آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بھارت پاکستان سے زیادہ بھوک و افلاس کا شکار ملک بن گیا

بھوک و افلاس کے شکار ممالک کی درجہ بندی میں جہاں پاکستان کی عالمی رینکنگ بہتر ہوئی ہے، وہیں پڑوسی ملک بھارت تنزلی کا شکار ہوگیا۔

گلوبل ہنگر انڈیکس کی جانب سے عالمی درجہ بندی جاری کی گئی جس میں 117 ممالک کا نام شامل کیا گیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ غربت و افلاس کا شکار ملک ہے جو اس فہرست میں 102 نمبر پر ہے۔

پاکستان اس معاملے میں بھارت سے بہتر ہے تاہم اس کی بہتری پڑوسی ملک سے صرف 8 درجہ بہتر ہے جو اس فہرست میں 93 نمبر پر ہے۔

بھارت کی 2015 میں رینکنگ پاکستان سے بہتر تھی اور اس کا خوراک کی کمی کے شکار ممالک میں 93 نمبر تھا جبکہ پاکستان 106 نمبر پر موجود تھا۔

گلوبل ہنگر انڈیکس کے لیے 117 ممالک کے 2014 سے 2018 تک کے اعداد و شمار ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں ان ممالک کے غذائیت سے محروم بچوں کی شرح اور 5 سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات و دیگر شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں مانع حمل کی شرح سب سے زیادہ ہے جو 20.8 فیصد ہے جو افریقا کے ذیلی صحارا خطے کے ممالک سے بھی زیادہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھارت میں 6 سے 23 ماہ کے بچوں کو کم سے کم قابل قبول غذا فراہم کی جاتی ہے۔

جی ایچ آئی نے اپنی رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے ایک اور ملک بنگلہ دیش کی اس معاملے میں آنے والی بہتری کی تعریف کی جسے اس کی اقتصادی ترقی سے منسوب کیا گیا۔

مذکورہ انڈیکس میں ان ممالک کو صفر سے لے کر 100 تک کے نمبر دیے گئے ہیں جن میں 0 کو غذا کے معاملے میں بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح 1 سے 10 کے نمبر لینے والے ممالک غذا کی کمی زیادہ نہیں ہے، جبکہ 20 سے 34.9 نمبر لینے والے ممالک بھوک و افلاس کی سنجیدہ صورتحال سے نبرد آزما ہیں، 35 سے لے کر 49.9 تک پوائنٹس لینے والے ممالک میں غذا کی صورتحال خطرناک جبکہ 50 سے زائد پوائنٹس لینے والے ممالک انہتائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں۔

تاہم پاکستان کے پوائنٹس 28.5 ہیں جبکہ بھارت کے پوائنٹس 30.3 ہیں، تاہم پوائنٹس کی کیٹیگری کے حوالے سے دیکھا جائے تو دونوں ممالک میں بھوک و افلاس کی صورتحال سنجیدہ ہے۔

خطرناک ممالک کی فہرست میں صرف 4 ہی ممالک شامل ہیں جبکہ دنیا کا واحد ملک سینٹرل افریقن ریپبلک انتہائی خطرناک ممالک میں شامل ہے۔

اس فہرست کے 17 ممالک ایسے ہیں جہاں خوراک کی قلت کا مسئلہ سب سے کم ہے اور یہی ممالک مشترکہ طور پر اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں۔

ان ممالک میں یوراگوئے، یوکرائن، ترکی، سلواکیا، رومانیہ، مونٹی نیگرو، لتھوانیا، لیٹویا، کویت، اسٹونیا، کیوبا، کروشیا، کوسٹاریکار، چلی، بلغاریہ، بوسنیا ہرزیگوینیا اور بیلاروس شامل ہیں۔