• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: میٹرو پولیٹن پولیس مسروقہ گاڑیوں کے 90 فیصد کیسز حل نہ کرسکی

لندن میں گاڑیوں کی چوری کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے اور ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میٹرو پولیٹن پولیس مسروقہ گاڑیوں کے تقریباً 90 فیصد کیسز حل نہیں کرسکی۔

لبرل ڈیموکریٹس کے تحت ہاؤس آف کامنز کی لائبریری کے مرتب کردہ ڈیٹا کے مطابق مسروقہ گاڑیوں کی برآمدگی کے حوالے سے لندن پولیس کی کارکردگی بدترین ہے۔

رپورٹ کے مطابق لندن میں گاڑیوں کی چوری 88.5 فیصد اور سٹی آف لندن پولیس کے علاقے میں 81.5 فیصد کیسز حل نہیں کیے جاسکے۔

لندن پولیس نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ کار سے متعلق جرائم نہ صرف متاثرہ شخص بلکہ مجموعی طور پر کمیونٹی پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں اور اس کی کاوشوں کے سبب لندن میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران کار جرائم میں تقریبا 15 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

فورس کے ترجمان کے مطابق اپریل سے دسمبر 2024 کے درمیان گاڑیوں سے متعلق جرائم کی تعداد 61,362 رہی جبکہ گزشتہ برس اسی عرصہ کے دوران یہ تعداد 71,929 تھی۔

لب ڈیم کے ہوم افئیرز کے ترجمان میکس ولکنسن کا کہنا ہے کہ گزشتہ ٹوری حکومت، پولیس فورسز میں کٹوتیاں کرتی رہی، اب لیبر حکومت کو اس وبا سے آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیں۔

لب ڈیم پارٹی نے نیشنل کرائم ایجنسی سے منظم جرائم سے نمٹنے کیلئے خصوصی ٹیم کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے، جو کیمروں کی مدد سے نمبر پلیٹ کی شناخت، انشورنس ریکارڈ، پولیس فورسز انٹیلی جنس اور بارڈر کنٹرول کے ذریعے گاڑیوں سے متعلق جرائم پر قابو پاسکے۔

انگلینڈ اور ویلز کی پولیس فورسز کے اعداد وشمار کے مطابق گاڑیاں چرانے کی 121,825 وارداتیں ہوئیں جن میں سے مشتبہ شخص کا سراغ نہ ملنے پر 92,958 کیسز کو بند کر دیا گیا، 44 میں سے 35 پولیس فورسز میں کیسز حل نہ کرنے کی شرح 60 فیصد یا اس سے زائد تھی، جن کی اوسط شرح 76,3 رہی۔

ہوم آفس کے ترجمان نے کہا ہے کہ گاڑیوں سے متعلق جرائم اور ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، حکومت گاڈیوں کی چوری میں استعمال ہونے والے آلات کی فروخت پر پابندی کیلئے قوانین متعارف کرا رہی ہے۔

ہوم آفس کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جون 2025 تک گاڑیوں کے متعلق جرائم میں 12 فیصد اور چوری میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید