آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اللہ خیر! انسانی تہذیب کے ارتقا کی انتہا پر جدید ترین عالمی معاشرہ بری طرح بھٹک رہا ہے۔ کتنا غضب ہوا کہ انسان اپنی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے، اسے بے پناہ آرام دہ سے پُرتعیش اور رنگا رنگ بنانے کی ایک سے بڑھ کر ایک کامیابی کے ساتھ ساتھ اپنی ہی وسیع تر بربادی و ہلاکت کا سامان بھی کرتا رہا۔ جب انسانی ترقی اپنے عروج پر پہنچی تو جنگ ہائے عظیم کا بھی آغاز ہو گیا۔ پہلی (1914-18) کے بعد دوسری (1939-45) جنگ عظیم 21سال کے عرصہ میں ہوگئی اور دوسری جنگِ عظیم کے دو سال بعد ہی 1947ء میں عالمی سرد جنگ کا آغاز ہو گیا۔ سوویت کمیونسٹ اور امریکن اینگلو بلاکس کے درمیان ہونے والی اس جنگ کا زیادہ تر انحصار ابلاغی ہتھیاروں (Communication weapons)پر تھا، لیکن 54سالہ مدت کی اس نظریاتی جنگ کے دوران تباہ کن اسلحے کی تیاری نے تیز تر دوڑ کی شکل اختیار کی، پھر اسی کوکھ سے ہلاکت خیز ہتھیاروں کی کتنی ہی روایتی جنگوں نے جنم لیا، جیسے کوریا، ویتنام، پاک بھارت، عرب اسرائیل، عراق ایران، گلف بوسنیا، افغانستان کی جنگیں۔ جنگ و جدل کے اسی طویل دورانیے کے متوازی درجنوں ہلاکت خیز علاقائی اور دو طرفہ تنازعات نے پورے عالمی معاشرے کو اقوام متحدہ کی موجودگی میں ہی بڑے اکنامک گیپ کے حامل دو خطرناک زونز ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں تقسیم کر دیا۔ آخری نتائج اور عالمی معاشرے کی موجودہ صورتحال اس قرآنی بیانیے کی مکمل تصدیق کر رہے ہیں کہ ’’بلاشبہ انسان خسارے میں ہے‘‘۔

دیوار برلن کے انہدام یا سرد جنگ کے اختتام (1991) کے بعد 9/11تک کے عشرے میں چوٹی کے طاقتور ممالک کو سینکڑوں صدیوں پر محیط انسانی تاریخ میں سنہرا موقع ملا کہ وہ دنیا کو یوٹوپیا (تخیلاتی پُرامن و خوشحال عالمی معاشرہ) نہ بھی بناتے تو انسانی سکت کے مطابق زیادہ سے زیادہ اس طرز کے مطلوب معاشرے کی تشکیل کر سکتے تھے۔ انسانیت کے اس سب سے بڑے مقصد کے لئے اس سے زیادہ سازگار صورتحال پوری انسانی تاریخ میں نصیب نہیں ہوئی جتنی پوسٹ کولڈ وار کے اس پہلے عشرے کو ملی تھی۔ سونے پہ سہاگہ یہ بھی تھا کہ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ اور اس کا متفقہ اور ہمہ گیر چارٹر بھی موجود تھا (وہ تو اب بھی ہے) وائے بدنصیبی نہ صرف یہ کہ یہ ضائع ہو گیا بلکہ اس میں دنیا کے بڑے حصے کو جہنم بنانے کے بیج بو دیئے گئے۔

سرد جنگ کے اختتام کے ساتھ ہی وسیع تر مسلم دنیا کی بھاری اکثریت کی بے ضرر کیفیت، آمریتوں کی شکل میں اپنی اپنی جغرافیائی حدود میں محدود سماجی پسماندگی کو نظر انداز کر کے بوجوہ (مکمل باجواز) پیدا ہونے والے قلیل تر انتہا پسندی کے رجحانات سے نئی عالمی جنگ کے خدشات اور ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ جیسے مکمل متنازع تھیسز گھڑے گئے اور مسلمانوں کو بطور امہ ہی بنیاد پرست بنانے کا زور دار پروپیگنڈا شروع ہوا۔ یہ بذات خود یکطرفہ جنگ کی قسم تھی۔ اس نے مسلم دنیا، جو طاقتور غیر مسلم ممالک کے مقابل تقریباً راکھ کا ڈھیر تھی، میں دبی انتہا پسندی کی دبی چنگاریوں کو اتنی ہوا دی کہ اس سے جیسے تیسے 9/11، افغان جنگ کا سلسلہ، پاکستان پر پندرہ سالہ دہشت گردی، عراق پر حملہ، شام کی خانہ جنگی، جنگ یمن اور مصر میں جمہوری عمل کا اسقاط کشید لیا۔ آج پورا مشرق وسطیٰ جنگ زدہ بھی ہے اور آلود بھی۔

جنوبی ایشیا، اس کے ہمسایہ خطوں خصوصاً چین اور اس کے تین اطراف کے ہمسایوں، روس اور سنٹرل ایشیا، افغانستان و ایران کے لئے انتہائی توجہ طلب ہے کہ ’’امن و استحکام و خوشحالی‘‘ پر اپنی ہی اجارہ داری قائم رکھنے کے ہوس گیر ممالک اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی روشنی میں عالمی فیصلوں کو اپنے شیطانی مقاصد کے مقابل ہیچ جان رہے ہیں۔ گھڑی گئی موجودہ صورت اور اس کی سمت کا اسٹیٹس کو میں تبدیل ہونا ہی اِن کا بڑا ہتھیار ہے۔

فلسطین کو یہودی بنیاد پرستی اور اس کی عسکری طاقت سے جکڑنے کے بعد آج مقبوضہ کشمیر کی کل آبادی کا 24روز سے Troops-Lockedہونا، افغانستان کا مسلسل عدم استحکام، پاکستان پر جاری دہشت گردانہ حملے اور بھارت میں ہندو بنیاد پرستی کا تسلط بذریعہ ووٹ اور میڈیا، نئی گھڑی گئی عالمی جنگ‘ ففتھ جنریشن وار کی عملی شکل ہے۔

کیسی منصفانہ صورت ہے جس ملک کو ذمہ دار اور دوست سمجھ کر اسے مسئلہ کشمیر کے پُرخطر پہلوئوں سے آگاہ کیا جاتا ہے (جبکہ ان کے سفارتی ذرائع سب اطلاعات دے رہے ہیں) ان میں سے کوئی کڑی نظر رکھنے اور تشویش محسوس کرنے سے آگے نہیں جاتا۔ سابق امریکی صدر نے تو کوئی دو عشرے قبل مسئلہ کشمیر کو عالمی امن کے لئے فلیش پوائنٹ قرار دے دیا تھا۔ یہ ایک انتباہ تھا۔

آج یہ فلیش پوائنٹ خطرے کی سیٹیاں بجاتا تیزی سے بلنک (Blink) ہو رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو 8لاکھ بھارتی فوج اور آر ایس ایس کے ڈیڑھ لاکھ غنڈوں کے محاصرے سے دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے۔ نئی دہلی میں بلسیڈ عالمی میڈیا کے نمائندے اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ اپنے چینل، اخبار کی کریڈبیلٹی بچانے کے اہتمامِ حجت کے علاوہ اتنی سنگین صورتحال، جو جاری بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو چکی ہے، پر اکا دکا رپورٹس سے آگے گمبھیر کشمیر اَن رپورٹڈ ہو گیا ہے۔ جنہوں نے کڑی نظر رکھی ہوئی ہے، انہیں کچھ نظر نہیں آ رہا۔ بھارتی وزیر داخلہ کے بیان کہ ’’پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے کی اپروچ بدل سکتے ہیں‘‘، مودی کے ہنگامی بنیاد پر اسلحہ خریداری کے مشن، اسرائیل کی بھارت میں عسکری موجودگی اور پس منظر میں ایئر فورس کی جھڑپ کے باوجود ’’ذمہ داران ممالک‘‘ بھارت کے ساتھ اپنے کاروباری اور اسٹرٹیجک مفاد کے حساب کتاب میں لگے ہوئے ہیں۔

اس صورت حال نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور نیشن اسٹیٹس کے کاروباری مفادات میں ایک تصادم کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا مکمل اور خود بھارت کا بھی پیشہ ورانہ طور اور مطلوب عالمی ضروریات کے مطابق اَن رپورٹڈ اور دنیا کا بھارتی رویے سے اتنا بے بس ہونا انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔ (جاری ہے)