آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی دوسری ٹرم کے آغاز میں مسئلہ کشمیر کاا پنے تئیں جو حل نکالا ہے، یہ انوکھا یا نرالا نہیں قطعی متوقع تھا۔ اگرچہ یہ اتنا بھاری پتھر ہے جسے اٹھانے کے لیے غیر معمولی اعتماد اور دل گردہ درکار تھا کیونکہ ناکامی کی صورت میں مودی سرکار کو ہی نہیں، خود دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں مگر انہوں نے سوچا کہ اس سے بھلا موقع بھارت کے لیے شاید کبھی نہ آئے گا جب بھارتی قوم کی اتنی بھاری اکثریت ان کی پشت پر کھڑی ہے اور مخالف طاقت میں دھینگا مشتی کا سماں ہے۔اس سارے قصد میں انہوں نے جو سب سے بڑی غلطی کی ہے وہ کشمیر بالخصوص وادی کے عوام کو اعتماد میں نہ لینا ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حریت والے تو رہے ایک طرف، وہ جو روزِ اول سے بھارت کے اتحادی و ہمنوا ہیں، ان میں سے کسی ایک کو بھی مودی جی اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ایسے میں جو وسیع تر عوامی لاوا پھٹ رہا ہے یا پھوٹے گا، آخر اُن کے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے جس سے وہ اُس پر اپنا نقصان کروائے بغیر کامیابی سے قابو پا لیں گے؟ درویش نے بارہا اپنے ان کالموں میں گزارش کی ہے کہ اگر ہم کشمیریوں کے سچے ہمدرد ہیں تو پھر اُن کی قومی جدوجہد کو مذہبی رنگ دینے سے باز رہیں، اگر ہم لوگوں نے اسے ’’جہاد‘‘ جیسی اصطلاحات سے مزین کرنا چاہا تو پھر اس اصطلاح سے نالاں عالمی برادری ہمارے بالمقابل کھڑی بھارت سے اظہارِ ہمدردی و یکجہتی کر رہی ہو گی۔ پاکستان کو کشمیر ایشو سو فیصد انسانی مسئلہ بنا کر پیش کرنا چاہئے۔ اس مرتبہ ہم نے اب تک جو احتیاط دکھائی ہے، یہ اُسی کا ثمر ہے کہ دنیا میں وسیع تر بھارتی سیاسی و سفارتی اثر و رسوخ کے باوجود ایمنسٹی انٹرنیشنل سے لے کر حقوق انسانی کے مختلف ادارے اور تنظیمیں بشمول عالمی میڈیا، کشمیریوں کے انسانی ایشو کو ہم سے بہتر طور پر اٹھا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی کونسل میں پاکستان کو بھارت کے خلاف بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے، جنیوا میں 58ممالک نے اپنے اعلامیے میں مطالبہ کیا ہے کہ بھارت اپنے زیر کنٹرول کشمیر میں طاقت کا استعمال بند کرے، لوگوں سے ان کے جینے کا حق نہ چھینا جائے، کرفیو ختم کرتے ہوئے سیاسی قیدی رہا کرے اور ذرائع ابلاغ بحال کرکے مسئلے کا پُرامن حل نکالے۔ نیویارک سے اطلاع ہے کہ عالمی انسانی حقوق کمیشن نے کشمیر میں گرفتاریوں، کرفیو اور مواصلاتی پابندیوں پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے، مودی سرکار کشمیر کے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ دنیا مقبوضہ کشمیر کے حالات جاننا چاہتی ہے، بھارتی حکومت انسانیت کا مظاہرہ کرے، مواصلاتی بلیک آؤٹ ختم کرتے ہوئے کشمیریوں کو بولنے دے۔ کشمیریوں کو یوں بدظن کر کے آپ کشمیرکو اپنے ساتھ کس طرح رکھ سکیں گے۔وزیراعظم مودی نے جو اتنا بڑا رسکی اسٹینڈ لیا ہے، اُس کا فوری تقاضا تو یہ تھا کہ وہ کشمیری عوام کی تالیفِ قلب کے لیے دن رات ایک کر دیتے، اپنے ملک کے تمام تر وسائل کا رخ کشمیر کی طرف موڑ دیتے، مقبوضہ علاقے کے عوام بالخصوص وادی کے مسلمانوں کو یہ یقین دہانی کرواتے کہ آرٹیکل 370اور 35Aکو ختم کرکے درحقیقت ہم نے آپ لوگوں کے ساتھ پنڈت نہرو کے پیدا کردہ فاصلوں کو مٹایا ہے، مگر اس کے برعکس ہو کیا رہا ہے؟ ہو یہ رہا ہے کہ جیسے کسی کو باندھ کے مارا جائے۔ لوگوں کو گھروں میں زبردستی بند کر دیا جائے، بیمار اپنے لیے دوائیں خریدنے بازار جانے سے بھی قاصر ہو جائیں۔ ضروریاتِ ز ندگی سے ہر فرد کو محرومی دے دی جائے۔ بھارت نواز کشمیری قیادت بھی اپنے عوام سے نہیں مل پا رہی اور تو اور کانگرس جیسی ملک گیر پارٹی کے رہنما راہول گاندھی اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے ملنے کے لیے سرینگر آتے ہیں تو انہیں ایئر پورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا جاتا اور دہلی روانہ کر دیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسی خوفناک صورتحال آخر کب تک؟ اس کے بعد سیکولر جمہوری بھارتی آئین میں دیئے گئے حقوق کی مطابقت میں کشمیری لوگوں کے حقِ تقریر و تحریر اور حقِ احتجاج کو کیسے روکا جا سکے گا؟ اگر آپ ان احتجاجی ریلیوں پر تشدد کریں گے، لوگ مریں گے یا زخمی ہوں گے تو یہ آگ مزید بھڑکے گی، جس کی پوری دنیا میں شنوائی اور آپ کی جگ ہنسائی ہوگی۔ مانا کہ بھارتی عوام کے لیے آپ کا یہ فیصلہ پالولر ہے،بھارتی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ شاید اس طرح ان کا ملک دہشت گردی و انتہا پسندی کے گرداب یا ڈراؤنے خواب سے نکل جائے گا، وادی میں امن و سلامتی کی فضائیں پھر سے چل پڑیں گی لیکن ایشو یہ ہے کہ جن پر یہ ساری بھاری صورتحال گزر رہی ہے، ان کی بھاونائیں بھی تو سمجھی جائیں، ان کے درد کا دارو بھی تو تلاش کیا جائے۔

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ مسئلے کا آخری حل کیا نکلے گا؟ اگر ہم مقبوضہ کشمیر میں زبردستی گھس جائیں، لائن آف کنٹرول کو پائمال کرتے ہوئے اپنے بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کی خاطر سرینگر کا رخ کریں تو کم از کم یہ درویش ایسے کسی عاقبت نااندیش فیصلے کی قطعی تائید نہیں کر سکتا، اس میں وسیع تر انسانی تباہی کے یقینی خدشات ہیں۔ عالمی برادری کے لیے بھی بہت غلط پیغام جائے گا۔ درویش کی نظروں میں اس کا حل وہی ہے جس کے لیے ایک وقت اٹل بہاری واجپائی خود چل کر لاہور آئے تھے، ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسی کشمیری قیادت بھی جسے قبول کرنے کے لیے تیار تھی، پاکستان نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ اب عالمی برادری بالخصوص امریکہ اُسی حل پر ہر دو ممالک کو قائل کر سکتے ہیں۔