آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’انجمنِ حمایتِ اسلام‘ ادارہ ہی نہیں، تحریک بھی

1884ء میں اندرونِ لاہور کے موچی دروازے کی مسجدِ بکن خان میں نمازِ عصر کے بعد ہونے والے ایک مختصر سے اجتماع کو تب کسی نے زیادہ اہمیت نہیں دی اور نہ ہی اُس وقت کسی کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ اس قلیل سے مجمعے کے نتیجے میں وجود میں آنے والی ’’انجمنِ حمایتِ اسلام‘‘ آگے چل کر ایک ایسا تن آور شجر بن جائے گی کہ جس کی سایہ دار شاخیں دُور دُور تک پھیلیں گی اور اس کے ثمر سے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔ آج سے 135برس قبل قائم ہونے والے اس ادارےکے زیرِ انتظام اس وقت اسکولز، کالجز اور بچّوں، خواتین کے فلاحی اداروں کی شکل میں تقریباً 20ادارے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ 

گرچہ قیام سے لے کر اب تک انجمن کی خدمات سے مستفید ہونے والے افراد کی دُرست تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، لیکن پاکستان کی تاریخ میں نہایت اہمیت کا حامل یہ ادارہ سرکاری امداد کے بغیراب تک لاکھوں افراد کے دُکھوں کا مداوا کر چکا ہے۔ نیز، اس ادارے سے کئی قد آور شخصیات بھی منسلک رہ چکی ہیں، جن کی ایک طویل فہرست ہے۔ 

انجمنِ حمایتِ اسلام کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے پر خلیفہ حمید الدّین کو اس کا پہلا صدر منتخب کیا گیا، جب کہ ان کے رفقا میں مولوی غلام اللہ قصوری، مُنشی چراغ دین، مُفتی پیر بخش اور مُفتی عبدالرّحیم خان دہلوی شامل تھے۔ انجمن کے قیام کا بنیادی مقصد یتامیٰ، مفلس لڑکوں، لڑکیوں اور بیوائوں کی کفالت اور اُن کے لیے دینی و دنیوی تعلیم کا بندوبست کرنا تھا۔ 

علاوہ ازیں، دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت بھی اس کے اہم مقاصدمیںشامل تھی۔ انجمن کے قیام کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ اُس زمانے میں یتیم و بے سہارا اور لاوارث مسلمان بچّوں کو معاشرے میں انتہائی مشکلات کا سامنا تھا اور ہندو اور عیسائی مِشنریز اس صُورتِ حال سے فائدہ اُٹھا کر انہیں ہندو مَت اور عیسائیت کی طرف مائل کر رہی تھیں۔ لہٰذا، اس کے تدارک کے لیے بے سہارا بچّوں کو مشکلات سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

1885ء میں موچی دروازہ، لاہور میں کرائے کا ایک کمرا حاصل کر کے یتیم خانے کی بنیاد رکھی گئی۔ چُوں کہ اُس زمانے میں مسلمانوں کی مالی حالت کوئی زیادہ اچھی نہ تھی، لہٰذا انجمن نے مسلمان گھرانوں میں مٹّی کے برتن رکھوائے، جن میں نیک دِل خواتینِ خانہ آٹا گوندھتے وقت مُٹّھی بَھر آٹا ڈال دیتیں۔ مہینے کے آخر میں انجمن کی مجلسِ انتظامیہ کے عُہدے دار گھروں سے یہ آٹا اکٹّھا کرتے اور بوریاں کندھوں پر اُٹھا کر بازاروں میں آٹا فروخت کرتے۔ 

آٹے کے عوض ملنے والی رقم انجمن کے خزانے میں جمع کروا دی جاتی، جس سے یتیم وبے آسرا بچّوں کی کفالت کی جاتی۔ انجمن کے عُہدے داروں نے نظمیں لکھ لکھ کر لوگوں کو آٹا جمع کرنے کی ترغیب دی۔ پہلے سال انجمن کی آمدنی 754روپے تھی، جب کہ 344روپے خرچ ہوئے۔ اسی برس ہی انجمن کے ارکان کی تعداد 200سے بڑھ کر 600ہو گئی۔ 

انجمن کی آمدنی کا ایک ذریعہ عطیہ کردہ کُتب کی فروخت بھی تھا۔ مثال کے طور پر ایک مسلمان اسکالر، سیّد محمد حسنین نے 300کُتب عطیہ کی تھیں، جو 975روپے میں فروخت ہوئیں۔ انجمن نے اپنی تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے ایک گھر میں اسکول قائم کیا، جس کا کرایہ ڈھائی روپے ماہ وار تھا۔ 

نیز، فلاحی مقاصد کی تکمیل کے لیے موچی دروازے میں واقع، حویلی سکندر خان میں ایک دفتر کی بنیاد رکھی گئی۔ انجمن کے ان اقدامات نے معاشرے میں تنہا رہ جانے والے بچّوں کی زندگی ہی بدل دی۔ ابتدائی دَور میں انجمن کے تحت جو ادارے قائم کیے گئے، اُن میں ملّی دارالاطفال ،یتیم بچّوںاور بچّیوں کے لیے الگ الگ دارالشّفقت ، بے سہارا خواتین کے لیے دارالامان، جو برِصغیر میں اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ تھا ،اور مسلمانانِ برِ صغیر کی دینی رہنمائی کے لیے شعبۂ نشر و تالیفات شامل ہیں۔

انجمنِ حمایتِ اسلام کی تعلیمی و رفاہی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لینے سے پہلے قیامِ پاکستان سے قبل اس کی صدارت کرنے والی برِ صغیر کی نابغۂ روزگار شخصیات کا ذکر ضروری ہے۔ اس سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمان قائدین نے اس ادارے کے فروغ و استحکام میں کس قدر گہری دِل چسپی کا اظہار کیا۔ انجمن کے بانی صدر، خلیفہ حمید الدّین تھے، جو 1886ء سے 1890ء تک اس عُہدے پر متمکن رہے۔ 

ان کے بعد قاضی خان شیخ خدا بخش (1898-1891ء)، شمس العلماء مولانا مفتی محمد عبداللہ (1899-1901ء)، نواب سر فتح علی خان (1916-1902ء)، نواب سر محمد ذوالفقار علی خان (1922-1916ء)، میاں سر محمد شفیع (1928-1926ء)، جسٹس سر شیخ عبدالقادر (1929-1934ء)، ڈاکٹر علاّمہ محمد اقبال (1934ء- 1937ء)، نواب مظفّر خان (1940-1937ء) اور جسٹس سر شیخ عبدالقادر (1940ء- 1941ء) صدر منتخب ہوئے، جب کہ قیامِ پاکستان کے بعد ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدّین (1955-1947ء)، مولوی غلام محی الدّین قصوری (1955-1963ء)، سیّد محسن شاہ (1969-1963ء)، میاں امیر الدّین (1988-1969ء)، میاں صلاح الدّین (1988-1989ء)، میاں معراج الدّین (2009-1998ء) اورجسٹس (ر) منظور حسین سیال (2009ء سے تاحال) انجمن حمایتِ اسلام کے صدر منتخب ہوئے۔ انجمن کے نائب صدر کےطور پر خدمات انجام دینے والوں میں جسٹس (ر) جاوید اقبال سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔

علاّمہ اقبال، بہ طور صدرِ انجمنِ حمایتِ اسلام

گرچہ انجمنِ حمایتِ اسلام کے تمام صدور ہی کا شمار اپنے دَور کی ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے، لیکن شاعرِ مشرق، علاّمہ محمد اقبال کی انجمن سے وابستگی نہ صرف اس ادارے بلکہ پاکستان کی تاریخ کا بھی ایک اہم باب ہے۔ اس بابت ’’روزگار فقیر‘‘ میں سیّد وحید الدّین لکھتے ہیں کہ ’’علاّمہ اقبال، انجمنِ حمایتِ اسلام، لاہور کو مسلمانوں کی تعلیم و تنظیم اور اشاعتِ دین کا موزوں پلیٹ فارم اور ذریعہ سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کے ساتھ ایک بار جو تعلق قائم ہوا، اُسے مَرتے دم تک منقطع نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے پہلی بار انجمن کے جلسے میں اپنی مشہور نظم، ’’نالۂ یتیم‘‘ پڑھی۔ پہلے انجمن کے جنرل سیکریٹری کے طورپر فرائض انجام دیے۔ 

اس کے بعد انہیں انجمن کا صدر مقرّر کیا گیا۔ شدید علالت کے سبب انہیں صدارت سے مستعفی ہونا پڑا، لیکن اس سے قبل اُن کی یہ کیفیت رہی کہ کمزوریٔ بصارت کے سبب پڑھنے میں دِقّت ہوتی، تو انجمن کے کاغذات پڑھوا کر سُنتے اور ان پر نوٹ اور ضروری احکام لکھوا کر دست خط کرنے کی بہ جائے اپنے نام کی مُہر لگواتے۔

انجمن کے جلسوں میں پابندی کے ساتھ شرکت کرتے۔ انجمن کے جلسوں میں اپنی تازہ نظمیں پڑھنا، اُن کا معمول تھا۔ انجمن کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کے پلیٹ فارم سے حکیمِ مشرق نے بارہا اپنی نظمیں پڑھیں۔ انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق نظم، ’’شکوہ‘‘ بھی انجمن کے سالانہ اجلاس میں پڑھی۔ 1936ء میں انجمن کی سالانہ کانفرنس میں شریک ہوئے، مگر خرابیٔ صحت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ خود نظم سنانے کے قابل نہ تھے۔ 

ان کی یہ نظم جس کا پہلا مصرع’’؎خودی کا سِرّ نہاں لا الہ الا اللہ‘‘ ہے، ایک اور صاحب نے پڑھ کر سُنائی۔ وہ انجمن کی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں میں بھی باقاعدگی سے حصہ لیتے رہے۔ انہوں نے انجمن کے ساتھ اپنے تعلق کو جس طرح قائم رکھا اور آخری دم تک نبھایا، وہ اُن کے کردار کا ایک نمایاں اور سبق آموز پہلو ہے۔ انتقال سے قبل اپنی وصیّت میں انہوں نے اپنا ذاتی کُتب خانہ انجمن کے قائم کردہ اسلامیہ کالج کی لائبریری کو عطیے کے طور پر دینے کی ہدایت کی، کیوں کہ یہی کتابیں اُن کا زندگی بھر کا سرمایہ اور اثاثہ تھیں۔‘‘

قیامِ پاکستان سے پہلے انجمن کی خدمات

قیامِ پاکستان سے قبل انجمنِ حمایتِ اسلام کی جانب سے تعلیمی اداروں کا قیام اس اعتبار سے ایک بڑا کارنامہ تھا کہ اُس زمانے میں تعلیم کے میدان میں ہندو چھائے ہوئے تھے۔ تاہم، ابتدا میں بے سہارا بچّوں اور بچّیوں کی کفالت پر زیادہ توجّہ دی گئی۔ چناں چہ 1886ء میں دارالشّفقت کے نام سے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیےعلیحدہ علیحدہ یتیم خانے کھولے گئے۔ 

علاوہ ازیں، لاوارث خواتین کے لیے ایک دارالامان قائم کیا گیا، جہاں انہیں گھریلو ماحول میسّر تھا۔ بعدازاں، دارالشّفقت کو چوک یتیم خانہ پر 12.5بیگھے زمین پر منتقل کر دیا گیا، جہاں یہ آج بھی قائم ہے اور یہاں 500سے زاید بچّے اور بچّیاں رہایش پذیر ہیں۔ نیز، قیامِ پاکستان کے وقت یہاں ہزاروں بے گھر و بے آسرا خواتین اور بچّوں کو رہایش فراہم کی گئی۔ انجمن نے 1925ء میں اینگلو و رینکلر اسلامیہ گرلز مڈل اسکول قائم کیا، جسے 1939ء میں ڈگری کالج کا درجہ دیا گیا۔ 

قیامِ پاکستان سے قبل اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ کا قیام ایک ناقابلِ فراموش کارنامہ سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ یہی وہ درس گاہ ہے کہ جہاں مسلمان نوجوانوں نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد تحریکِ پاکستان میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ اسلامیہ کالج کے سینئر طلبا میں سیال کوٹ سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد حسین اور چوہدری رحمت علی بھی شامل تھے۔ چوہدری محمد حسین، علاّمہ اقبال کے انتقال کے بعد اُن کے بچّوں کے مربّی و سرپرست بنے، جب کہ چوہدری رحمت علی نے پاکستان کا نام تجویز کیا۔ اسلامیہ کالج کے طلبا علاّمہ اقبال کی شعر و شاعری کے علاوہ قومی تحاریک سے بھی خاصی دِل چسپی رکھتے تھے اور شاعرِ مشرق کی مجالس میں باقاعدگی سے شرکت کیا کرتے ۔

اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ حصولِ پاکستان کی جدوجہد کے سلسلے میں جب قائد اعظم لاہور تشریف لائے، تو انہوں نے اپنی کاوشوں کا آغاز اس کالج میں خطاب سے کیا۔ قیامِ پاکستان سے قبل قائد اعظم متعدد مرتبہ اسلامیہ کالج تشریف لائے اور نوجوانوں سے خطاب کیا۔ انجمنِ حمایتِ اسلام نے لاہور کے کوپر روڈ پر خواتین کے لیے بھی ایک اسلامیہ کالج کی بنیاد رکھی، جو آج بھی قائم ہے۔ تحریکِ آزادی کے دوران یہاں محترمہ فاطمہ جناح بھی تشریف لاتی رہیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد کی خدمات

یتامیٰ کی کفالت کے لیے دارالشّفقت کے نام سے قائم دو ادارے انجمن کے قدیم ترین ادارے ہیں۔ اس وقت ان دونوں اداروں میں سیکڑوں بچّے ، بچّیاں مقیم ہیں۔ ان اداروں میں لڑکوں کو برسرِ روزگار ہونے تک اور لڑکیوں کو اُن کی شادی تک معیاری رہایش اور تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ 2012ء میں کم سِن بچّوں کے لیے دارالشّفقت، جونیئر ونگ قائم کیا گیا، جہاں مدر کیئر کا بھی انتظام ہے۔ دارالشّفقت میں تعلیم اور پرورش پانے والے کئی بچّے آج مُلک میں اعلیٰ عُہدوں پرخدمات انجام دے رہے ہیں۔

قیامِ پاکستان کے وقت انجمن کے زیرِ انتظام 5ادارے قائم تھے، جن کی تعداد اس وقت 20ہو چکی ہے۔ تاہم، انجمن کو اپنی تاریخ میں اُس وقت ایک کڑی آزمایش کا سامنا کرنا پڑا کہ جب 1972ء میں اُس وقت کے صدرِ پاکستان، ذوالفقار علی بُھٹّو نے انجمن کے 15تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا، جن میں اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، اسلامیہ کالج، سِول لائنز اور اسلامیہ کالج برائے خواتین، کوپر روڈ سمیت دیگر 12تعلیمی ادارے شامل تھے۔ 

بعد ازاں، قومی تحویل میں لیے گئے دیگر تعلیمی اداروں کوتو اُن کے مالکان کو واپس کر دیا گیا، لیکن انجمن کے یہ 15تعلیمی ادارے اُسے واپس نہیں کیے گئے۔ انجمنِ حمایتِ اسلام کے منتظمین آج بھی ان تعلیمی اداروں کی واپسی کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تاہم، اس معاملے کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ حکومت نے جتنی تعداد میں تعلیمی اداروں کو اپنی تحویل میں لیا تھا، انجمن نے 1972ء کے بعد اتنے ہی ادارے از سرِ نو قائم کر لیے۔

عزمِ نو

1972ء میں 15تعلیمی ادارے قومی تحویل میں لیے جانے کے بعد انجمنِ حیاتِ اسلام نے ایک نئے عزم کے ساتھ جوادارے از سرِ نو قائم کیے، اُن کی تفصیل کچھ یوں ہے:

1- حمایتِ اسلام خیراتی یونانی شفا خانہ :اس ادارے کا آغاز 1872-73ء میں ہوا۔ 1907ء میں برطانوی حکومت کی ایما پر پنجاب یونی ورسٹی نے اسے انجمن کے سُپرد کر دیا۔ 1965ء میں اسے جدید طرز کی وسیع عمارت میں منتقل کر دیا گیا، جب کہ 2012ء میں یہاں سیکنڈ شفٹ کا آغاز کیا گیا۔

2- جمعہ مسجد، انجمنِ حمایتِ اسلام (2013ء)۔

3- حمایتِ اسلام دارالعلوم دینیہ فار بوائز اینڈ گرلز (1973ء:( یہاں تجوید، قرأت تفسیر، ترجمۂ حدیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔

4- حمایتِ اسلام خواتین کالج، گارڈن ٹائون : 1987ء میں قائم شدہ اس کالج کو 1988ء میں نئی تعمیر شدہ عمارت میں منتقل کیا گیا۔

5- حمایتِ اسلام ڈگری کالج برائے خواتین، ملتان روڈ: ستمبر 2000ء میں ہائر سیکنڈری اسکول فار گرلز کو ڈگری کالج فار وومن کا درجہ دے کر پنجاب یونی ورسٹی سے اس کا الحاق کر دیا گیا۔

6- حمایتِ اسلام لا کالج: یہ تعلیمی ادارہ 1969ء میں پہلی مرتبہ اسلامیہ کالج سِول لائنز کی عمارت میں قائم کیا گیا۔ تاہم، 1972ء میں اس کالج کو حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس واقعے کے 10برس بعد جب حکومت نے نجی شعبے کے تحت تعلیمی سرگرمیوں کی دوبارہ اجازت دی، تو 1988ء میں حمایتِ اسلام لا کالج کا دوبارہ قیام عمل میں آیا اور اُس وقت کے گورنر پنجاب، سجّاد حسین قریشی نے اس کا افتتاح کیا۔

7- حمایتِ اسلام طیبہ کالج: 1872ء میں قائم کی گئی یہ درس گاہ مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے آج بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 1965ء میں اسے ملتان روڈ سے ملحقہ وسیع و عریض جدید طرز کی عمارت میں منتقل کیاگیا۔

8- حمایتِ اسلام محمد امین ووکیشنل ٹریننگ سینٹر:اس تربیّتی مرکزکا آغاز 2001ء میں ہوا اور اس کا سنگِ بنیاد جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ نے رکھا۔ ووکیشنل سینٹر میں ریڈیو، ٹی وی، ریفریجریٹر اور الیکٹریشن سمیت دیگر 15ٹیکنالوجیز کے شارٹ کورسز کروائے جاتے ہیں۔

9- ہائر سیکنڈری اسکول: یہ تعلیمی ادارہ 1983ء میں قائم کیا گیا۔

10- حمایتِ اسلام پاشا ماڈل گرلز اسکول: یہ اسکول 1990ء میں قائم کیا گیا اور 1994ء میں نئی عمارت میں منتقل کیا گیا۔

11- حمایتِ اسلام پبلک اسکول، باغبان پورہ 2004ء میں قائم کیا گیا۔

12- شعبۂ جائیدادِ انجمن:یہ ادارہ انجمن کی جائیدادوں کا حساب کتاب رکھتا ہے۔ ان میں وہ املاک شامل ہیں، جو انجمن کے قیام سے لے کر اب تک مختلف صاحبِ ثروت افراد عطیہ کرتے رہے ہیں۔ مختلف دُکانوں اور املاک کے کرائے کی مَد میں موصول ہونے والی رقم لاکھوں میں ہے، جس سےانجمن کے اخراجات کا ایک بڑا حصّہ پورا ہوتا ہے۔ یہ شعبہ ایک 11رُکنی کمیٹی پر مشتمل ہے۔

13- تعمیرات کمیٹی: یہ مجلس انجمن کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی حفاظت اور عمارتوں کو شکست و ریخت سے بچانے کے لیے خدمات انجام دیتی ہے۔

14- حمایتِ اسلام پریس :یہ چھاپہ خانہ 1927ء میں قائم کیا گیا اور اس وقت جدید ترین مشینری سے لیس ہے۔

15- کُتب خانہ :انجمنِ حمایتِ اسلام کے تحت 1886ء میں کُتب خانہ قائم کیا گیا۔ یہ اب تک لا تعداد کُتب شایع کر چکا ہے۔

16- شہاب الدّین ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ۔ یہاں مختلف تیکنیکی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔

علاوہ ازیں،انجمن کی زیرِ نگرانی ماہنامہ حمایتِ اسلام نامی جریدہ 1923ء سے باقاعدگی سے شایع ہو رہا ہے اور اب تک اس کے 4ہزار سے زاید شمارے منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ اس وقت اس کے مدیر، اظہر غوری ہیں۔

ایک منفرد یونی ورسٹی کے قیام کا منصوبہ زیرِ غور ہے،صدر انجمنِ حمایتِ اسلام،جسٹس (ر) منظور حسین سیال

انجمنِ حمایتِ اسلام کے 88سالہ صدر، جسٹس(ر) منظور حسین سیال نے، جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج اور پنجاب کے محتسبِ اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں، 2009ء میں انجمن کے منصبِ صدارت پر فائز ہوئے ۔ وہ انجمن کے 17ویں صدر اور اس عُہدے پر طویل ترین مدّت تک برقرار رہنے والے دوسرے فرد ہیں۔ ادارے سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’’انجمنِ حمایتِ اسلام برِ صغیر کے قدیم ترین رفاہی و تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے، جسے زمانے کے نشیب و فرازبھی کوئی زک نہیں پہنچا سکے۔ 1884ء میں ایک شکستہ مکان میں لگایا گیا یہ پودا آج ایک شجرِ سایہ دار بن چکا ہے، جس کی شاخیں دُور دُور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ 

ابتدا میں انجمن کا کُل سرمایہ صرف 1,000روپے تھا، جب کہ آج اس کا بجٹ 25کروڑ روپے سے بھی زاید ہے۔ اس وقت اس کے زیرِ انتظام 20تعلیمی و رفاہی ادارے فعال ہیں، جن سے اب تک لاکھوں یتیم و بے آسرا بچّے، بچّیاں اور نوجوان مَرد و خواتین فیض یاب ہو چکے ہیں۔ انجمن کی 135سالہ خدمات کے احاطے کے لیے کئی کُتب درکار ہوں گی، تاہم مختصراً یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس عرصے میں انجمن نے رفاہی و تعلیمی خدمات کے میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کی، جسے زرّیں حروف سے لکھا جائے گا۔‘‘ 

انجمن کے صدر نے مزید بتایا کہ ’’انجمنِ حمایتِ اسلام کی داغ بیل ایک ایسے نازک وقت میں ڈالی گئی کہ جب 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانانِ برِ صغیر کی سماجی و معاشی حالت نہایت دگرگوں تھی اور ہندو اور مسیحیوں کے سودی نظام پر قائم ادارے بے بس مسلمانوں کا استحصال کر رہے تھے۔ اس موقعے پر یہ انجمن مسلمانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوئی۔ اس ادارے پر کڑا وقت تب آیا کہ جب ذوالفقار علی بُھٹّو نے اس کے 15تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ یہ ادارے کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا ۔ ان اداروں کی واپسی کے لیے قانونی کوششیں آج بھی جاری ہیں۔ 

تاہم، اپنے ادارے قومی تحویل میں لیے جانے کے بعد بھی انجمن کے عُہدے داران نے ہمّت نہ ہاری اور نئے سِرے سے تعلیمی و رفاہی ادارے قائم کرنا شروع کیے، جن کی تعداد آج 20سے بھی تجاوز کر چکی ہے ۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں جسٹس(ر) منظور حسین سیال کا کہنا تھا کہ ’’ انجمن کے تمام ادارے اپنی مدد آپ کے تحت چل رہے ہیں۔ حکومت سے کسی قسم کی مالی مدد نہیں لی جاتی۔ 

مخیّر افراد کے عطیات کی مدد سے اب تک کروڑوں روپے کے فلاحی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ 2013ء میں انجمن کے یومِ تاسیس کے موقعے پر یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ انجمن کا بجٹ فاضل آمدنی پر مشتمل ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ’’ ضرورت مند، مستحق اور تنہا رہ جانے والے افراد کو سہارا فراہم کرنا ہی سب سے بڑی نیکی ہے۔ 

دینِ اسلام میں یتامیٰ اور بے سہارا افراد کی مدد و کفالت کی واضح تعلیم دی گئی ہے۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں انجمنِ حمایتِ اسلام جیسے رفاہی اداروں کی اشد ضرورت ہے، کیوں کہ ہمارا معاشی و سماجی ڈھانچا زوال پذیر ہے اور انسانوں کے اس ہجوم میں ہر فرد خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ بِلاشُبہ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے، جہاں مخیّر افراد سالانہ اربوں روپے کے عطیات دیتے ہیں۔ 

تاہم، اس رقم کو مستحقین تک پہنچانے کے لیے ایک باقاعدہ نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ اسلام نے ایک فلاحی ریاست کے قیام پر زور دیا ہے اور جب تک حکومت یہ فریضہ انجام نہیں دیتی، درد مند اور مخیّر افراد کو مستحق و ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔ نیز، یہ وقت کا اہم ترین تقاضا بھی ہے۔‘‘ مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انجمن کے صدر کا کہنا تھا کہ ’’ اس وقت انجمن کے تحت ایک یونی ورسٹی کے قیام کا منصوبہ زیرِ غور ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد جامعہ ہو گی۔‘‘

علاّمہ اقبال کے دوشالہ کی نیلامی

معروف مصنّف، سیّد وحید الدین کے مطابق، ’’ 1911ء میں منعقدہ انجمنِ حمایتِ اسلام، لاہور کے سالانہ جلسے میں جب ڈاکٹر صاحب نے اپنی مشہور نظم، ’’شکوہ‘‘ اپنے مخصوص انداز میں پڑھی، تو تب اُن کی عُمر 35برس تھی۔ اس تاریخی اور رُوح پرور اجلاس میں ڈاکٹر صاحب کے والد، شیخ نور محمد بھی موجود تھے۔ 

وہ اپنے نام وَر فرزند کے شاعرانہ کمال اور ہر دل عزیزی کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نظم پڑھ چکے، تو اُن کے ایک مدّاح اور قدر شناس، خواجہ صمد آگے بڑھے اور جوشِ مسرّت میں اپنا قیمتی دو شالہ ڈاکٹر صاحب کے شانوں پر ڈال دیا۔ 

ڈاکٹر صاحب نے یہ دو شالہ اُسی وقت انجمن کے منتظمین کو دے دیا۔ پھر اس یادگار دوشالہ کو اسی مجمعِ عام میں نیلام کیا گیا اور سب سے بڑی بولی ختم ہونے پر جو رقم موصول ہوئی، وہ انجمن کی تحویل میں دے دی گئی۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید