آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سندھ حکومت نے ہندو برادری کا مطالبہ منظور کرلیا

لاڑکانہ کے بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتہ چاندانی کی پرسرار موت پر سندھ حکومت نے ہندو برادری کا مطالبہ منظور کرلیا۔

مشیر قانون سندھ مرتضی وہاب نے اپنا وعدہ پورا کردیا، جس کے لیے سندھ حکومت نے عدالتی تحقیقات کے لیےخط لکھ دیا۔

مشیر قانون سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے گزشتہ روز اقلیتی برادری سے جوڈیشل انکوائری کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: لاڑکانہ، میڈیکل کی طالبہ کی خود کشی قتل قرار

واضح رہے کہ گزشتہ روز شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ کے ماتحت بی بی آصفہ ڈینٹل کالج میں فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا امرتا مہر چندانی کی لاش کالج ہاسٹل میں ان کے کمرے سے ملی تھی جس پر کہا گیا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی ہے جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی وجہ خودکشی قرار دی گئی ہے۔

یونیورسٹی وائس چانسلر انیلا عطاءالرحمٰن نے نمرتا کی گردن پر پائے جانے والے نشان کوخود کشی قرار دیتےہوئے کہا کہ وجوہات جاننےکے لیے پرنسپل چانڈکا میڈیکل کالج کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: شعیب اختر نے بھی نمرتا کیلئے آواز اٹھادی

پولیس نے واقعے پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور نمرتا کی ساتھی طالبات اور دیگر افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔

نمرتا کا خاندان ان کی موت پر غم سے نڈھال ہے۔طالبہ کے بھائی ڈاکٹر وشال نے بہن کی خودکشی کو قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہن کو قتل کیا گیا، اسے کوئی مالی یا گھریلو پریشانی نہیں تھی۔

قومی خبریں سے مزید