آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پانچ سال پہلے تحریک ِ انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر 126دنوں کا دھرنا دیا تھا۔

اِسی مقصد کے لئے مولانا فضل الرحمٰن 27؍اکتوبر (اب 31؍اکتوبر) کو ایک ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جس نے سیاسی اور غیرسیاسی حلقوں میں ایک ہیجان پیدا کر دیا ہے۔

بعض اختلافات کے باوجود ان دونوں دھرنوں میں بڑی مماثلت نظر آتی ہے۔ عمران خان نے اپنے دھرنوں کا نام ’آزادی مارچ‘ رکھا تھا، مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے بھی ’آزادی مارچ‘ کا اعلان ہوا ہے۔

پہلا دھرنا بھی انتخابات کے چودہ ماہ بعد دیا گیا تھا اور اِس بار بھی حکومت کی تشکیل کے چودہ ماہ کی مسافت کے بعد دیا جا رہا ہے۔

پانچ سال پہلے کے دھرنے میں بھی مذہبی عناصر بڑے سرگرم تھے، تین ہفتوں بعد جس دھرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، اِس میں بھی مذہبی عناصر بہت فعال دکھائی دیں گے جسے حکومتی حلقے ’مذہبی کارڈ‘ کا نام دے رہے ہیں۔

پہلے دھرنوں میں پاکستان کو داخلی دہشت گردی کا سامنا تھا جبکہ اب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندوں نے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور پاکستان کی سالمیت کے لئے انتہائی سنگین چیلنجز کھڑے کر دیئے ہیں۔

پانچ سال پہلے دیئے جانے والے دھرنوں میں پاکستان کی معیشت کو سخت دھچکا لگا تھا کہ ان کے باعث چین کے صدر سی پیک کے گیم چینجر معاہدے پر دستخط کرنے اسلام آباد نہیں آ سکے تھے اور یوں سرمایہ کاری کا عمل شروع ہونے میں بڑی تاخیر ہوئی تھی۔

اِس بار ہماری معیشت سسکیاں لے رہی ہے اور وزیرِاعظم پاکستان چینی وزیرِاعظم کی دعوت پر بیجنگ گئے اور مذاکرات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اُن کے ہم رکاب تھے۔

خدشہ یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ ہونے والے دھرنوں سے غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متزلزل ہو جائے گا۔

اِن خطرات کے پیش نظر ہماری مولانا فضل الرحمٰن سے یہ اپیل ہوگی کہ وہ دھرنوں اور لاک ڈاؤن سے کلیتاً اجتناب فرمائیں اور سیاسی اور معاشی عدم استحکام پیدا کرنے میں کسی طور بھی معاون ثابت نہ ہوں۔

اُن کی طرف سے اگرچہ باربار اعلان کیا جا رہا ہے کہ ’آزادی مارچ‘ مکمل طور پر پُرامن ہوگا اور عوام کو کسی طرح کی پریشانی لاحق نہیں ہونے دی جائے گی، مگر جب لاکھوں لوگ اسلام آباد کا رخ کریں گے، تو افراتفری جنم لے گی اور حکومتی نظم و نسق میں خلل پڑنے سے ملکی مسائل میں اضافہ ہوگا،

کیونکہ پولیس اور بیورو کریسی میں جو تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے، اس نے پہلے ہی سرکاری مشینری پر فالج کا حملہ کر دیا ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ اہلِ وطن کو مزید آزمائش سے دوچار کرنے کے بجائے، اُن کے مستقبل سنوارنے کی فکر کی جائے۔

یہ فکر حکمرانوں کو بھی ہونی چاہئے جو سیاسی جماعتوں کو اپنے قریب لانے کے بجائے انہیں احتجاج کی طرف دھکیل رہے ہیں اور وزرائے کرام کے اندیشہ ہائے سود و زیاں سے بالاتر پیغامات معاشرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔

وہ ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جو مہذب معاشروں میں استعمال نہیں ہوتی۔ جمہوریت میں اختلافات، مکالمے اور سیاسی رواداری سے رفع کیے جاتے ہیں جو غیرمعمولی اہمیت کے معاملات میں فکری ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔

آئین کی رُو سے شہریوں کو اظہارِ رائے، اجتماع اور احتجاج کا حق حاصل ہے۔ حکومت اگر اِس بنیادی انسانی حق سے انکار کرتی ہے اور آزادی مارچ کو ریاستی طاقت سے روکنے کا عندیہ دیتی ہے، تو اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

عقل و دانش اور فہم و فراست کا تقاضا یہی ہے کہ مولانا کی سیاسی طاقت کا غلط اندازہ لگانے کے بجائے اُنہیں سیاسی طور پر انگیج کیا جائے اور جو بنیادی شکایات اور مطالبات ہیں، اُن کا پُرامن حل تلاش کیا جائے۔

سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ جولائی 2018میں جو انتخابات ہوئے تھے، ان میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا تھا، چنانچہ وزیراعظم عمران خان مستعفی ہو جائیں اور کسی ادارے کی مداخلت کے بغیر منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔

بلاشبہ انتخابات میں دھاندلی کی شکایت اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے کی تھی اور مولانا فضل الرحمٰن نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ’جعلی پارلیمنٹ‘ کی رکنیت کا حلف نہ اُٹھایا جائے۔

اِس موقف سے اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اختلاف کرتے ہوئے منتخب اسمبلیوں میں حلف اُٹھایا تھا۔ وہ اگر ایسا نہ کرتیں، تو شدید بحران پیدا ہو جاتا۔

تب طے پایا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے گی۔ اِس اتفاقِ رائے کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل پائی، مگر وہ عملاً غیرفعال رہی جس کے باعث اپوزیشن کے حلقوں میں بےیقینی پھیلتی گئی۔ اب اگر حکومت اِس پارلیمانی کمیٹی کو فعال کرنے میں حقیقی دلچسپی لے اور اسے تمام ضروری سہولتیں فراہم کرے، تو اُمید کے دریچے وا ہوتے جائیں گے۔

اِسی طرح جھوٹی اَنا کے حصار سے نکل کر سیاسی ڈائیلاگ کی روش اختیار کی جانا چاہئے۔ تاجروں، ڈاکٹروں، کسانوں، مزدوروں اور عام آدمی کے مطالبات پر پوری سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔

پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کا بندوبست کر لیا جائے، تو نظام کی اصلاح بھی ہو گی اور آئندہ کے لئے اچھی روایات کا قلعہ بہت مستحکم ہوتا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن کے ’آزادی مارچ‘ کی کامیابی کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں، اِس لئے تمام سنجیدہ طبقوں کو پوری قوت سے اِس اصول کی پاسداری کرنا چاہئے کہ حکومت کی تبدیلی صرف پارلیمان کے ذریعے ہی قابلِ قبول ہوگی۔

دھرنوں اور لاک ڈاؤن سے جو تبدیلی واقع ہوگی، وہ آخرکار نظام کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ آزادی مارچ کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے تو بروئےکار لایا جا سکتا ہے کہ اس کی کارکردگی بڑی مایوس کن ہے اور کابینہ میں ردوبدل کی خبریں غیریقینی صورتحال کو جنم دے رہی ہیں۔

اپوزیشن جو ذمہ دار حکمرانی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس کا تعاون عمران خان کو ایک نئی توانائی عطا کر سکتا ہے، جبکہ قانون کی حکمرانی سے عالمی برادری میں پاکستان کا امیج بہت بہتر ہوگا اور معاشرے میں پائے جانے والے تنازعات حل ہوتے جائیں گے۔