آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جامعہ کراچی، ریٹائرڈ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کیخلاف تحریک چلائینگے

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) جامعہ کراچی میں ریٹائرڈ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کو اساتذہ نے خلاف ضابطہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے۔ انجمن اساتذہ نے وزیر اعظم عمران خان سمیت اعلیٰ حکام کو اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔جمعرات کو کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے نائب صدر پروفیسر ایس ایم طحہٰ، جامعہ کراچی کے پروفیسرڈاکٹر ریاض احمد ،ڈاکٹر جمشید ہاشم ، ڈاکٹر کامران عظیم اور سید اعجاز احمد صوفی نے کہاکہ جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ اور سینٹرز پر بعض افراد کی اجارہ داری ہے ۔ اِن کا مزید کہنا تھا کہ اشتہار آیا لوگوں نے درخواست جمع کرائی انٹرویو لیا گیا اور پھر ایک دم سے4سال کے لیے ڈائریکٹر تعینات کرنے کا لیٹر جاری کردیا۔ اِن کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی میں غیر قانونی اور خلاف ضابطہ تعیناتیاں کی جارہی ہیں۔ جامعہ کراچی کے انٹر نیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز(آئی سی سی بی ایس) میں 17سالوں سے تعینات ڈائریکٹر کی ریٹائرمنٹ

11ستمبر 2019ءہونے کے باوجود انھیں 4سال کے لیے دوبارہ سے ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کرنے پر جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ بھر پور تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ انجمن اساتذہ کے نائب صدر ایس ایم طحہٰ کا کہنا تھا کہ انجمن اساتذہ جامعہ کے ایچ ای جے آئی سی سی بی ایس کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے ریٹائرڈ فرد کی تعیناتی کو مسترد کرتی ہے اور اس حوالے سے انجمن اساتذہ اور سینڈیکیٹ ممبران نے اپنے تحفظات سے تحریری طور پر شیخ الجامعہ کو آگاہ کردیا ہے ۔ اس تعیناتی کو فوری طور پر واپس لیا جائے ۔ ایس اہم طحہٰ نے الزام عائد کیا کہ ایچ ای جے آئی سی سی بی ایس میں کئی ایماندار اساتذہ اور ملازمین کو نکالا جاچکا ہے اور کئی اساتذہ نے مبینہ ناانصافی ہونے پر خو د ہی استعفیٰ دے دیا ہے۔مذکورہ سینٹر میں ہونے والی مبینہ بے قاعدگیوں کی انکوائری ہونی چاہیے ۔ اِن کا کہنا تھاکہ عموماً ڈائریکٹر کی تعیناتی کا لیٹرجامعہ کے لیٹر ہیڈ پر رجسٹرار کی جانب سے نکالا جاتا ہے مگر جامعہ میں نئی تاریخ رقم کی گئی ہے کہ وائس چانسلر کے لیٹر ہیڈ پر وائس چانسلر کے دستخط سے کیا جارہا ہے۔ یہ لیٹر جعلی بھی ہوسکتا ہے اِس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید