آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تفہیم المسائل

سوال: ایک شخص بواسیر کا مریض ہے ،جس میں ہر وقت خون کی طرح کا مواد جاری رہتا ہے ۔اگر وہ شخص حج کے لیے جاتاہے ،تو اس صورت میں اس کے لیے نماز اور احرام کے بارے میں کیاحکم ہوگا؟ (مولانا عبداللہ، کراچی )

جواب: ایسا شخص جسےکوئی ایسی بیماری ہے جس سے وضو زیادہ دیرقائم نہ رہ سکے،مثلاً پیشاب کے قطرے مسلسل آنے کا مرض یا ریح(ہوا )خارج ہونے یا دکھتی آنکھ سے پانی بہنے یاپھوڑے یا ناسور سے رطوبت یا پیپ بہنے یا کان، ناف اور پستان سے بیماری کی وجہ سے مواد رسنے کا مرض لاحق ہو یا بواسیر کا مرض لاحق ہو، ایساشخص فقہی اصطلاح میں ’’شرعی معذور ‘‘ ہے، بشرطیکہ اس کے یہ اَعذار ایک نماز کے پورے وقت کو اس طرح گھیر لیتے ہوں کہ اس عذر کے بغیر وہ ایک وقت کی فرض نماز بھی ادانہ کرسکتا ہو اور اتنی دیر تک اپنا وضو قائم رکھنے پر قادر نہ ہو کہ ایک وقت کی پوری نماز پڑھ لے ۔

لہٰذا بار بار عذر لاحق ہونے کی وجہ سے اُسے شرعاً یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ ہر وقت کی نماز کے لئے تازہ وضو کرے اور اس دوران اس عذر کی وجہ سے پیشاب نکلنے کے باوجود اُس وقت کے فرض ،واجب ،سنّت کے علاوہ قضا نماز،نوافل اور تلاوت، غرض جو عبادات ادا کرنا چاہے، کرسکتا ہے ۔ 

لیکن جب دوسری نماز کا وقت آئے تو پھر تازہ وضو کرکے اسی طرح پڑھے ۔طواف کے لیے وضو کرنا واجب ہے ،تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے : ترجمہ:’’ نماز کے لیے وضو کرنا فرض اور طواف کے لیے واجب ہے،(جلد1، ص:89)‘‘۔

البتہ جس طرح شریعت نے معذور شخص کو نماز کے حوالے سے رخصت وسہولت عطاکی ہے ،جیساکہ پہلے بیان کیاگیا تو اسی طرح طواف کے معاملے میں بھی اُسے یہ رخصت حاصل ہے کہ وہ اسی عذر کے ساتھ طواف کرے ،لیکن طواف سے پہلے وضو کرلے اور اگر چارپھیروں کے بعد نماز کا وقت ختم ہوجائے تو اب اُس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ جاکر وضو کرے کیونکہ نماز کا وقت ختم ہونے سے معذور کا وضو ختم ہوجاتاہے اور بغیر وضو کے طواف کرنا حرام ہے ۔

اب وضو کرنے کے بعد باقی چکروں کو پورا کرلے اور چار پھیروں سے پہلے نماز کا وقت ختم ہوگیا ،تب بھی جاکر وضو کرکے باقی چکر پورے کرلے اور اس صورت میں افضل یہ ہے کہ نئے سرے سے طواف کرلے ۔

علامہ علی القاری ؒ لکھتے ہیں :ترجمہ:’’دائمی معذور خواہ حقیقی ہو یا حکمی طواف کررہاتھا کہ چار (یا پانچ) پھیروں کے بعد نماز کا وقت ختم ہوگیا ،تو اب وہ تازہ وضو کرے (اور طواف کے چکر پورے کرے)،یعنی (معذور کو)طواف کے لیے بھی نماز کے مسئلے پر قیاس کیاجائے گا،پس وہ دوسری نمازکاوقت داخل ہونے کے بعد تازہ وضو کرکے اسی طواف پر بناءکرے اور واجب طواف کے بقیہ چکر پورے کرے، (المسلک المُتقسط،ص:78)‘‘۔

جس طرح حج یا عمرے کے لیے احرام باندھا جاتا ہے ، شرعی معذوربھی اُسی طرح احرام باندھے گا ،نیت کرے گا ، احرام باندھنے کے لیے طہارت کی حالت میں ہونا شرط نہیں ہے ، نیز احرام کے تہہ بند کو نجاست میں آلودہ ہونے سے بچانے کے لیے وہ کوئی اَن سلا دبیز کپڑا یا روئی کا پیڈ نیچے باندھ سکتاہے ۔

اقراء سے مزید