آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عصرِ حاضر میں سفارت کاری مکمل نہیں تو بڑی حد تک مفادات کے تحت آ چکی ہے تاہم ایران ایسے ہمسائے کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا، تاریخ شاہد ہے کہ جنگ ستمبر ہو یا کوئی اور مشکل مرحلہ ایران نے ہمیشہ پاکستان کی مدد اور حمایت کی۔ یہ اُسی دوستانہ بندھن کا ثمر ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کے ترمیمی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، پاکستان انٹرا اسٹیٹ گیس سسٹم اور نیشنل ایرانین گیس کمپنی کے مابین ترمیمی معاہدے پر دستخط اس حوالے سے اہم پیش رفت ہے کہ اب ایران پائپ لائن تعمیر میں تاخیر پر ثالثی کیلئے عالمی عدالت میں نہیں جائے گا۔ سردست دنیا کے کم و بیش سبھی ممالک کی اولین ترجیحات میں سے ایک توانائی کا حصول اور اس کی مسلسل ترسیل ہے چنانچہ بہت سے ممالک توانائی کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے معاہدے کر رہے ہیں اور امریکہ نے تو منہ زوری کرتے ہوئے بے بنیاد الزامات پر عراق کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا تھا، الزام تو سچ ثابت نہ ہوئے البتہ عراق کے 80فیصد تیل پر امریکی کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ پاکستان کو بھی اپنی بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے توانائی کی ضرورت تھی اور ہے چنانچہ پاکستان اور ایران کے مابین گیس پائپ لائن کا ابتدائی معاہدہ 1995میں ہوا جسے 1999بھارت تک وسعت دینے کا فیصلہ ہوا۔ 2009میں بھارت نے یہ معاہدہ منسوخ کر دیا اور امریکہ سے سول نیوکلیئر ڈیل کر لی۔ پاکستان پر بھی دبائو آیا۔ ایران اپنے علاقے میں تعمیر مکمل بھی کر چکا تھا اور معاہدے کے مطابق تعمیر نہ کرنے پر پاکستان کو جرمانہ بھی ادا کرنا تھا، تاہم ایران نے ایسا نہیں کیا اور ترمیمی معاہدہ کر لیا ہے، ہمیں بھی اچھی ہمسائیگی کا ثبوت دیتے ہوئے گیس پائپ لائن پر فوری کام شروع کرنا چاہئے کہ اس سے سستی گیس ہی نہیں ایران سے دوستی بھی مزید مضبوط ہو گی۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998