آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملکی حالات، لوگوں کی اکثریت باہر جانے کیلئے انگریزی ٹیسٹ دینے لگی

کراچی(سید محمد عسکری) ملک کی خراب معاشی صورتحال اور گرتے ہوئے تعلیمی معیار کے باعث نوجوانوں اور پیشہ وار افراد کی اکثریت نے بہتر مستقبل کیلئے بیرون ملک جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں جس کا اندازہ برٹش کونسل کراچی کے تحت انگریزی کا امتحان ’’آئیلٹس‘‘ (آئی ای ایل ٹی ایس) دینے والے امیدواروں کی بڑھتی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔


ٹیسٹ کی فیس 32 ہزار پاکستانی روپے ہے (جس کا تعین برطانوی پائونڈ کی قیمت دیکھ کر کیا جاتا ہے)۔ یہ ٹیسٹ مختلف تاریخوں پر (عموماً ہر ہفتے) کراچی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد کیا جاتا ہے۔ ہفتے کے روز مقامی ہوٹل میں ہونے والے تحریری ٹیسٹ میں 237؍ امیدواروں نے شرکت کی۔ اس طرح برٹش کونسل کراچی نے ایک ہفتے میں 87 لاکھ روپے کمائے۔ برٹش کونسل کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ اوسطاً 250؍ سے 225؍ امیدوار ہر ہفتے ٹیسٹ دینے آتے ہیں۔ اس طرح ایک سال میں برٹش کونسل کراچی تقریباً 40 کروڑ روپے کماتی ہے۔ لاہور اور اسلام آباد کی کمائی الگ ہے۔ ہفتے کے دن ٹیسٹ دینے والے امیدواروں میں ڈاکٹرز، انجینئرز، جامعات اور کالجوں کے اساتذہ اور بیرون ملک تعلیم کے خواہشمند افراد شامل تھے جو ملک کی معاشی بگڑتی صورتحال، امن عامہ اور معیار تعلیم سے مطمئن نہیں۔ ضلع وسطی میں رہنے والی ایک یونیورسٹی کی خاتون لیکچرر نے بتایا کہ وہ یورپ میں رہائش اختیار کرنا چاہتی ہیں کیونکہ مہنگائی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، ابلتے گٹر، کچرے کے ڈھیر اور بے ہنگم ٹریفک نے برداشت ختم کردی ہے، اسی لیے وہ خاندان کےساتھ بیرون ملک جانے کیلئے یہ ٹیسٹ دے رہی ہیں۔ اس سے قبل ان کے شوہر بھی ٹیسٹ دے چکے ہیں۔ ایک انجینئر نے ’’جنگ‘‘ کو بتایا کہ وہ ملکی صورتحال سے تنگ آکر بیرون ملک جانا چاہتے ہیں کیونکہ ایک سال میں ان سے چار مرتبہ گن پوائنٹ پر موبائل فون چھینے جا چکے ہیں۔ ایک طالبہ نے کہا کہ وہ برطانیہ کی یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتی ہیں ایک اور طابعلم نے بتایا کہ وہ پانچویں مرتبہ یہ ٹیسٹ دے رہا تھا کہ تاکہ زیادہ نمبر لا کر اچھی یونیورسٹی میں داخلہ مل سکے۔ ’’آئیلٹس‘‘ میں امیدوروں سے انگریزی سماعت، بولنے، لکھنے اور پڑھنے کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے، ٹیسٹ کا دورانیہ تقریباً 4؍ گھنٹے ہوتا ہے۔ ٹیسٹ کیلئے پاکستان بھر میں ٹیوشن سینٹر یا مراکز قائم ہیں جو بھاری معاوضے پر ٹیسٹ کی تیاری کراتے ہیں۔ برٹش کونسل کے علاوہ آسٹریلیا کا ادارہ ’’آسٹریلین ایجوکیشن آفس‘‘ AEO بھی اس ٹیسٹ کا انعقاد اور تیاری کراتا ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک کے تعلیم کیلئے جی آر ای، ٹوئفل، جی میٹ اور ایس اے ٹی کا ٹیسٹ دینے والے امیدواروں کی تعداد الگ ہے۔

اہم خبریں سے مزید