آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھر کی آرائش سے خواتین کی سلیقہ مندی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہےاور زیادہ تر خواتین گھر کو حسین بنانے کے لیے بہت جتن بھی کرتی ہیں ۔کیونکہ ہر عورت یہ ہی چاہتی ہے کہ اس کاگھر دوسروں سے منفرد اور خوبصورت نظر آئے۔ڈرائنگ روم کی لمبی دیواروںکو خوبصورت بنانے کے لیے چوڑی تصاویر یا سینری لگائی ، اگر آپ کا ڈرائنگ روم چھوٹا ہے توا س کی دیواروں پر چھوٹی چھوٹی پینٹنگز لگانی چاہئیں۔ گھر کے کونوں میں ان ڈور پودے رکھنے سے تازگی کا احساس ہوتا ہے۔کانچ کی خالی بوتلوں پر ربن سے باندھ کر اس میں منی پلانٹ لگاسکتی ہیں۔ مٹی کی صراحی کو رنگ کر آرایشی پھول بھی حسن بڑھا سکتے ہیں۔ اسی طرح پرانی چھاج پر سنہرا رنگ کر کے اس کے کناروں پر گوٹا ستارے چپکا کر اسے دیواروں پر ٹانگا جا سکتا ہے۔گھر کو کھلا، روشن اور ہوادار بنانے میں کھڑکیاں سب سےاہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ نہ صرف گھر میں تازہ ہوا فراہم کرتی ہیں، بلکہ دیدہ زیبی میں بھی اضافے کا باعث بنتی ہے۔ پرانی کھڑکیوں کو دیدہ زیب پردوں کی آرائش سے نیاحسن بخشا جا سکتا ہے۔اس پر لگائے جانے والے رنگ دار شیشوں سے انہیں نئی جدت دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ آج کل کھڑکیوں پر بلائنڈز لگانے کا رواج بھی عام ہوگیاہے۔ پرانی کھڑکیوں کے جال پر سفید پالش کرکے ان کو چمک دار بنایا جا سکتا ہے۔ جالیوں پر جمے میل کی صفائی کے لیے استعمال شدہ ٹوتھ برش کو سرف کے پانی میں ڈبو کر استعمال کریں۔ دروازے اور کھڑکیوں کی صفائی کے لیے پانی میں سرکہ ،چند قطرے لیموں اور کوئی اچھی جراثیم کُش دوا ملائیں اور کپڑے سے داغ دھبوں کو صاف کریں۔ ایسا کرنے سے دروازے کھڑکیاں چمک اٹھیں گی۔ان سب باتوں پر عمل کرکے آپ اپنے گھر کو روشن اور چمک دار بنا سکتی ہیں۔

نصف سے زیادہ سے مزید