آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نائن الیون کے بعد جنگی زونز میںبراہ راست 8لاکھ ایک ہزار ہلاکتیں

کراچی (جنگ نیوز) نائن الیون کے بعد دہشت گردی کیخلاف جنگ کے دوران جنگی زونز میںبراہ راست 8؍ لاکھ ایک ہزار افرادہلاک ہوئے ،اس جنگ پر لاگت کا تخمینہ 992184 ارب روپے سے زائد (6 عشاریہ 4ٹریلین ڈالر) کا ہے ۔ بلواسطہ اموات 31؍ لاکھ سے زائد جو افغانستان ، عراق ، شام ، پاکستان اور یمن میں ہوئیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹوں کے مطابق آٹھ لاکھ سے زائد ہلاکتیں جنگی زونز میں براہ راست ہوئیں جب کہ ان جنگوں کے نتیجے میں بلواسطہ اموات31لاکھ سے زائد ہیں جو افغانستان ، عراق ، شام ، پاکستان اور یمن میں ہوئیں۔امریکی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر دہشت گردی کے حملوں کے بعد شروع کی تھی۔’’ ہیومن کاسٹ آف پوسٹ نائین الیون وار‘‘ کی رپورٹ کے مطابق جنگی زونز میں براہ راست ہلاکتوں کے علاوہ شہریوں ، انسانی حقوق اور غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں ، صحافیوں اور میڈیا ورکروں ، امریکی فوجی ، محکمہ دفاع کے سویلین اور کنٹریکٹرز ، اور قومی و فوجی پولیس فورسز اور دیگر اتحادی افواج اور مخالفین جنگجو کی اموات شامل ہیں۔ رپورٹ میں ہلاکتوں کو چھ زمروں میں تقسیم کیا گیاجن میں افغانستان ، پاکستان ، عراق ، شام یا داعش ، یمن اور دیگر شامل ہیں۔ تمام زمروں میں سویلین اموات کا تناسب سب سے زیادہ ہے یعنی336فی صد یا کل اموات کا 42

فیصد۔ تاہم اس رپورٹ میں جنگ کے نتیجے میں فاقہ کشی ، پانی کی کمی ، اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی وجہ سے بیماریوں سے ہونے والی بالواسطہ اموات کو شامل نہیں کیا گیا۔ امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ وائن نے’ دی ہل‘ کے ایک مضمون میں لکھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بالواسطہ اموات کا تخمینہ براہ راست اموات سے چار گنا زیادہ ہے ،اس حساب سے نائن الیون کے بعد افغانستان ، عراق ، شام ، پاکستان اور یمن میں ہلاکتوں کی تعداد 31لاکھ سے زائد ہے یعنی امریکی ہلاکتوں سے دو سو گنا زیادہ ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ’’کاسٹ آف وار پراجیکٹ‘‘ کی تیارکردہ رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعدہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ جاری ہے ، نہ صرف اس وجہ سے کہ بہت ساری جنگیں جاری ہیں ، بلکہ اس لئے بھی کہ فوجیوں کی گھر واپسی کے باوجود جنگیں ختم نہیں ہوتیں۔ امریکہ آج جنگوں پر کم خرچ کر رہا ہے ، اس کے مالی اثرات ابھی بھی اتنے ہی خراب ہیں جتنے دس سال قبل تھے ۔ امریکا کے ان جنگوں اور ملکی سطح میں دہشت گردی کے خلاف تحریکوں پر خاصے اخراجات ہوئے جو خسارے کے اخراجات کے ذریعہ ادا کیے گئے ہیں۔ اگر امریکہ مالی سال 2020 کے اختتام تک بڑے جنگی زونز سے مکمل طور پر دستبردار ہوجاتا ہے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگوں کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر فلپائن اور افریقہ میں دہشت گردی کے خلاف کاروائیاں ، تو جنگوں کا مجموعی بجٹ بڑھتا ہی رہے گا کیونکہ امریکہ سابق فوجیوں کی دیکھ بھال اورقرض پر سود کی ادائیگی کررہا ہے ۔

اہم خبریں سے مزید