آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 14؍ربیع الاوّل 1441ھ 12؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانا ہے، کلائیمٹ ایکشن پاک

موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا میں ہر کسی کو متاثر کر رہی ہے، مگریہ کچھ ممالک میں دوسرے ملکوں کی نسبت زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔ گزشتہ صدی میں دنیا کا اوسط درجہ حرارت ایک ڈگری سینٹی گریڈ بڑھا ہے اور پیشن گوئی کی جارہی ہے کہ موجودہ گرین ہاوس گیسوں کے اخراج کی شرح سے 2030 اور 2052 کے درمیان یہ درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گا۔

پاکستان میں گلوبل وارمنگ سے منسلک درجہ حرارت پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا ہے، جبکہ سمندری سطح گزشتہ 50 سالوں میں 10 سینٹی میٹر بڑھی ہے۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ جب تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے ہم سنجیدہ اقدامات نہیں کریں گے تو اس صدی کے آخر تک پاکستان کا درجہ حرارت 3–5 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے پاکستان پر تباہ کن اثرات ہیں جن میں زرعی پیداوار میں تاخیر اور تباہی اور ہمارے شمالی علاقہ جات میں گلیشیرز کا پگھلنا شامل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے زیرِ اثر پاکستان غیر محفوظ ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے اثر انداز ہونے والے ممالک میں پاکستان کلائمیٹ رِسک انڈیکس میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

ہم نے1998اور 2017 کے درمیان 145 موسمیاتی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ اگر ہم آج ان کا سدِباب نہیں کریں گے تو بڑھتا ہوا درجہ حرارت، موسمیاتی سرکل میں تبدیلیاں، بے ترتیب اور بدلتی ہوئی بارشوں کا پیٹرن، گلیشئرز کا ہٹنا، خشک سالی، سیلاب اور گرم ترین ہوائوں کی شکل میں ہونے والی موسمیاتی تیدیلیاں بد ترین ہو جائیں گی۔

موسمیاتی تبدیلیاں ڈینگی اور بیکٹریل انفیکشنز کے ساتھ ساتھ سانس اور جلدی بیماریوں کے بڑھنے کی وجہ سے صحت کو مزید خراب کریں گی۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں پانی کی دستیابی کو بدل رہی ہے جس سے زرعی پیداوار، خوراک کی حفاظت اور رہن سہن پر منفی اثرات پڑنے کی وجہ سے ہماری معاشی ترقی اثر انداز ہو رہی ہے۔

ایمرجنسی حالات اور موسمیاتی عمل کی ضرورت کی وجہ سےچاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلباء اور متعلقہ شہریوں نے مل کر Climate Action Pk بنایاہے جس میں طلباء اور سوسائٹی کے عام اراکین جو ان موسمیاتی تبدیلیوں پر ایمرجنسی ایکشن کا مطالبہ کرتے ہیں، شامل ہیں۔

جمعہ 20 ستمبر کے دن اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے سینکڑوں طلباء اور شرکاء نے لاہور میں پریس کلب ہال سے الحمرا، مال روڈ تک شام چار بجے سے چھ بجے تک مارچ کیا۔

آج ہی کے دن ہزاروں پاکستانیوں نے تیس سے زیادہ شہروں میں موسمیاتی تبدیلیوں اور چیزوں کے استعمال کی غیر ذمہ دارانہ عادتوں کے خطرات پر آگاہی کے لیے مارچ کیا۔ ان مارچز کی قیادت اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء نے کی جنھوں نے محفوظ مستقبل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ Climate Action Pk کا مقصد ہونے والی تباہی کو روکنے کے لیے پالیسی سازوں کی حوصلہ افزائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف بنیادی اقدامات کی طرف توجہ دلانا ہے۔

Climate Action Pk نے 23 ستمبر، 2019 کو نیو یارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے کلائمیٹ ایکشن سمٹ 2019 کے پیشِ نظر حکومتوں کی توجہ موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں پر توجہ دلانے کے لیے گلوبل کلائمیٹ اسٹرائیک کے طور پر پوری دنیا کے کروڑوں لوگوں کے ساتھ مارچ کیا۔

Climate Action Pk درخت لگانے کی اسکیموں اور پلاسٹک کے استعمال پر پابندی جیسے موجودہ حکومت کےاقدامات کو سراہتا ہے، ہم پاکستان میں مضر صنعتی اور دوسری پریکٹس کو کم کرنےکے لیے بھرپور فیصلوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ان مطالبات کا خلاصہ نیچے دیا گیا ہے:

1. موسمیاتی تبدیلیوں پر ایمرجنسی کا اعلان کریں

2. عالمی اشتراک کے ذریعے کلائمیٹ جسٹس کا مطالبہ

3. کم کاربن والی معیشت کا انتخاب

4. بنیادی سطح پر موسمیاتی مطابقت پیدا کرنے کی کوششوں کی یقین دہانی

مطالبات کی فہرست اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے

http://climateaction.pk/demands

Climate Action Pk کا تعلق کسی سیاسی جماعت، کاروباری مفاد، مقامی یاغیر ملکی ڈونر ایجنسیز یا این جی اوز سے نہیں ہے۔ یہ عام شہریوں کا ایک گروپ ہے جو اس پلانیٹ سے متعلقہ تشویش اور بچوں کے مستقبل کے لیے اکھٹے ہوئے ہیں۔

ہمیں اس بات پر تشویش ہونی چاہیے کہ اگر ہم مفید چیزوں کے استعمال کی عادات نہیں بدلیں گے تو پھر کیا صورتِ حال پیدا ہوگی۔ Climate Action Pk حکومت، کثیرالقومی اور پرائیویٹ سیکٹر کی توجہ ممکنہ موسمیاتی تباہ کاریوں کی طرف دلاتا ہے جن کے لیے سنجیدہ پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس مارچ اور دوسرے اقدامات کے ذریعےپالیسی سازوں کو چھوٹے اختلافات، انفرادی یا مجموعی مفادات سے بڑھ کر پاکستان کے شہریوں کی بقاء اور بہبود کے لیےمل کر کام کرنا چاہیے۔

قومی خبریں سے مزید