آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

امریکی کانگریس کے رکن اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما اینڈی لیون (Andy Levin) نے اگلے روز اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370کو منسوخ کرنے جیسے اقدامات سیکولر بھارت کے لئے سنگین خطرہ بن گئے ہیں۔ بھارت پر سیکولرازم کا جو ملمع چڑھا ہوا تھا، وہ تیزی سے اتر رہا ہے۔ اینڈی لیون نے اپنے ٹویٹ میں یہ بھی یاد دلایا ہے کہ 2005ء میں بش انتظامیہ نے نریندر مودی کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا کہ مودی بھارتی گجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام رکوانے میں ناکام رہے تھے۔

اینڈی لیون کی اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ انتہا پسندی کسی بھی قوم اور ملک کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کو بار بار ثابت کر چکی ہے۔ نریندر مودی سیکولر بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے غیر ہندو اقوام یا گروہوں کا بھارت میں رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا منطقی انجام وہی ہو گا جو تنگ نظر اور متعصب گروہوں کی بالادستی کے باعث دیگر ریاستوں کا تاریخ میں ہوا لیکن اس وقت امریکہ بھی اسی راستے پر گامزن ہے جس راستے پر مودی نے بھارت کو ڈال رکھا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نریندر مودی سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ جس امریکہ نے جارج بش کے دور میں مودی کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی تھی، وہی امریکہ ٹرمپ کے دور میں مودی کو نہ صرف گلے لگا رہا ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم لوگوں کے قتلِ عام اور ان پر ہونیوالے مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ترقی پسند اور روشن خیال قوتیں کمزور ہو گئی ہیں جبکہ ہر قسم کی انتہا پسند قوتیں طاقت حاصل کر رہی ہیں۔ اگرچہ یہ تاریخ کا عارضی مرحلہ ہے لیکن اس وقت حقیقت یہی ہے۔ دنیا تنگ نظر اور انتہا پسند رہنمائوں کے شکنجوں میں جکڑی جا رہی ہے۔ امریکہ کے ایک تھنک ٹینک ’’سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘‘ کی یہ بات درست ہے کہ مودی اپنے آپ کو خطے کے ’’اسٹرانگ مین‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اپنے اس امیج کے گرد اس نے ہندو قوم پرستی کا جال بُنا ہوا ہے۔ بالکل اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفید فام نسل پرستی کی وجہ سے ’’مقبول‘‘ لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ دیکھا جائے تو پوری دنیا اسی تنگ نظر سیاست کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔

مغرب کی استعماری، سامراجی اور نو آبادیاتی طاقتوں نے تعصب، تنگ نظری، نسل پرستی اور فاشزم کی بنیاد پر تاریخ میں وہ مظالم کئے کہ جب تک انسان کرہ ارض پر ہیں، ان مظالم پر نہ صرف وہ بلکہ خود تاریخ شرمندہ رہے گی۔ اسی مغرب میں 14ویں صدی سے 17ویں صدی تک ’’رینے سان‘‘ (Renaissance) یعنی نشاۃ ثانیہ کا وہ دور آیا، جس میں انسانیت کا نظریہ پروان چڑھا۔ تنگ نظری کے بجائے روشن خیالی آئی۔ انسانوں کے انفرادی اور بنیادی حقوق کو تسلیم کیا گیا اور فنون، سائنس، آرکیٹیکچر کو ترقی دی گئی۔ مغرب کی بالادستی کو استعماری اور استبدادی مظالم سے زیادہ نشاۃ ثانیہ والی سوچ سے حقیقی تقویت ملی اور باقی دنیا نے اس سوچ کو مغرب کی تہذیبی بالادستی کے طور پر تسلیم کیا لیکن جو مغربی اقوام تنگ نظر قیادت کے ہتھے چڑھیں، ان کا انجام بہت برا ہوا۔

آج مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جس میں ان کے لئے عالمی سطح پر وہ ہمدردیاں نہیں ہیں، جو ہونا چاہئے تھیں۔ اس کی وجہ دنیا میں ترقی پسند اور اشتراکی تحریک کا کمزور ہونا ہے۔ تیسری دنیا کے غیر وابستہ ممالک کے علاقائی سطح پر سامراج مخالف جو بلاک بن رہے تھے، وہ ختم ہو گئے۔ مسلم بلاک بھی ایک سامراج مخالف بلاک تھا۔ مسلم ممالک کو ان رہنمائوں کا قبرستان بنا دیا گیا ہے جو مسلم بلاک کے لئے کام کر رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آج مسلم دنیا میں کشمیریوں کیلئے آواز نہیں اٹھ رہی۔ واضح رہے کہ مسلم بلاک مذہب سے زیادہ علاقائی بنیاد پر سامراج مخالف بلاک بن رہا تھا۔ انتہا پسندی نے تو مسلم دنیا کو برباد کیا۔ موجودہ حالات میں ہمیں بھی پاکستان کو انتہا پسندی سے بچانا ہے۔

مودی کے اقدامات یقیناً بھارت کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے، وہ بھگت رہے ہیں۔ بھارت پر ان مظالم کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے جو کچھ کر رہا ہے، یہ دنیا کی ہر قوم کرتی بشرطیکہ دنیا میں ترقی پسند تحریک مضبوط ہوتی۔ کشمیر کے مسئلے پر ہماری انتہا پسند قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں، اس سے پہلے کہ معاملات کوئی اور رخ اختیار کریں، پاکستان کی ترقی پسند، روشن خیال اور وفاق پرست جماعتوں کو مظلوم کشمیری عوام کے لئے سفارتی اور سیاسی مہم میں زیادہ شریک کیا جانا چاہئے۔ مظلوم کشمیری عوام کا کیس مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانی حقوق کی بنیاد پر دنیا کے آگے پیش کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے کاز کو نقصان پہنچے گا بلکہ پاکستان کی سیاست کچھ اور ہاتھوں میں جا سکتی ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید