آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لاپتا شیرلاک ہومز کم از کم سوشل میڈیا پر سامنے آگئے

اسلام آباد(طارق بٹ)حکومت کے شیرلاک ہومز، بیرسٹر شہزاد اکبر جو کہ گزشتہ دوماہ سے لاپتہ تھے، وہ کم ازکم سوشل میڈیا پر سامنے آگئے ہیں۔جمعرات کے روز انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ سے تین ٹوئٹ کیں۔ اپنے ردعمل کے طور پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے ن لیگ کے نائب سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ ایڈوکیٹ کا حوالہ دیا اور اس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو بھی ٹیگ کیا۔شہزاد اکبر نے لکھا کہ اس پر بھی توجہ دی جائے، میرا قانونی نوٹس کہاں ہے؟ دوسرے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا ، آپ نے اپنے بارے میں کہا کہ آپ ایل ایل بی کرچکے ہیں تو آپ کا عمل بھی ایسا ہونا چاہیئے کہ آپ نے یہ ڈگری حاصل کی ہے۔اگر میں آپ کی منطق کو لوں اور اگر کسی نے آپ کے قانونی نوٹس کا جواب نہیں دیا، تو اگلا مرحلہ عدالت سے رجوع کرنا ہوتا اور مجھے یقین ہے کہ نوٹس کی مدت گزرچکی ہے۔آپ کو کس بات نے روکا تھا۔مزید جھوٹ نے ؟بہرحال یہ کافی نہیں ہے۔عطااللہ تارڑنے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ میں شہزاد اکبر کو قانونی نوٹس سے متعلق آگاہ کرنا چاہتا

ہوں جو ہم نے ڈیلی میل کو بھجوایا تھا۔لیگل نوٹس کے بعد خط لکھے جانے کے باوجود اب تک ڈیلی میل کی جانب سے ٹھوس جواب کا انتظار کیا جارہا ہے۔ڈیلی میل کی نمائندگی کرنے سے پہلے حقائق دیکھ لیجئے۔جس کے جواب میں شہزاد اکبر نے عطااللہ تارڑ کو ڈیلی میل کے نمائندے ڈیوڈ روز کی ٹوئٹ ٹیگ کرتے ہوئے کہا ۔ مجھے بھی انتظار ہے ، آپ نے وعدہ کیا تھا مجھے لندن کی گلیوں میں گھسیٹو گے ، جیسا کہ آپ اپنے نئے دوست آصف زرداری کے بارے میں کہتے تھے۔کئی ماہ گزرجانے کے بعد بدنامی کی راہ اختیار نا کرنے سے اس کہانی کی ہر بات ثابت ہوچکی ہے۔ ڈیوڈ روز نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہیلو پاکستانی دوستوں۔ آپ میں سے بہت سے لوگ سوال کررہے ہیں کہ کیا شہباز شریف نے میرے اور میرے اخبار کے خلاف اب تک کوئی مقدمہ کیا ہے؟ جب کہ شہزاد اکبر نے بھی 29جولائی کو ٹوئٹ کی تھی۔ ان کے بیان کی بنیاد پر شہباز شریف نے مجھ پر مقدمہ قائم نہیں کیا۔شہزاد ایسا رواں برس جولائی میں ہوا تھا اور میں درست تھا مجھے کوئی خط بھی نہیں بھیجا گیا ہے۔ایک اور ٹوئٹ میں شہزاد اکبر نے دی نیوز کی خبر پر خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اعلی صحافت، فرنٹ پیج نیوز لیکن اس میں خبر کیا ہے؟ ان کا فون نہ اٹھانا کیا ایک خبر ہے؟ میری نظر میں خبر ادارتی کنٹرول کے فقدان کی مثال ہے۔ ناقدین کے لیے عرض ہے گھبرایئے نہیں جلد ان کے دلوں پے مونگ دلنے وطن واپس آ رھا ہوں تب تک گزارش ہے محنت کریں اور اپنی خبریں خود ڈھونڈیں گھڑیئے مت. تاہم ، انصار عباسی کی خبر میں کہا گیا تھا کہ شہزاد اکبر نے کئی ہفتوں کے دوران کوئی پریس کانفرنس نہیں کی ہے اور ٹی وی کے حالات حاضرہ کے پروگرامز میں شازونادر ہی نظر آئے ہیں۔خبر میں کہا گیا تھا کہ بیریسٹر شہزاد اکبر وزیراعظم عمران خان کے خصوصی معاون برائے احتساب ہیں۔ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد، پی ٹی آئی حکومت نے اے آر یو تشکیل دیا جس کا مقصد بیرون ملک چھپائے گئے اثاثوں کی واپسی تھی۔اپنی ابتدائی پریس کانفرنسز میں بیریسٹر شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ اے آر یو کے ارکان کو دبئی اور برطانیہ میں 10؍ ہزار جائیدادوں کی تفصیلات مل گئی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ 10؍ ہزار جائیدادوں میں سے آدھی کی تفصیلات پہلے ہی معلوم تھیں لیکن کوئی اقدام نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن اب پی ٹی آئی کی حکومت کو بھی احساس ہو چلا ہے کہ وہ غیر ممالک سے پیسے واپس نہیں لا سکتی۔ چند ماہ قبل تک، شہزاد اکبر سرگرمی کے ساتھ نیب کے ساتھ رابطے کرتے ہوئے اپوزیشن رہنمائوں کیخلاف کیسز کا کھوج لگا رہے تھے۔جولائی میں شہزاد اکبر نے چار پریس کانفرنسز کیں۔ ان تمام میں انہوں نے شریف فیملی اور ان کی مبینہ کرپشن کا ذکر کیا۔ اخبارات کے ریکارڈ کو دیکھیں تو گزشتہ کئی مہینوں میں شاید ہی کبھی شہزاد اکبر نے اثاثہ ریکوری یونٹ کے بنیادی مقصد پر بات کی ہو۔سرکاری دعوؤں کے مطابق، ریکوری یونٹ نے اب تک 530؍ ملین روپے واپس لیے ہیں جو غیر قانونی طور پر باہر بھجوائے گئے تھے۔ چند روز قبل ایف بی آر چیئرمین شبر زیدی نے کہا کہ گزشتہ 20؍ سال کے دوران پاکستان سے سالانہ 6؍ ارب ڈالرز باہر گئے جو قانونی طور پر بھجوائی گئی رقم کا 85؍ فیصد حصہ ہے اسلئے انہیں واپس نہیں لایا جا سکتا۔

اہم خبریں سے مزید