان ہے، جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ وہ عظیم قربانی ہے، جس کی قبولیت پر اللہ تعالیٰ نے مہرِ تصدیق ثبت فرمائی۔ حضرت ابراہیمؑ کے جذبۂ صادق اور حضرت اسماعیلؑ کی اطاعت و فرماں برداری اور تسلیم و رضا کے سبب باپ ’’خلیل اللہ‘‘ اور بیٹے ’’ذبیح اللہ‘‘ کے بلند القابات سے سرفراز ہُوئے۔

حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کی پوری زندگی راہِ خدا میں ہجرت، صبر و استقلال، جرأت و استقامت، راہِ حق میں بڑی سے بڑی آزمائش میں پورا اُترنے، جاں نثاری اور قربانی سے عبارت ہے۔ پروردگارِ عالم کو اپنے خلیلؑ کا یہ جذبۂ صادق اس قدر پسند آیا کہ اسے ایمان کا حقیقی معیار قرار دیا گیا۔ یہی ایمانی جذبہ ہر دَور اور ہر عہد کی کسوٹی ہے۔ صبر و استقلال اور دِین پر استقامت کے حوالے سے حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کی زندگی ایسے روشن چَراغ کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی روشنی قیامت تک اپنی نُورانی کرنیں بکھیرتی رہے گی۔

قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے :’’اور جب ابراہیمؑ کے پروردگار نے چند باتوں میں اُن کی آزمائش کی، پھر اُنہوں نے اُسے پورا کیا تو اللہ نے اُن سے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کے لیے پیشوا بنانے والا ہوں۔‘‘ (سُورۃ البقرہ / 124)

مزید ارشاد فرمایا : ’’اور ہم نے ابراہیمؑ کو دنیا میں منتخب کیا اور وہ آخرت میں یقیناً نیکوں میں سے ہیں، جب اُن کے پروردگار نے اُن سے کہا کہ اپنے کو سپرد کردو، تو اُنہوں نے کہا، میں نے اپنے آپ کو دنیا کے پروردگار کے سپرد کردیا۔‘‘جب کہ ’’سُورۃ النّحل‘‘ میں آپؑ کی جلالت اور منصب و مقام کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا : ’’بے شک ابراہیمؑ لوگوں کے امام (اور) اللہ کے فرماں بردار تھے، جو ایک طرف کے ہورہے تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے، اُس کی نعمتوں کے شُکرگزار تھے، اللہ نے اُنہیں برگزیدہ کیا تھا، اور اپنی سیدھی راہ پر چلایا تھا، اور ہم نے اُنہیں دنیا میں بھی خوبی دی تھی اور آخرت میں بھی وہ نیک لوگوں میں سے ہوںگے۔‘‘ (سُورۃ النّحل / 120تا 122)

حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ دینی حمیّت، ایمانی جذبے، صبر و استقلال اور اپنی جلالتِ قدر کے باعث ہر امتحان اور ہر آزمائش میں پورے اُترے، جب انہیں بادشاہِ وقت نمرود کے حکم سے دہکتی ہُوئی آگ کی نذر کیا گیا، تو اُس وقت جس ایمانی جذبے اور تسلیم و رضا کا مظاہرہ اُنہوں نے فرمایا، وہ انسانی تاریخ میں اُن ہی کا امتیاز اور اُن ہی کا حصّہ ہے۔ اس کے بعد جب آپ کو عزیز از جان لختِ جگر، اسماعیل ؑ اور حضرت ہاجرہؑ کو عرب کے ریگ زار، فاران کے بیابان میں چھوڑنے کا حکمِ خداوندی ملا، تو وہ بھی ایک کڑا امتحان اور سخت آزمائش کا مرحلہ تھا۔ چناںچہ بڑھاپے اور پیرانہ سالی کی دُعائوں، تمنّائوں اور ہزاروں خواہشوں کے مرکز، قلب و نظر کے چشم و چَراغ حضرت اسماعیل ؑ اور ہم دم و غم گُسار اہلیہ حضرت ہاجرہؑ کو آپ صرف اور صرف حکمِ الٰہی کی تعمیل میں بے آب و گیاہ مقام پر چھوڑ آتے ہیں، کہیں سوچنے کا کوئی لمحہ اور تردّد کا کوئی موقع نہیں آنے دیتے کہ مبادا حکمِ خداوندی کی تعمیل میں تاخیر یا حکمِ عدولی نہ ہوجائے۔ اب تیسری آزمائش اور سب سے کٹھن مرحلہ ہے، یہ دونوں امتحانات اور آزمائشوں سے سخت اور جاں گُسل ہے، چناںچہ حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ مسلسل تین رات یہی خواب دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، ’’اے ابراہیمؑ، تُو ہماری راہ میں اپنے اکلوتے بیٹے (اسماعیل) کو قربان کردے۔‘‘

قرآنِ کریم میں اس واقعے کا ذکرکچھ اس طرح ہے:(ترجمہ) ’’پھر جب وہ اُن کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیمؑ نے کہا کہ بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہُوں کہ (گویا) تمہیں ذبح کررہا ہوں، تو تم کہو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ابّا جان، آپ کو جو حکم ہُوا ہے، وہی کیجیے، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائیں گے، جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹادیا تو ہم نے اُنہیں پکارا کہ اے ابراہیمؑ، تم نے خواب کو سچّا کر دِکھایا، ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ، یہ ایک صریح آزمائش تھی، اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ بنادیا۔‘‘ (سُورۃ الصّافّات / 107-102)

حضرت اسماعیلؑ کو راہِ خدا میں نذر کردینے یعنی اُنہیں قربان کردینے کا حکم مسلسل تین رات خواب میں ہوتا رہا۔ پہلی بار اشارہ 8 ذی الحجّہ کی شب ہُوا، صبح اُٹھے تو آپؑ مضطرب تھے، آیا یہ حکم مِن جانب اللہ ہے یا شیطانی وسوسہ ہے؟ اسی مناسبت سے تاریخ میں اُس دن کا نام ’’یوم التّرویہ‘‘ مقرر ہُوا۔ دوسری رات خواب میں وہی حکم دُہرایا گیا، تو آپؑ نے پہچان لیا کہ یہ حکمِ ربّی ہے، اسی بناء پر اُس دن کا نام ’’یومِ عرفہ‘‘ مشہور ہُوا، پھر تیسری رات بھی آپؑ نے یہی خواب دیکھا، چناںچہ صبح یہ عزمِ صمیم کرلیا کہ لختِ جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہے، اسی بناء پر اس عظیم دن کا نام ’’یوم النّحر‘‘ اور بعدازاں عیدالاضحی، عیدِ قرباں مقرر ہُوا۔ (امام فخر الدین رازی / تفسیرِ کبیر 149/7)

قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ ایک طرف 90 سالہ بوڑھا باپ ہے، جسے عمر بھر کی آہِ سحر گاہی کے بعد خانوادۂ نبوت کا چشم و چَراغ عطا ہُوا، جو اُن کا چہیتا اور اکلوتا بیٹا، لختِ جگر اور نُورِ نظر ہے، ایسی حالت میں جب کہ وہ جوانی کی عمر کو پہنچ رہا ہے، یہ عشقِ خداوندی کی آشفتہ سری اور توحیدِ ربّانی کی کرشمہ سازی تھی کہ انتہائی شفیق و رحم دل باپ کے ہاتھ میں چُھری دے کر لختِ جگر اور فرزندِ عزیزکو ذبح کرکے ماسویٰ اللہ کی محبت کا نذرانہ پیش کرنے کا حکم ہوتا ہے، دوسری جانب اطاعت شعاری اور تسلیم و رضا کا وہ لافانی جذبہ تھا، جس نے اسماعیل ؑ کو سرِتسلیم خم کرنے، اللہ کی راہ میں متاعِ عزیز، اپنی جان قربان کردینے اور ذبیح اللہ بن کر ہمیشہ کے لیے امر ہونے پر آمادہ کیا۔ حضرت اسماعیل ؑ حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کے فرزند تھے، پوری رضا اور خوش دلی کے ساتھ گویا ہُوئے: ’’یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَاتُؤمَرُ سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآءَ اللہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ۔‘‘(سُورۃ الصّافّات )

’’ابّا جان، جس کام کا حکم آپ کو دیا گیا ہے، اُسے پورا کیجیے، اِن شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘ تسلیم و رضا، اطاعت شعاری اور جاں نثاری کا یہ وہ بے مثال جذبہ تھا، جس سے متاثر ہوکر شاعرِ مشرق علاّمہ محمد اقبال نے کہا ؎

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سِکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی

حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور اُن کے اطاعت شعار اور فرماں بردار فرزند، حضرت اسماعیل ذبیح اللہؑ کی یہ قربانی پوری انسانی تاریخ میں ایک ممتاز اور منفرد مقام کی حامل ہے۔ تاریخِ عالم کے اوراق اس عظیم قربانی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

شریعتِ محمدیؐ میں اُسوۂ ابراہیمی’’قربانی‘‘ کو ایک دینی و مِلّی شعار، اللہ کی عبادت کا وسیلہ اور اُس کی بارگاہ میں محبوبیت اور قُرب کا مثالی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن و سُنّت میں اس کی عظمت و اہمیت اور فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔’’قربانی‘‘ قربِ الٰہی کا وسیلہ، اللہ کے دربار میں عجز و نیاز مندی، تسلیم و رضا کا سرچشمہ، اور اعترافِ بندگی کا اہم ذریعہ ہے۔ یہ اسلام کے عظیم شعائر میں سے ہے، اس کے فریضۂ عبادت ہونے پر پوری اُمّتِ مُسلمہ کا اتّفاق ہے، جب کہ اس کا وجوب قرآن و سُنّت اور اجماعِ اُمّت سے ثابت ہے۔

رسول اکرمﷺ نے مکّۂ مکرمہ اور مدینۂ منوّرہ دونوں مقاماتِ مقدّسہ پر قربانی فرمائی۔ حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ سے بعض صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ، ان قربانیوںکی حقیقت اور تاریخ کیا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ’’یہ تمہارے (رُوحانی اور نسلی) مُورثِ اعلیٰ حضرت ابراہیمؑ کی سُنّت ہے۔‘‘ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ، ان قربانیوں میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’قربانی کے ہر جانور کے بال کے عوض ایک نیکی ہے۔‘‘ (مُسندِ احمد، سُنن ابنِ ماجہ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جس کے پاس مالی استطاعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔‘‘ (ابنِ ماجہ، مُسندِ احمد)

عید کے مستحب اعمال…!

عید کے دن مندرجہ ذیل امور کا انجام دینا مستحب (پسندیدہ) عمل ہے۔غسل کرنا ۔مسواک کرنا۔اچھا لباس زیبِ تن کرنا۔اگر نیا لباس میسر نہ ہو تو دھلا ہوا لباس پہننا۔نمازِفجر محلے کی مسجد میں ادا کرنا۔عیدگاہ پیدل چل کر جانا۔جلد عید گاہ جانا۔جس راستے سے عیدگاہ جائے، واپس دوسرے راستے سے آنا۔قربانی کرنے والے کا قربانی کے گوشت سے (بطورِ ناشتہ) کچھ کھانا۔

تکبیرِ تشریق کے مسائل…!

۱۔نویں ذی الحجہ سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد جو جماعت کے ساتھ ادا کی گئی ہو،ایک مرتبہ تکبیرِتشریق پڑھنا فرض ہے اور تین بار کہنا افضل ہے۔

۲۔تکبیر ِتشریق کے کلمات یہ ہیں :۔

’’اللہ اکبر، اللہ اکبر،لاالہٰ الاّاللہ واللہ اکبر،اللہ اکبروللّٰہ الحمد۔

۳۔ تکبیرِتشریق سلام پھیرتے ہی پڑھنا واجب ہے۔

۴۔منفرد (تنہا نماز پڑھنے والا) پر تکبیرِتشریق واجب نہیں ،تاہم اس کا بھی تکبیرات کو پڑھ لینا بہتر ہے۔

۵۔عورتوں پرجب کہ وہ گھر میں تنہا نماز ادا کریں ، تکبیرِتشریق شرعا ًواجب نہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید