آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نزلہ زکام میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں؟

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی نزلہ زکام ہونے کا خوف طاری ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ دیگر علامات جیسے سر درد ، سردی لگنا، بخار ، جسم میں درد، کھانسی اور ناک بہنا موسمِ سرما کا مزہ کرکرا کردیتاہے۔ نزلہ زکام میں آپ کو بھرپور غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ نزلہ زکام کے وائرس سے لڑنے کے لئے ضروری طاقت حاصل ہو سکے۔ 

ڈاکٹر اس ضمن میں یخنی، سوپ اور دیگر صحت بخش غذائیں کھانے کامشورہ دیتے ہیں، ساتھ ہی کچھ چیزوں سے پرہیز بھی بتاتے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے نزلہ زکام ٹھیک ہونے کا دورانہ طویل ہو سکتاہے۔ اگر آپ نزلہ زکام کے دوران ذیل میں درج غذائوں سے اجتناب کریں گے تو پھر جلد ہی اس سے چھٹکارا حاصل کرپائیں گے۔

میٹھی اشیا

نزلہ زکام کے دوران بہت زیادہ میٹھی یا چینی والی غذائیں کھانا پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں کیونکہ ان سے سوزش (inflamation) ہوتی ہے۔ اس سے بلغم کو باہر نکالنا مشکل ہوتاہے ، جو گرم اور نم ماحول کی ایک قسم ہے، اس میں نزلہ زکام کا وائرس ر ہنا پسند کرتاہے ۔ سوزش جسم کے انفیکشن کو ختم کرنے والے سفید خون کے خلیوں کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔ اگرچہ ادرک کا قہوہ نزلہ زکام میں فائدہ دیتاہے تاہم اسے اگر بغیر چینی کے نوش فرمائیں تو مزید فائدہ ہوگا۔

دودھ کی بنی اشیاء

پرانی کہاوت ہے کہ دودھ اور اس کی مصنوعات جسم میںزیادہ بلغم پیدا کرتی ہیں۔ تاہم یہ سچ ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے دودھ بلغم کو گاڑھا بنا سکتا ہے اور اس کو زیادہ دیر تک قائم رکھ سکتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کو لگتاہے کہ دوودھ پینے سے آپ کے سینے میں زیادہ جکڑن (Congestion) ہورہی ہے تو اس سے پرہیز کرنا ہی دانشمندی ہے۔ 

لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو بیماری میں دودھ اور دہی جیسی چیزوں کے استعمال سے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ان دونوں میں پروٹین اور وٹامن ڈی موجود ہوتے ہیں جو آپ کے جسم کو انفیکشن سے لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ دہی میں پروبائیوٹکس ہوتے ہیں، جو گڈ بیکٹیریاز (فائد ہ مند ) کو توازن میں رکھنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

گوشت

نزلہ زکام سے لڑتے ہوئے اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے پروٹین لینا لازمی ہے اور یہ گوشت میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ تاہم، اس میں بہت ساری چربی بھی ہوتی ہے، جسے ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت کے ساتھ چربی کھانا آپ کے جسم کے ان جراثیموں کو نکالنے کی صلاحیت میں کمی لاتا ہے، جن سے نزلہ زکام ہوتا ہے اور اس وجہ سے آپ کو ایسی علامات کا سامنا زیادہ عرصے تک کرنا پڑتا ہے۔ اپنی پروٹین کی ضرورت کو انڈوں، دال، چنے، پھلیوں ، گری دار میوے ، سویابین اور چاول سے حاصل کرنا بہتر ہے۔

ریفائنڈاناج

پیٹ کی خرابی میں مبتلا زیادہ تر لوگ چاول اور ٹوسٹ کی بجائے مسالہ دار اور غذائیت سے بھرپور خوراک کھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا منفی پہلو یہ ہے کہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹ جسم میں جا کر شوگر کی شکل میں جلدی سے ٹوٹ جاتے ہیں، نتیجتاً خون کے اندر گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے اور تھوڑی ہی دیر میں دوبارہ بھوک محسوس ہونے لگتی ہے۔ 

ایسے ہی کاربوہائیڈریٹ بھی سوزش کے ساتھ وابستہ ہیں، جن سے ہر قیمت پر آپ کو پرہیز کرنا چاہئے۔ جب آپ بیمار ہوں تو ثابت اناج (سفید آٹا نہیں ) یا برائون رائس پر گزارا کریں، یہ آپ کو جلد بھوک نہیں لگنے دیں گے۔

کیفین

ہر شخص کو بیماری میں بہت سار ا پانی پینا چاہئے۔ پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن بھی نزلہ زکام کا باعث بنتی ہے۔ نزلہ زکام میں ہونے والے بخار کی وجہ سے پسینہ آنے اور بار بارقے ہونےسے پانی کی کمی ہو سکتی ہے ۔ لہٰذا نہ صرف اضافی پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ آپ کوکیفین کی صورت میں مشروبات لینے سے بھی پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ اس کی وجہ سے آپ کوزیادہ پیشاب آسکتاہے۔ کہا جاتا ہے کہ کیفین ڈی ہائیڈریشن کا سبب بنتا ہے، تاہم اس پر ابھی تحقیق جاری ہے۔ بار بار بیت الخلاء جانے سے بہتر ہے کہ آپ کیفین والے مشروبات سے گریز کریں اور زیادہ سے زیادہ آرام کریں جو نزلہ زکام کو ٹھیک کرنے کیلئے ضروری ہے۔

چکنائی والی اشیاء

چکنائی والی چیزیں جیسے چپس، فرنچ فرائز، برگر اور پیزا میں بہت سارے ٹرانس فیٹ یا سبزیوں کا تیل ہوتا ہے۔ یہ جسمانی طور پر شدید سوزش کا سبب بنتے ہیں اور مدافعتی نظام کو ابھرنے سے روکتے ہیں۔ 

چکنائی والا کھانا ہضم کرنا مشکل بھی ہوتا ہے اور یہ متلی کے احساس میں اضافہ کرسکتا ہے۔ جب آپ کو محسوس ہوکہ آپ کوواقعی کھانا کھانا ہے تو اس قسم کے اسنیکس سے پرہیز کریں اور پروٹین والی غذائوں سے شکم پر کریں۔

صحت سے مزید