• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خورشید شاہ 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

احتساب عدالت سکھر نے نیب کی جانب سے پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کے 15 روزہ ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں 9 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

نیب نے پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کو احتساب عدالت سکھر میں جج امیر علی مہیسر کے روبرو پیش کیا۔

رہنما پیپلزپارٹی سید خورشید شاہ کو نیب کی جانب سے احتساب عدالت سکھر میں پیش کیا گیا جہاں نیب کی جانب سے ان کے 15 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

اس موقع پر احتساب عدالت کے جج نے گرفتاری اور الزامات سے متعلق کاغذات جمع کرانے تک خورشید شاہ کا 15 روز کا ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے فیصلہ محفوظ کرلیا۔





خورشید شاہ کے وکیل نے احتساب عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

نیب نے عدالت کو بتایا کہ خورشید شاہ انکوائری میں نیب سے تعاون نہیں کر رہے تھے،اس لیے گرفتار کیا گیا ہے۔

خورشید شاہ کی پیشی سے قبل پولیس کی جانب سےاحتساب عدالت کے اطراف سیکیورٹی کےسخت انتظامات کیے گئے تھے اور عدالت کی جانب آنے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا تھا۔

نیب آفس سےنیب کورٹ تک راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی ۔

واضح رہے کہ آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں خورشید شاہ کو 3 روز قبل اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں گزشتہ رات2 روزہ راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد سے سکھر منتقل کیا گیا تھا۔

خورشید شاہ پر الزامات کیا ہیں ؟

قومی احتساب بیورو نے پیپلزپارٹی کے ایک نہایت اہم رہنما سید خورشید شاہ کو کیوں گرفتار کیا ؟ ان پر معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کاالزام ہے جن کی مالیت تقریباً 70؍ کروڑ روپے ہے جومختلف فرنٹ مین کے ناموں پر ہے۔

یہ اثاثے مبینہ طور پرناجائز آمدن سے بنائے گئے، تفتیش میں شامل اعلی نیب حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نےسکھر کی ضلعی انتظامیہ سے اہم ریکارڈ اور فائلیں حاصل کرلیں ہیں۔

ریونیو افسران نے اہم تفصیلات بتائیں جو بالآخر بدھ کو اسلام آباد سے خورشید شاہ کی گرفتاری کا سبب بنیں۔

نیب کے ایک سینئر افسر نے اس نمائندے کو بتایا کہ خورشید شاہ، ان کے خاندان اور فرنٹ مین کے ناموں پراثاثوں اور جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔ جس میں نیو تاج ہوٹل شکارپور روڈ سکھر مالیت 25؍ کروڑ روپے، اس میں بے نام دار فرنٹ مین اعجاز بلوچ ہے۔

روہڑی روڈ پر فرنٹ مین قاسم شاہ کے نام سے 9؍ کروڑ روپے مالیت کا پٹرول پمپ ہے۔ خورشید شاہ کی جانب سے مبینہ طور پر کک بیکس کے ذریعہ سرکاری اراضی پر فرنٹ مین پپو مہر کے نام سے بنگلہ ہے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک نیب افسر نے بتایا کہ روہڑی میں بے نامی گلف ہوٹل ہے جو مقامی ٹھیکیداروں کی جانب سے کک بیکس کی آمدنی پر تعمیر کیا گیا۔

خورشید شاہ پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اندرون سندھ عمر جان اینڈ کمپنی، نواب اینڈ کمپنی وغیرہ کے لئے بھاری ٹھیکے حاصل کئے جس میں کروڑوں روپےخوردبرد کئے گئے۔

نیب سکھر میں خورشید شاہ کی ملکیت میں املاک کی بھی تحقیقات کررہا ہے جو سکھر، روہڑی اورکراچی میں موجود ہیں۔ مکیش فلور ملز، گلیمر بنگلہ، جونیجو فلور ملز اور 83؍ دیگر املاک خورشید شاہ کے فرنٹ مین پہلاج رائے کے نام پرر جسٹرڈ ہیں جبکہ 11؍ املاک لڈو مال اور 10؍ املاک حسین سومرو کےنام سے ہیں۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ اس کیس سے متعلق سندھ میں مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔


تازہ ترین