آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، ڈاکوؤں کا واٹس اپ گروپ اور سوشل ویلفیئر کا نظام

کراچی میں واٹس ایپ پر’ڈکیت قومی موومنٹ‘ کے نام سے گروپ بناکر اسٹریٹ کرمنلز کو منظم کرنے والے گروہ نے اپنے گروپ کے ممبران کی مدد کیلئے سرکاری اداروں کی طرز پر ویلفئیر کا نظام بھی بنا رکھا ہے، ’ڈی کیو ایم‘ کے سرغنہ اور اس کے ساتھی کو عدالت نے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

ایس ایچ او عزیزآباد حاجی ثناء اللّہ نے "جنگ" کو بتایا کہ ملزمان ارسلان عرف چکنا اور فرحان عرف کوڈو پولیس کو ڈکیتی کی وارداتوں میں مطلوب تھے۔

ملزمان کے خلاف تھانہ عزیزآباد میں ڈکیتی کا مقدمہ الزام نمبر 19/ 173 درج ہے جس میں اس گروپ کا ایک ساتھی کامران عرف ناکو کچھ عرصہ قبل گرفتار ہوا تھا اور باقی ملزمان فرار ہوگئے تھے، پولیس کے مطابق تین دن قبل ان دونوں ملزمان کی گرفتاری کی گئی تو ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا، پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کو عدالت نے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

حاجی ثناء اللہ کے مطابق گرفتار ملزمان نے وارداتوں کی لگ بھگ سینچری مکمل کرلی ہے ملزمان نے ڈکیت قومی موومنٹ کے نام سے واٹس ایپ گروپ بنا رکھا ہے، جس میں ان کے علاوہ لگ بھگ 10 ملزمان ممبران ہیں اور ارسلان اس گروپ کا ایڈمن ہے جو ہر واردات کی منصوبہ بندی واٹس ایپ گروپ میں کرتے ہیں اور ایک واردات میں مختلف چار سے پانچ ڈکیت شامل ہوتے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ ان کے گروہ نے مختلف علاقوں میں بینکوں سے رقوم لے کر نکلنے والے شہریوں سے لوٹ مار کی۔ ملزمان نے عزیز آباد، ناظم آباد، نیو کراچی، میٹھادر، کھارادر، گارڈن اور بریگیڈ تھانوں کے علاقوں میں متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔

ڈی کیو ایم گرہ کے ملزمان متعدد بار گرفتار ہوئے اور جیل بھی جا چکے ہیں۔ملزمان کے مطابق وہ ایک دوسرے کو بذریعہ واٹس ایپ وارداتوں کیلئے بلواتے تھے تاکہ گرفتاری کے بعد کال ڈیٹا ریکارڈ کے ذریعے ان کا ریکارڈ پکڑا نہ جاسکے اور گرفتاری سے بچا جا سکے، گروہ کے گرفتار ساتھیوں کی قانونی اور زخمی ہونے والوں کی طبی امداد اور علاج معالجہ بھی گروپ کے ذمے ہے۔

ملزمان کے مطابق واردات کرنے کے بعد جیل میں گروہ کے ممبران کو کیس لڑنے کیلیے ان کے حصے کی رقم ان کے گھر اور جیل میں پہنچاتے ہیں، گرفتار ملزمان کامران کے وکیل کوفیس اور اہل خانہ کی مالی مدد بھی کرہے ہیں۔

پولیس کے مطابق اس گروپ کا ایک ملزم شہباز گذشتہ دنوں ناظم آباد پولیس مقابلے میں زخمی ہوا، گرفتاری کے بعد اس کے علاج کا خرچہ بھی ملزمان ہی اٹھاتے رہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید