آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذوالفقار علی بھٹو کے لئے موت کی کال کوٹھڑی میں اخبارات اور ریڈیو کی سہولت ختم کر دی گئی تو وہ جیل کے عملے سے باہر کی دنیا کے بارے میں خبریں لیتے تھے۔ آخری دنوں میں جب جیل کا کوئی اہلکار علی الصبح ان کے پاس جاتا تھا تو وہ سب سے پہلے یہ سوال کرتے تھے کہ کیا سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہو چکی ہیں؟ یہ بات اعلیٰ حکام کو بتائی گئی کہ بھٹو صاحب روز یہ سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ افغانستان میں سوویت یونین (موجودہ روس) کی فوجیں داخل ہونے والی ہیں۔ امریکہ بھی میدان میں کودیگا، افغانستان میں ایک بڑی جنگ کا آغاز ہو رہا ہے۔ اسلئے میری منتخب حکومت کا تختہ الٹا گیا اور ضیاء الحق کو اقتدار میں لاکر پاکستان کو اس جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ حکام بھٹو صاحب کی یہ بات سن کر ہنستے تھے اور کہتےتھے کہ موت کے خوف نے بھٹو صاحب کے ذہن پر بہت اثرات ڈالے ہیں۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ 25دسمبر 1979ء کو سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں۔ اس کے بعد وہی ہوا، جس کی بھٹو صاحب نے پیش گوئی کی تھی۔

افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ کو اس سال 25دسمبر کو پورے 40سال ہو جائیں گے۔ آج تک وہاں جو ہو رہا ہے، وہ اسی جنگ کا تسلسل ہے۔ 15مئی 1988ء سے سوویت افواج کا وہاں سے انخلا شروع ہوا۔ اس کے بعد وہاں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ 1996ء سے 2001ء طالبان کی حکومت رہی، ستمبر 2001ء امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ اس کے بعد القاعدہ اور طالبان کو ختم کرنے کے بہانے امریکہ اور اس کی اتحادی نیٹو افواج افغانستان میں داخل ہو گئیں، جن کے انخلا کی باتیں پچھلے پانچ سال سے چل رہی ہیں۔ ان چالیس سالوں میں جو تباہی افغانستان میں ہوئی، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تاریخ کا نوحہ ہے۔ صرف افغان قوم ہی برباد نہیں ہوئی، پاکستانی قوم نے بھی تاریخ کے بدترین نقصانات اور بربادی کا سامنا کیا ہے۔ تاریخ نے بھٹو صاحب کی یہ بات بھی درست ثابت کر دی کہ پاکستان میں سیاسی اور داخلی محاذ پر جو کچھ ہوتا ہے، وہ افغانستان میں ہونے والی ’’گریٹ گیم ‘‘ کا حصہ ہے۔ ضیاء الحق سے لے کر آج تک پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں بنی یا ختم کی گئی ہیں، وہ اسی گریٹ گیم سے جڑی ہوئی ہیں۔ بھٹو صاحب کو تاریخ نے بار بار سچا ثابت کیا ہے۔

اب پاکستان کے سیاسی، معاشی اور داخلی معاملات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں امن کی بحالی اور اس خطے میں ’’گریٹ گیم‘‘ کے خاتمے میں مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس گریٹ گیم کو جاری رکھنے کیلئے عالمی طاقتوں خصوصاً امریکی کیمپ نے سب کو ان کے مخصوص مفادات کے ذریعہ ملوث کر رکھا ہے۔ اس صورت حال سے افغانستان اور پاکستان سمیت پورے خطے کو نجات دلانے کیلئے بھٹو جیسے سیاسی رہنما کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں نہ صرف بھٹو کا متبادل لیڈر پیدا نہیں ہو سکا بلکہ سیاست کمزور ہوئی ہے اور سیاست دانوں کا داخلی اور خارجی معاملات میں عمل دخل ختم ہوا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کیلئے افغانستان میں امن کی بحالی خود افغانستان سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ عظیم تباہی سے نکلنے کیلئے سیاسی صف بندی جاری ہے جبکہ ہم سیاسی طور پر نئے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کو جو کرنا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے چین کی کوششوں کا ساتھ دینا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت کیلئے یہ تاریخ کی آزمائش ہے۔

چین کی افغانستان میں بحالیٔ امن کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ اس وقت اگرچہ امریکہ کے ساتھ ساتھ روس بھی بحالیٔ امن کیلئے افغانستان کے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کر رہا ہے لیکن میرے خیال میں چین نے اپنے طور پر جو کوششیں شروع کی ہیں، وہ خوش آئند ہیں۔ امریکہ نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے کئی دور کرائے جبکہ روس نے ماسکو میں امن کانفرنسز کا انعقاد کیا۔ امریکہ کیا چاہتا ہے اور روس کیا چاہتا ہے، ان دونوں کے درمیان مقابلے سے افغانستان میں قیامِ امن کی کاوشوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ان سوالات کے جوابات کیلئے ایک الگ کالم ہو سکتا ہے۔ چین نے پہلے امریکہ اور روس کی کوششوں کی حمایت کی۔ اس کے بعد اس نے پاکستان سے رابطہ کرکے پہلی مرتبہ 2015ء میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان چین میں مذاکرات کرائے۔ پھر جولائی 2015ء میں پاکستان میں مری میں مذاکرات کا ایک دور ہوا۔ چین بحالیٔ امن کی کوششوں میں امریکہ اور روس دونوں سے تعاون کر رہا ہے۔ ہفتہ 7ستمبر کو اسلام آباد میں روس، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات بہت آگے کا عمل ہے۔ تینوں ممالک افغانستان میں قیامِ امن اور تعمیرِ نو کیلئے پانچ نکات پر متفق ہوئے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ یہ صرف سہ فریقی مذاکرات نہیں ہیں بلکہ اس سے ’’شنگھائی تعاون تنظیم‘‘ کے ایک عالمی فورم کے طور پر بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی ہوتی ہے۔ چین نے افغانستان کی تعمیرِ نو اور افغان فوج کی صلاحیت میں اضافہ کیلئے بہت بڑی اور سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اور سرزمین افغانستان پر عملاً ایسے کام کئے ہیں، جو حالات کو نارمل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ چین ان لوگوں کو بھی باعزت ’’سیف ایگزٹ‘‘ فراہم کر سکتا ہے، جن کے مخصوص مفادات افغانستان کی تباہی اور اس خطے میں بدامنی سے جڑے ہوئے ہیں۔ آج جبکہ صدر ٹرمپ نے دوحہ میں طالبان سے جاری مذاکرات ملتوی کر دیئے ہیں اور کیمپ ڈیوڈ میں صدر اشرف غنی اور سینئر طالبان قیادت سے ہونے والی ملاقات بھی ملتوی کر دی ہے، چین کی کوششوں میں خطے کے دیگر ممالک خصوصاً شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو بھی شامل کرنا چاہئے کیونکہ اب ہمیں یہ بتانے والا کوئی نہیں ہے کہ افغانستان میں کیا نیا کھیل شروع ہونے والا ہے۔ ہمیں چینی سیاسی قیادت کے وژن سے رہنمائی لینا چاہئے۔