آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اطالوی نابغہ لیونارڈوڈاونچی جسے ہم شہرہ ٴ آفاق تخلیق مونالیزا کے حوالے سے جانتے ہیں‘ تاریخ انسانی کا ایک ناقابل فراموش کردار ہے۔ وہ محض ایک عظیم مصور ہی نہیں‘ بہت بڑا ریاضی دان‘ ماہر تعمیرات‘ انجینئر‘ لکھاری‘ موسیقار اور سائنسدان بھی تھا کم از کم ڈیڑھ سو ایجادات لیونارڈو ڈاونچی سے منسوب ہیں۔ قدرت نے اسے یہ ملکہ عطا کیا تھا کہ وہ بیک وقت ایک ہاتھ سے پینٹنگ اور دوسرے ہاتھ سے گاڑی کے انجن کو مرمت کر سکتا تھا۔ لیونارڈو کے کارناموں پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے مگر فی الوقت یہ میرا موضوع نہیں، میں تو فقط یہ بتا کر آگے بڑھنا چاہتا ہوں کہ دنیا کی پہلی بکتر بند گاڑی کا تخیل اور خاکہ اس اطالوی انجینئر نے پیش کیا۔ لیونارڈو کی ایجاد کردہ یہ محفوظ ترین گاڑی کم و بیش ساڑھے چار سو سال تک بادشاہوں کے زیراستعمال رہی اور اسے اس دور کی بلٹ یا بم پروف گاڑی کہا جا سکتا ہے۔ انجن اور بال بیرنگ ایجاد ہوا تو برطانوی فوج نے 1912ء میں ”نیپئر“ کے نام سے بکتر بند گاڑیوں کی پہلی کھیپ متعارف کرائی۔1919ء میں ایک امریکی کمپنی نے تاجروں کے لئے بلٹ پروف گاڑی بنانے کا اعلان کیا اور یکم فروری 1920ء کو ہی دنیا کی پہلی بلٹ پروف گاڑی نمائش کے لئے پیش کر دی گئی۔ 1923ء میں بلٹ پروف گاڑیوں کا کلچر یورپ پہنچا۔ پہلے برطانیہ پھر فرانس اور جرمنی

میں بلٹ پروف گاڑیاں تیار ہونے لگیں۔ رفتہ رفتہ یہ گاڑیاں حکمرانوں اور امراء کی سیکورٹی کے لئے ناگزیر ہوتی چلی گئیں اور ان میں جدت کا عمل بھی آگے بڑھتا رہا۔ 1970ء تک ان بلٹ پروف گاڑیوں میں تین سے چھ انچ موٹا شیشہ لگایا جاتا تھا اور باڈی میں سیسہ ڈال کر بلٹ پروف بنا دیا جاتا تھا مگر موجودہ دور کی بلٹ پروف گاڑیاں انسانی مہارت کا منہ بولتا ثبوت اور سائنس و ٹیکنالوجی کا شاہکار ہیں۔ ان میں آگ بجھانے کے آٹومیٹک آلات نصب ہیں‘ جیمرز لگے ہوتے ہیں‘ اگرچہ ٹائر بھی بلٹ پروف ہوتے ہیں مگر یہ گاڑیاں ٹائروں کے بغیر محض لوہے کے رم پر بھی 120کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہیں۔ فیئول ٹینک اور سائڈ مرر تک بلٹ پروف ہوتے ہیں‘ اندر بیٹھ کر ٹائروں کی ہوا کم یا زیادہ کی جا سکتی ہے۔ گولی تو درکنار‘ بم بھی پھٹ جائے تو ان گاڑیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث بم پروف اور بلٹ پروف گاڑیوں کے حصول کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب تو ان گاڑیوں کے لئے OLX پر اشتہار آنے لگے ہیں۔ پاکستان میں ہیوی مکینکل کمپلیکس ٹیکسلا اور کم از کم 4 نجی کمپنیاں گاڑیوں کو بلٹ پروف بنانے کا کام کر رہی ہیں۔ ان گاڑیوں کی قیمت 45کروڑ سے ایک ارب روپے تک ہے۔ لاہور میں کام کرنے والی ایک کمپنی کے مطابق 2008ء سے اب تک 450گاڑیاں فروخت ہو چکی ہیں اور ان کے کلائنٹس کی فہرست میں پیپلزپارٹی کے ایک ایسے وفاقی وزیر کا نام بھی شامل ہے جو ان دنوں زیرعتاب ہیں۔
عام پاکستانیوں کی طرح میرا بھی یہی خیال تھا کہ بلٹ پروف کلچر کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوامگر حقیقت یہ ہے کہ کلاشنکوف کلچر کی طرح بلٹ پروف کلچر لانے کا سہرا بھی ضیاء الحق کے سر ہے۔ افغان جہاد کے دوران سی آئی اے نے پاک فوج کو 12بلٹ پروف گاڑیاں دیں جو صدر مملکت اور ان کے جرنیلوں کے زیراستعمال رہیں اور بعد ازاں بینظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے نہ صرف ان بلٹ پروف گاڑیوں سے استفادہ کیا بلکہ میاں صاحب کے دوسرے دورحکومت میں چند نئی بلٹ پروف گاڑیاں بھی خریدی گئیں مگر بلٹ پروف گاڑیوں کی لوٹ سیل 2004ء میں تب لگی جب 30 جو لائی کو اٹک میں جلسے کے دوران شوکت عزیز پر خودکش حملہ ہوا۔ سرکاری خزانے سے جو 22 بلٹ پروف گاڑیاں منگوائی گئیں ان میں سے بیشتر اب بھی وی آئی پیز کے زیراستعمال ہیں ان وی آئی پیز میں میاں نواز شریف‘ چوہدری شجاعت‘ اسفندیارولی‘ ڈاکٹرفہمیدہ مرزا‘ حنا ربانی کھر‘ مخدوم امین فہیم‘ قمر زمان کائرہ‘ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر ہوتی اور اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی شامل ہیں۔ اسلم رئیسانی اگرچہ سابق وزیر اعلیٰ ہو چکے مگر ان سے بلٹ پروف گاڑی واپس نہیں لی گئی۔ یوسف رضا گیلانی کے پاس بھی ایک عدد سرکاری بلٹ پروف گاڑی موجود ہے کیونکہ رولز کے تحت سبکدوش ہونے والا وزیراعظم سرکاری فلیٹ میں سے ایک بلٹ پروف گاڑی اپنے گھر لے جا سکتا ہے چونکہ پہلے سے خریدی گئی بلٹ پروف گاڑیاں پرانی ہو چکی تھیں اس لئے ہمارے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے احکامات پر ایوان وزیراعظم نے دسمبر 2012ء میں 6 نئی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کے لئے ٹینڈر جاری کیا ایک ملین ڈالر کے حساب سے خریدی جا رہی ان 6لش پش بلٹ پروف گاڑیوں کی آمد چند ہی دن میں متوقع ہے اور حسب ضابطہ راجہ پرویز اشرف ان میں سے ایک گاڑی گوجر خان لے جانے کے حقدار ہوں گے۔گزشتہ سال پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل چن نے سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نرگس سیٹھی سے وضاحت طلب کی تھی کہ وی آئی پیز کو کس قانون کے تحت بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی ہیں؟ اس دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ان بلٹ پروف گاڑیوں میں سے ہر ایک کی مینٹیننس پر سال بھر میں سرکاری خزانے سے جتنی رقم خرچ ہوتی ہے اس سے1300سی سی کی دو نئی گاڑیاں خریدی جا سکتی ہیں۔ پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کے چیئرمین نے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے رولز بنانے کی ہدایت کی بصورت دیگر ان وی آئی پیز سے گاڑیاں واپس لینے کا حکم دیا جس پر سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نے مسکراتے ہوئے کہا ”مجھ میں اتنی جرأت کہاں کہ ان افراد سے گاڑیاں واپس لے سکوں“ چنانچہ 9 ماہ گزر جانے کے باوجود نہ تو رولز مرتب ہو سکے ہیں اور نہ ہی یہ بلٹ پروف گاڑیاں واپس ہو سکی ہیں۔ تادم تحریر ان بلٹ پروف گاڑیوں کی مینٹیننس کے اخراجات بھی سرکاری خزانے سے ادا کئے جا رہے ہیں۔ بااثر افراد بلٹ پروف گاڑیوں کو ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دلوا لیتے ہیں اور ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ ایف بی آر کے قواعد کے مطابق بلٹ پروف گاڑی پر ٹیکس اصل قیمت میں10 فیصد اضافہ کر کے چارج کیا جاتا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 2008ء سے 2012ء تک 5 سال کے دوران کم از کم 650 بلٹ پروف گاڑیاں درآمد کی گئیں مگر ڈیوٹی کتنی بلٹ پروف گاڑیوں پر ادا کی گئی،یہ اعداد و شمار ایف بی آر سے نکلوائے جاسکتے ہیں۔ گزشتہ سال وزیراعظم ہاوٴس میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے پر 5.2 ملین روپے خرچ کر دیئے گئے۔ عدم تحفظ کا یہ عالم ہے کہ صدر زرداری کے لئے لاہور میں جو نیا بلاول ہاوٴس بنایا گیا ہے وہ بم پروف ہے لیکن تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا مشاہدہ یہ ہے کہ انسان جوں جوں سیکورٹی کے حصار بڑھاتا جاتا ہے توں توں خطرات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ جان ایف کینیڈی کی سیکورٹی کا یہ عالم تھا کہ ان کی عینک کے شیشے بھی بلٹ پروف ہوتے تھے مگر قاتلانہ حملہ ہوا تو جس گولی پر ان کا نام لکھا تھا وہ مل کر رہی۔ شیخ مجیب نے اپنی حفاظت کے لئے ٹینک خریدے اس سے چار دن بعد فوج نے بغاوت کی اور انہیں ایوان صدر میں ملیا میٹ کر دیا گیا۔ بینظیر کی گاڑی بم پروف تھی مگر وہ موت کو چکمہ نہ دے سکیں‘ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے پاس بھی بلٹ پروف گاڑی تھی مگر وہ نہ بچ پائے۔ اندرا گاندھی خود اپنے محافظوں کے ہاتھوں ماری گئیں۔ اگر بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھا محافظ یا ڈرائیور ہی فرشتہ اجل بن کر سامنے آجائے توحفاظتی حصار پر بھروسہ کرنے والے خود کو موت سے کیسے بچا پائیں گے ؟تاریخ کے چوراہے پر نصب ایک کتبے پر جلی حروف میں لکھا ہے‘ انسان بلٹ پروف جیکٹ پہن سکتا ہے‘بلٹ پروف گلاسز بنوا سکتاہے ،بلٹ پروف گاڑی خرید سکتا ہے‘ بم پروف گھر میں رہ سکتا ہے یہاں تک کہ اپنے جسم کو بلٹ پروف بنا سکتا ہے لیکن اپنی زندگی کو موت پروف نہیں بنا سکتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں