آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وزیراعظم پاکستان سے گزشتہ کئی ملاقاتوں میں ملکی معیشت میں سست روی اور بزنس کمیونٹی کی سرمایہ کاری میں عدم دلچسپی کی وجوہات کے بارے میں وزیراعظم کے دریافت کرنے پر بزنس کمیونٹی نے کئی بار یہ بات واضح کی کہ نیب کے بزنس مینوں کے خلاف مقدمات اور کارروائی سے بزنس کمیونٹی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بزنس مین کسی نئے پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے جس سے معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں اور ملک میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ اسی موضوع پر وزیراعظم کی کابینہ میں بحث پر بھی مشیر تجارت عبدالرزاق دائود اور دیگر وزراء نے اس بات کی تائید کی کہ بیورو کریٹس کسی فائل پر کوئی فیصلہ نہیں کر رہے اور بزنس کمیونٹی بھی نئے پروجیکٹس میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہی ہے۔ اِسی دوران نیب ملتان نے بہاولپور، ڈی جی خان اور ملتان کے فلور ملز مالکان کو نوٹسز بھیجے اور اس تناظر میں گزشتہ دنوں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس (FPCCI)کے اعلیٰ سطحی وفد نے صدر انجینئر دارو خان اچکزئی کی قیادت میں قومی احتساب بیورو (NAB) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال سے نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ملاقات کی۔فیڈریشن کے صدر نے چیئرمین نیب کو بتایا کہ ایف پی سی سی آئی نیب کی ملک سے کرپشن ختم کرنے کی کوششوں کی قدر کرتی ہے لیکن فلور ملز مالکان کو جو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں، اس سے بزنس کمیونٹی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے بھی بزنس مینوں پر انکم اور سیلز ٹیکس کے سلسلے میں مقدمات بنائے گئے ہیں حالانکہ ٹیکس معاملات کیلئے ایف بی آر کا ادارہ موجود ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بزنس کمیونٹی بلاجواز خوف و ہراس کا شکار ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملک کی موجودہ معاشی زبوں حالی میں نیب کا ہاتھ ہے اور نیب اور ملکی معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کاروباری برادری سے وعدہ کیا کہ ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والوں کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے فلور ملز کو بھیجے جانیوالے نوٹسز فوری طور پر معطل اور انکم و سیلز ٹیکس سے متعلقہ مقدمات ایف بی آر کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کیلئے اہم حکومتی فیصلے مثلاً ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد سے معیشت پر دبائو ہے اور اس میں نیب کا کوئی عمل دخل نہیں۔ چیئرمین نیب نے بتایا کہ بزنس کمیونٹی کی شکایتوں کے ازالے کیلئے نیب ہیڈ کوارٹر میں ڈائریکٹر کی سربراہی میں ایک ڈیسک تشکیل دیا گیا ہے تاکہ بزنس کمیونٹی کی شکایتیں براہِ راست چیئرمین نیب کو پیش کی جا سکیں مگر تین مہینے گزرنے کے باوجود اب تک بزنس کمیونٹی کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

چیئرمین نیب نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ کاروباری حضرات کا احترام کرتے ہیں اور آئندہ کسی تاجر کو نیب کے دفتر نہیں بلایا جائیگا بلکہ اُسے سوالنامہ دیا جائیگا جس کے جواب پر تاجر کیخلاف کرپشن کیس بنانے کا فیصلہ کیا جائیگا؛ تاہم انہوں نے ایسے بزنس مینوں جو سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کیساتھ کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، کیخلاف کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے فالودے اور ریڑھی والے کے اکائونٹس سے ڈھائی ارب روپے کی ٹرانزیکشن کرنے والے لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کو جائز قرار دیا اور بتایا کہ نیب لاہور کے ریجنل آفس کے پاس تاجر برادری کی انتہائی نامور شخصیات کے خطوط موجود ہیں جس میں انہوں نے نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے اور کسی قسم کی شکایت نہیں کی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب آزاد ہے اور ملکی مفاد میں بغیر کسی خوف کے ہر قدم اٹھایا جائے گا۔بیورو کریسی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود وفاقی بیورو کریسی سے ملے ہیں اور انہیں یقین دلایا ہے کہ 17سے 21گریڈ تک جتنے مقدمات درج ہوں گے، ان کی وہ خود نگرانی کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے گزارش کی کہ ایسے بیورو کریٹس جن کے خلاف تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، کو اہم عہدوں پر تعینات نہ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ نیب تفتیش کیلئے کسی خاتون کو نیب آفس نہیں بلائے گا اور اگر ضروری ہوا تو خاتون تفتیشی افسر کو سوالنامے کے ساتھ ان کے گھر بھیجا جائے گا اور ان کی کوشش ہوگی کہ کسی خاتون کیخلاف نیب کیس دائر نہ ہو۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے ملاقات اور اُنکے پالیسی بیانات سے بزنس کمیونٹی کو ریلیف ملا ہے۔ میں نے اکثر ٹی وی پروگراموں اور اپنے کالموں میں یہ کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کے سیلز اور انکم ٹیکس کے معاملات کیلئے ایف بی آر کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں جس کے تحت وہ اکائونٹس منجمد کر سکتے ہیں اور بے نامی جائیدادوں کو ضبط بھی کیا جا سکتا ہے لہٰذا نیب کے چیئرمین کا کاروباری برادری کے ٹیکس معاملات ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ خوش آئند ہے جسکے ملکی معیشت پر یقیناً مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ میں حکومت کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ بزنس کمیونٹی کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے گزشتہ کابینہ کے اجلاس میں حکومت نے نیب قوانین میں چند تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو انصاف کے تقاضوں پر مبنی ہے۔ آخر میں مَیں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

ادارتی صفحہ سے مزید