آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بزنس کمیونٹی کے اعتماد کی بحالی میں نیب کا کردار

گزشتہ دنوں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں بزنس کمیونٹی کے ممتاز لیڈرز، صنعتکاروں اور معروف بزنس مینوں سے ایک خصوصی ملاقات کی۔ چیئرمین نیب سے بزنس کمیونٹی کی یہ تیسری ملاقات تھی۔ اس ملاقات میں میرے علاوہ فیڈریشن کے صدر انجینئر دارو خان اچکزئی، فیڈریشن کے نائب صدور اور بزنس کمیونٹی کے دیگر لیڈرز نے شرکت کی۔ میں نے اور فیڈریشن کے صدر نے جب چیئرمین نیب اور ان کی ٹیم کا فیڈریشن ہائوس آمد پر استقبال کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ مجھ سے واقف ہیں اور میرے کالم باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ دوران ملاقات میں نے انہیں بتایا کہ آپ نے ملک سے کرپشن ختم کرنے کا جو بیڑا اٹھایا ہے، اس پر ہمیں فخر ہے کیونکہ آپ نے کرپشن کی لوٹی رقم ملک میں واپس لانے اور انصاف کی فراہمی کیلئے نہایت بااثر اور طاقتور شخصیات کیخلاف کارروائی کی ہے جن سے پہلے کوئی سوال پوچھنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا اور اب وہ قانون کی گرفت میں ہیں۔ میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے عزم میں کامیاب کرے۔

فیڈریشن کے صدر دارو خان نےاستقبالیہ خطاب میں چیئرمین نیب کاپرائیویٹ سیکٹر کے بزنس مینوں پر مشتمل 6رکنی مشاورتی کمیٹی بنانے پر شکریہ ادا کیا ۔چیئرمین نیب نے اعلان کیا کہ یہ کمیٹی نیب آرڈیننس 1999کی شق 33-Cکے تحت تشکیل دی گئی ہے اور بزنس کمیونٹی کے تمام معاملات اس کمیٹی کو بھیجے جائیں گے اور یہ کمیٹی میرٹ پر اپنی سفارشات نیب کی 3رکنی جائزہ کمیٹی جن میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکوٹر جنرل نیب اور ڈائریکٹر جنرل نیب آپریشنز شامل ہیں، کو پیش کرے گی جو اِن سفارشات کو قانون کے مطابق چیئرمین نیب کو بھیجے گی اور اس معاملے میں چیئرمین نیب کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کی کمیٹی اپنی سفارشات براہ راست چیئرمین نیب کو بھی بھیج سکتی ہے تاکہ وہ معاملات کے حل کیلئے قانون کے مطابق ہدایت جاری کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور بزنس کمیونٹی کے ٹیکسوں کے دیگر کیسز پہلے ہی ایف بی آر کو منتقل کئے جاچکے ہیں جس کے پاس ان معاملات سے نمٹنے کے تمام اختیارات ہیں۔

انہوں نے فیڈریشن کی درخواست پر ملتان کے فلور ملز مالکان کو جاری کئے گئے نوٹسز کو فوری واپس لینے کا ذکر بھی کیا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ وہ بزنس کمیونٹی کا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملکی ترقی و خوشحالی ان سے منسلک ہے۔میں نے چیئرمین نیب کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ لوگ نیب کا نام استعمال کرکے بزنس کمیونٹی میں خوف و ہراس پھیلارہے ہیں اور ان بزنس مینوں جنہوں نے قانون کے تحت ٹرانزیکشن کی ہیں، کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ پاکستان کے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ اور پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ 1992کے تحت پاکستان میں فارن کرنسی اکائونٹس کھولے جاسکتے ہیں اور قانونی طور پر حاصل آمدنی اور فارن کرنسی کو ان اکائونٹس میں جمع کرایا جاسکتا ہے اور اسٹیٹ بینک کی منظوری کے بغیر 50 ہزار ڈالر تک بیرونِ ملک بھی منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے سیکشن III(4)کے تحت بیرون ملک سے بینکنگ چینل کے ذریعے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم بغیر ذرائع آمدنی پوچھے قانونی تسلیم کی جاتی تھیں لیکن FATFکی گائیڈ لائن کے تحت گزشتہ بجٹ میں ان قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے اور اب بیرون ملک سے ایک لاکھ ڈالر سالانہ سے زائد رقم ان اکائونٹس میں منتقل کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک کی اجازت ضروری ہے۔میں نے چیئرمین نیب کو بتایا کہ یہ تمام آفیشل ٹرانزیکشن قانونی طور پر انکم ٹیکس گوشواروں میں بھی ظاہر کی گئی ہیں لیکن کچھ اداروں کے حکام منی لانڈرنگ کا نام دے کر بزنس مینوں کو ہراساں کررہے ہیں جس سے بینکوں میں ان کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ 1992کے تحت یہ ٹرانزیکشن قانونی ہیں جس کو ہم تسلیم کرتے ہیں اور نیب کے پاس اس طرح کا کوئی کیس زیر تفتیش نہیں۔ چیئرمین نیب نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی بزنس کمیونٹی سے قریبی رابطے کیلئے نیب کا فوکل پرسن تعینات کریں گے۔ میٹنگ میں حکومت کے سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں نجی شعبے سے تعینات کئے گئے ڈائریکٹرز کے خلاف نیب کی کارروائی اور گرفتاریاں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین نیب کی صاف گوئی نے بزنس کمیونٹی میں ایک نیا اعتماد پیدا کیا اور وعدہ کیا کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے نیب سے ہر طرح کے تعاون کیلئے تیار ہے۔ ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کرکے ملک کو معاشی طور پر خوشحال بنانا چاہتے ہیں لیکن ہماری تضحیک نہ کی جائے اور اصلی اور جعلی کاروباری لوگوں میں تفریق کی جائے۔