آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ24؍ ربیع الاوّل 1441ھ 22؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اِس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن نے انتہائی شاطرانہ انداز میں حکومت اور قوم کی توجہ مسئلہ کشمیر پر سے اُس وقت ہٹانے میں خاصی کامیابی حاصل کی ہے جب آزادیٔ کشمیر (بشکل حصولِ حقِ خود ارادیت) کی ستر سالہ جدوجہد ایک ایسی نتیجہ خیز راہ پر آ گئی ہے جو پاکستان اور کشمیریوں کو مطلوب نتیجے کی جانب لے جاتی صاف معلوم دے رہی ہے۔ اِس راہ پر تو مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں محبوس و مقہور کشمیریوں نے بےمثال قربانیاں دے کر ڈالا،

لیکن یہ راہ اختیار کرلی ہے تو پاکستان اس سفر کو تیز کرنے میں بہرحال امید افزا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد کی اس پوزیشن میں آنے کی تین بڑی وجوہات واضح ہوئی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی خالصتاً مقامی تحریک کا کمال استقلال، ہماری نومنتخب حکومت اور سلامتی کے اداروں کا دفاعی اور سلامتی کے امور،

خصوصاً کشمیریوں کی جدوجہد اور بھارت کے پاکستان کی جانب مذموم حوالے سے غیر معمولی ہم آہنگی، باہمی اعتماد اور پاکستان کی جانب سے نئی پاکستانی منتخب قیادت کی عالمی مقبولیت کے اعلیٰ سفارتی استعمال سے مسئلہ کشمیر کا مکمل بین الاقوامی مسئلہ ثابت ہو جانے سے بھارت کی چاروں شانے چت سفارتی شکست، اس کے بعد ناصرف یہ کہ مسئلہ کشمیر اپنی مکمل حساسیت کے ساتھ علاقائی اور عالمی سیاست کے منظر پر آگیا بلکہ بھارت آج جس طرح اپنے اصلی روپ میں دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا،اُس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔

اور تب ہوا، جب بھارت کا نیا چہرہ خود بھارت کے جمہوریت پسند اور سیکولرازم پر یقین رکھنے والے کروڑوں عوام کے بڑے حصے کے لئے اذیت ناک بن گیا ہے۔ یہ کوئی بھارت دشمنی کے جذبات کی بات ہے نہ پاکستانیوں کی حب الوطنی سے نکلنے والا اظہار رائے بلکہ بھارت میں جو کچھ آرٹیکل 370اور 35اے کی تنسیخ کے بعد ہو گیا،

اس نے بھارت کو جمہوریت اور سیکولرازم کی پٹڑی سے ہی نہیں اُتارا بلکہ بھارت کی اندرونی سلامتی کو جتنے سنجیدہ خطرات آج پیدا ہو گئے ہیں وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ بھارتی گلی کوچوں، بازاروں، چوراہوں میں اس کے شرمناک ٹھوس حقائق بکھرے ہی نہیں پڑے، یومیہ کی بنیاد پر ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارت نئی دہلی میں موجود بڑے حجم کے عالمی میڈیا کے ہوتے ہوئے اتنا Unreportedکیوں ہے؟ اور گھمبیر کشمیر پر جتنی رپورٹنگ ہوئی، وہ متعلقہ مین اسٹریم عالمی میڈیا کی اپنی کریڈیبلٹی بچانے کے اتمام حجت سے زیادہ کچھ نہیں۔

کہاں ہیں صحافیوں کی عالمی تنظیمیں اور اپنی رپورٹوں سے ہر وقت ترقی پذیر جمہوریتوں کو پریشر میں رکھنے والے میڈیا واچ؟ جو بھارت میں تیزی سے جگہ بناتی، غیرہندو مذاہب اور اقلیتوں کے خلاف حکومتی جماعت کی کھلی دہشت گردی اور اس پر مکمل حکومتی خاموشی اور جمود پر خود بھی خاموش اور منجمد ہوگئے۔

بلاشبہ عالمی میڈیا پر لاجواب سوال پاکستان اور پاکستانیوں نے ہی اٹھائے ہیں لیکن کیا ریاست اور کیا عوام عملاً اور ذہناً، دس سال تک پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے مزے لوٹنے والے ’’آزادی‘‘ کے متوالے مولانا فضل الرحمٰن کے ’’آزادی مارچ‘‘ اور نیم عسکری معلوم دیتے دھرنے میں عملاً اور ذہنی طور پر الجھ کے رہ گئے ہیں۔

بالکل واضح ہے کہ کشمیر کمیٹی کی سربراہی پر مسلط ہو کر مولانا صاحب جتنی مراعات سے لطف اندوز ہوئے اتنی ہی بڑی چپ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر سادھے رکھی جبکہ اس پورے عشرے میں پتھروں اور جھنڈے ڈنڈوں سے آزادی کی جنگ لڑتے کشمیریوں کو پاکستانیوں کی سیاسی و سفارتی معاونت کی شدید ضرورت رہی، جس کی بڑی موثر اور اصل شکل پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کے سرگرم ہونے سے بنتی تھی لیکن مولانا گرم نہ ہوئے جس طرح وہ اب نہ جانے کونسی آزادی کے لئے ہوئے ہیں اور ان کی بھڑکتی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں؟ مولانا جو کچھ کر رہے ہیں اور جس وقت پر کر رہے ہیں، جس طرح وہ کشمیر کمیٹی سے کھایا پیا حلال کرنے پر کسی طرح آمادہ نہیں، اس کا حساب تو ان شاء اللہ پاکستان کے عوام ان سے اور ان کی جماعت سے اگلے انتخابات میں لیں گے ہی لیکن ان کا ٹرائل ساتھ ساتھ جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر وہ جو عزت کما رہے ہیں، اس میں تو پگڑی بجرنگیوں کے رنگ کی پیلی ہو یا نیلی، سنبھالنا مشکل نہیں؟

فیصلے وہی نتیجہ خیز ہوتے ہیں جو صورتحال کے مطابق ہوں جیسے مولانا صاحب اپنی طرح قوم اور حکومت کو گمبھیر کشمیر سے بےپرواہ اور خاموش رکھنے کے لئے مسئلہ کشمیر کے برسوں بعد پھر سے عالمی سطح پر اجاگر ہونے پر اپنی جماعت کے کبھی نظر نہ آنے والے نیم عسکری گروپ کے ساتھ میدان میں اترے ہیں،

اس میں ان کی پہلی شکست ہو گئی ہے کہ اب ان کے آزادی مارچ اور دھرنے کی بسم اللہ 27اکتوبر کو آزادی کشمیر کی جدوجہد سے یکجہتی کی ریلیوں سے ہو گی (وگرنہ مولانا مکمل تنہا) جبکہ یہ فیچر اب تک ان کے بار بار کے احتجاجی پروگرام کے اعلانات میں نہیں آیا تھا۔ گویا قوم نے ان کے دھرنے دھونس پر ’’کشمیر مسلط کر دیا ہے‘‘ جس سے بغلیں بجاتا اور مولانا کو خراج پیش کرتے مودی برینڈ بھارتی میڈیا کی چہک میں کچھ کمی آئی ہے۔

اِس سارے پسِ منظر میں کہ ’’ففتھ جنریشن وار‘‘ کے حملوں میں سے اِس حملے کو کہ پاکستانی حکومت و عوام کی توجہ مختلف حربوں سے گمبھیر کشمیر پر سے ہٹائی جائے،

حکومت پاکستان اور سوشل میڈیا کا مورچہ سنبھالے پاکستانی سٹیزن جرنلسٹس پر لازم ہو گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بنیادی انسانی حقوق کے جنیوا کمیشن، سلامتی کونسل، جینو سائیڈ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، چین و روس، او آئی سی، ترکی، ایران اور ملائیشیا جیسے اہم اسلامی ممالک، سیکرٹری جنرل یو این او، محدود انٹرنیشنل میڈیا کی جو کھلی حمایت اور سنجیدہ تعلق کا ریکارڈ بن چکا ہے، اسے استعمال کرتے اور نئی گمبھیر ہوتی صورتحال کے حوالے سے عالمی رائے عامہ کو قائم رکھنے اور بڑھانے کے لئے ایک فوری اور مستقل جارح فالو اپ کی منصوبہ بندی جنگی بنیاد پر کریں کہ جنگ تو جاری ہے۔