آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابھی ڈیلس روانگی ہے، جہاں فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب خان نے ایک کانفرنس منعقد کر رکھی ہے۔ اس کشمیر کانفرنس کی صدارت آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کریں گے جبکہ مہمان خصوصی ری پبلکن رہنما ساجد تارڑ ہوں گے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب پچھلی مرتبہ ڈیلس آنا ہوا تھا تو مقصد شعر سنانا تھا مگر اس مرتبہ کشمیر پر بولنا ہے، جہاں ظلم کے بادل گرج رہے ہیں اور گلیوں میں بارود کی بُو ہے۔ وقت کی قلت کے باعث کانفرنس سے قبل کالم لکھنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ میں تھکا دینے والی مصروفیات نے کئی خواب چھین لئے ہیں، جب خواب ہی میرے پاس نہیں تو پھر میں ان کے رنگ کیسے بیان کر سکتا ہوں۔

اگرچہ مودی سرکار کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج ہو رہا ہے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا بلکہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ کشمیر کا دورہ کرنے والی سی پی آئی ایم ایل کی رکن کویتا کرشنن کہتی ہیں ’’کشمیر کے حالات بہت خراب ہیں، وہاں کی پوری جنتا کو قید کر دیا گیا ہے، ہماری جو رپورٹ ہے اس میں ہم نے کہا ہے کہ ’’قید میں کشمیر‘‘ کیونکہ پورا کشمیر جیل بنا دیا گیا ہے، کشمیریوں کو عید بھی منانے نہیں دی گئی، قربانی بھی نہیں کرنے دی گئی، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے بھارتی میڈیا نہیں دکھا رہا۔ کشمیریوں کے فون بند ہیں، انٹرنیٹ بند ہے، وہاں زندگی قید میں ہے۔‘‘ مقبوضہ کشمیر پر رپورٹ مرتب کرنے والی ٹیم نے جب دہلی پریس کلب میں چند مناظر دکھانا چاہے تو پریس کلب والوں نے انہیں روک دیا، انہوں نے بتایا کہ کسی کو بتانا نہیں مگر ہم پر دبائو ہے کہ کشمیر کے حالات نہیں دکھانے بلکہ سب اچھا کہنا ہے۔ ان سب باتوں کی گواہی کویتا کرشنن دیتی ہیں۔ میں اپنے پاکستانی میڈیا کے تمام نیتائوں (رہنمائوں) سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ تو بہت آزاد ہیں، ذرا بھارتی میڈیا کا حال دیکھیں، شاید آپ کو پتا نہ ہو کہ بھارت میں دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ سے دو گھنٹے پہلے سوالات جمع کروائے جاتے ہیں، ان سوالات کا جائزہ را کے افسران لیتے ہیں اور پھر اجازت دی جاتی ہے کہ ہاں فلاں سوال پوچھا جا سکتا ہے۔ میں اپنے میڈیا کے ناشکرے بھائی بہنوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ تو ہر سوال پوچھ لیتے ہیں، بھارت میں تو سوال کی بھی اجازت لینا پڑتی ہے۔ یہ دنیا کی بڑی جمہوریت کا بھیانک ’’چہرہ‘‘ ہے۔

بھارت کے مکروہ چہرے کی وضاحت کرنل وجے اچاریہ کے استعفے نے کر دی ہے۔ بھارتی فوج کے کشمیر میں ڈیوٹی ادا کرنے والے کرنل وجے اچاریہ نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’’میں نے کشمیر کی وجہ سے بھارتی فوج سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کو ماریں، گزشتہ رات پاکستانی فوج نے میری یونٹ کے پچیس جوان مار دیئے تھے مگر بھارتی میڈیا اس کی کوریج نہیں کر رہا بلکہ خاموش ہے، میں یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتا‘‘۔

خواتین و حضرات! آپ نے گزشتہ سال بھارتی فوجیوں کی وہ وڈیوز تو دیکھی ہوں گی جس میں وہ گھٹیا کھانا ملنے کی داستانیں سناتے ہیں۔ مجھے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مزید افسران اور جوانوں کے مرنے کی خبر ہے مگر اس سے بھی اہم خبر یہ ہے کہ سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کو متنازع ہی قرار دیا ہے۔ نصف صدی کے بعد اس مسئلے پر سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس ہوا۔ جب سے عمران خان حکومت قائم ہوئی ہے، بھارت کو سفارتی محاذ پر پے در پے شکستیں ہوئی ہیں مگر پاکستان کو خلیجی ملکوں پر توجہ دینا چاہئے، انہوں نے ہمیں بہت ہی ایزی لیا ہے حالانکہ ان میں اکثر کی حفاظت ہم کرتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک عرب ملک کے ایک ایئرپورٹ پر پندرہ اگست کو بھارتی جھنڈوں کی تقسیم بہت عجیب لگی۔ یہ وہی ممالک ہیں جو اہم ترین مقدس ناموں سے بغض رکھتے ہیں، ان کا یہ بغض ان کی اسلام سے محبت کو عیاں کرتا ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو عربوں پر بہت افسوس ہے۔ نہرو یونیورسٹی دہلی اور علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سمیت بیرونی دنیا کے مختلف ملکوں میں ہونے والے مظاہرے بھارتی سرکار کے لئے کوئی نیک شگون نہیں ہیں، ان مظاہروں میں کشمیریوں کے علاوہ سکھوں کی بڑی تعداد نے مودی سرکار کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔

سید علی گیلانی کے اہم ترین بیانات آپ کی نظروں سے گزر چکے ہوں گے لیکن سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس نوجوان کی باتیں رہ رہ کر یاد آتی ہیں جس نے ہندوستان کی دھرتی پر کھڑے ہو کر دل کے دکھڑے یوں بیان کئے ہیں کہ ’’کہاں مر گئے 56ملک، کہاں مر گئی 56ملکوں کی آرمی؟ ہم تو چھاتی چوڑی کر کے کہتے تھے کہ ہماری چھپن ملکوں کی آرمی ہے، انڈیا میں ہم مسلکوں میں الجھے رہتے ہیں، داڑھی، ٹوپی، کرتا، پاجامہ بس یہی ہمارے مسلک بن کے رہ گئے ہیں، تیری داڑھی اتنی کیوں ہے، میری داڑھی ایسی کیوں ہے؟ کیا مسلمانوں کو ایسا ہونا چاہئے تھا، قرآن نے تو ہمیں مسلمان یا مومن کہا ہے۔ اگر ہم مسلمان بن کے رہیں گے تو ٹھیک، ورنہ مارے جائیں گے۔ ہمیں مارنے والا ہمارے فرقے نہیں دیکھ رہا، بس وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ یہ کلمہ گو ہے، اسے مار دو۔ یاد رکھو! چپ رہنے سے کام نہیں چلے گا، یہ چپ بھی ہمیں توڑنا پڑے گی، معصوم بچوں کے سر جدا کئے جا رہے ہیں، کہاں ہے انٹرنیشنل میڈیا؟ میں مسلم ممالک سے کہتا ہوں کہ کل مرکے اللہ کو کیا منہ دکھائو گے ہم کیسے بھول جاتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ ’مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں‘ لیکن آج جب دنیا میں جگہ جگہ مسلمانوں کو مارا جاتا ہے تو مسلمان ملکوں کے حکمران چپ رہتے ہیں، یہ مت سوچو کہ مرنے والا ہندوستان کا مسلمان ہے، اگلا نمبر تمہارا ہے، میں مر بھی جائوں تو مجھے اس کی پروا نہیں لیکن تم اپنی آنکھیں کھولو، تم تو جاگ جائو، تم پر یہ ظلم نہ ہو جو ہم پر ہو رہا ہے، اللہ کے واسطے ایک ہو جائو، متحد ہو جائو ورنہ ہم پر ظلم ہوتا رہے گا۔‘‘

اس نوجوان کی پوری گفتگو رلا دینے کے لئے کافی ہے۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ یاد آ گئے کہ

کشمیر میں پھر ظلمت وحشت کی فضا ہے

پھر ظلم کی اٹھتی ہوئی آندھی ہے، گھٹا ہے

اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقت دعا ہے

امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے