آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍جمادی الاوّل 1441ھ18؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

معدومیت کے خطرے سے دو چار تلور، جنگلی حیات کا بے دریغ شکار

نقل مکانی اور سفر صرف انسان کی ضرورت نہیں، بلکہ جانور،چرند پرند اور آبی مخلوقات وغیرہ بھی موافق ماحول کی تلاش میں ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ موسمِ سرما کا آغاز ہوتے ہی پاکستان میں سائبیرین پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جن میں تلور، کُونج، بطخ، مُرغابی اور بگلے سمیت 110اقسام کے پرندے شامل ہیں۔ 

یوں تو تلور سائبیریا اور وسط ایشیائی ریاستوں میں پایا جاتا ہے، لیکن جب اس خطّے میں شدید سردی پڑنے لگتی ہے، تو یہ نسبتاًگرم علاقوں کا رُخ کرتا ہے۔ شرمیلا اور کم آمیز پرندہ ہونے کے ناتے تلور پتھریلے اور صحرائی و نیم صحرائی علاقوں میں رہنا پسند کرتا ہے۔ دُنیا بَھر میں تلور کی 22اقسام پائی جاتی ہیں۔ شمالی افریقا میں تلور کی چھوٹی نسل پائی جاتی ہے۔ اس نسل سے تعلق رکھنے والے نر تلور کا وزن 1500سے2400گرام، جب کہ مادہ کاایک ہزار سے 1400گرام تک ہوتا ہے۔ عموماً ایک بڑا تلور 60سینٹی میٹر لمبا ہوتا ہے، جب کہ اس کے پر 140سینٹی میٹر طویل ہوتے ہیں۔ 

اس کی پِیٹھ بُھوری اور پیٹ کا رنگ سفید ہوتا ہے، جب کہ گردن کے گرد ایک کالی دھاری ہوتی ہے۔ یہ عربوں کا مَن پسند پرندہ ہے۔ عرب باشندے اسے باز کو شکار کی تربیت دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تلور کی نسل کو لاحق معدومی کے خطرے کے باعث بین الاقوامی سطح پر اس کے شکار پر پابندی عاید ہے۔تاہم، گزشتہ چند برسوں سے وسط ایشیائی ریاستوں میں جاری اس نایاب پرندے کے بے دریغ شکار کی وجہ سے پاکستان میں اس کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرم علاقوں میں افزائشِ نسل کے دوران مقامی باشندوں کی جانب سے تلور کو ستانے کی وجہ سے بھی اس کی بڑھوتری کا عمل متاثر ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ہر سال بڑی تعداد میں تلور یخ بستہ منگولیا، سائبیریا اور وسط ایشیائی ریاستوں سے ایک جانب افغانستان کے راستے پاکستان، بھارت، مسقط، متّحدہ عرب امارات اور یمن پہنچتے ہیں، تو دوسری جانب ایران کے شمال میں واقع بحیرۂ خضر، کوہِ البرز، دشتِ کویر اور کوہِ زگرس سے ہوتے ہوئے مغربی عراق میں داخل ہوتے ہیں۔ تلور اکثر رات کے وقت اپنے ایک رہبر کی رہنمائی میں جُھنڈ کی شکل میں نقل مکانی کرتے ہیں۔ طویل سفر کے دوران یہ خوراک کے لیے بعض مقامات پر پڑائو بھی ڈالتے ہیں۔ 

نیز، اگر دورانِ سفر کوئی تلور بیمار ہو جائے اور پرواز کے قابل نہ رہے، تو دوسرے تلور اسے راستے میں چھوڑنے کی بہ جائے اسے اپنا ہم سفر بنانے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں تلور ہر سال نومبر اور دسمبر میں پہنچتے ہیں اور مارچ میں واپس روانہ ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ متّحدہ عرب امارات اور الجزائر نے اس نایاب و خوب صُورت پرندے کی حفاظت اور افزائشِ نسل کے لیے ایک معاہدے پر دست خط بھی کر رکھے ہیں۔

بلوچستان، تلور سمیت دیگر نقلِ مکانی کرنے والے پرندوں کا قدرتی مسکن ہے، جہاں یہ لگ بھگ 5ماہ گزارتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر برس 55ہزار تلور پاکستان اور اس کے ہم سایہ ممالک کا رُخ کرتے ہیں اور بلوچستان میں نوشکی، خاران، چاغی، لسبیلہ، ژوب اور واشک کے اضلاع میں سکونت اختیار کر کے اپنی نسل کی افزائش کرتے ہیں۔ 

تاہم، موسمِ سرما کا آغاز ہوتے ہی سعودی عرب، متّحدہ عرب امارات اور قطر کے شیّوخ بھی تلور کے شکار کے لیے بلوچستان پہنچ جاتے ہیں۔یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ قدرتی ماحول کے تحفّظ کے لیے قائم بین الاقوامی ادارے،’’ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر‘‘ نے تلور کو معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ اسی بِنا پر 2015ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس نایاب پرندے کے شکار پر پابندی عاید کی تھی۔ تاہم، پھر یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ گزشتہ برس وفاقی حکومت نے عرب شیّوخ کو شکار کے باقاعدہ اجازت نامے جاری کیے، جب کہ لائسنس کی فیس ایک لاکھ امریکی ڈالرز مقرّر کی گئی۔ 

دوسری جانب گرچہ صوبائی محکمۂ جنگلات و جنگلی حیات نے شکار کی نگرانی اور غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے گیم واچرز تعینات کر رکھے ہیں، مگر یہ با اثر شیّوخ کے سامنے بے بس ہیں۔ ضلع نوشکی کے ایک مقامی شکاری، میر طاہر خان کے مطابق بے دریغ شکار کی وجہ سے موسمِ سرما میں تلور سمیت دیگر سائبیرین پرندوں کی بلوچستان آمد میں ہر سال کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے ان پرندوں کے شکار کے لیے انہیں اپنے گائوں سے باہر نہیں نکلنا پڑتا تھا، جب کہ اب 60سے 70کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد بھی انہیں شکار نہیں ملتا۔ البتہ عرب شیّوخ اپنا یہ مشغلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور 2014ء میں ایک عرب شیخ نے چاغی میں اپنی 21روزہ مُہم کے دوران 2100تلور شکار کیے تھے، جو ایک تشویش ناک بات ہے۔

دوسری جانب صوبائی محکمۂ جنگلات و جنگلی حیات کے اعلیٰ حُکّام کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری خُشک سالی کی وجہ سے بلوچستان میں تلور سمیت دیگر سائبیرین پرندوں کی تعداد گَھٹتی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق محکمہ معدومیت کے خطرے سے دو چار پرندوں اور جنگلی حیات کے تحفّظ پر بھرپور توجّہ دے رہا ہے اور جنگلی حیات کے تحفّظ کے ایکٹ مجریہ 2014ء پر کماحقہ عمل کیا جا رہا ہے۔ اس ایکٹ کی رُو سے صوبائی حکومت شکار کے لیے اجازت نامہ جاری کرنے کی مجاز ہے اور عرب شیّوخ کے لیے باقاعدہ شکار گاہیں مختص کی گئی ہیں، جب کہ مقامی باشندے شکار کرنے سے قاصر ہیں۔ 

اعلیٰ حُکّام کا دعویٰ ہے کہ شکار کی اجازت دینے سے تلور کی تعداد کم نہیں ہو رہی، بلکہ صوبائی حکومت کو کثیر آمدنی ہو رہی ہے۔ نیز، اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی شکاری اجازت سے زیادہ شکار نہ کر سکے۔ علاوہ ازیں، محکمے کی کوششوں سے مقامی باشندوں میں جنگلی حیات کےتحفّظ کے حوالے سے آگہی بڑھ رہی ہے اور صوبے میں کئی ایک زولوجیکل پارکس بھی قائم کیے گئے ہیں، جو جنگلی حیات کے تحفّظ میں ممد و معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ معدومیت کے خطرے سے دو چار جنگلی حیات اور پرندوں کے تحفّظ کو یقینی بنانے کے لیے بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان وائلڈ لائف پروٹیکشن، پریزرویشن، کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ ایکٹ 2014ء کی منظوری دی ہے، جو وائلڈ لائف ایکٹ 1974ء کی جگہ لے گا۔ اس قانون سازی کا مقصد غیر قانونی شکار کا تدارک ہے۔ 

اس قانون کی رُو سے مار خور کے، جس کی نسل کو معدومیت کا خطرہ ہے، شکار پر فی مار خور کم از کم 10ہزار اور زیادہ سے زیادہ20ہزار روپے جُرمانہ اور 3سے6ہفتے تک قید کی سزا مقرّر کی گئی ہے۔عرب شیّوخ سے قُربت رکھنے والے افراد کا ماننا ہے کہ وہ مقامی باشندوں کے لیے بعض رفاہی منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں، لیکن علاقے کے با اثر افراد صرف ذاتی منفعت ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ مختص کردہ شکار گاہوں کے ارد گرد مقیم مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ چند با اثر افراد ہی عرب شیّوخ سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور علاقے کی ترقّی و خوش حالی میں ان کا کوئی کردار نہیں۔

پھران دنوں پاکستان اور خلیجی ممالک کے سفارتی تعلقات میں ’’باز‘‘ کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ علاوہ ازیں، اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام اداروں سے معاہدوں اور باضابطہ حکومتی پابندی کے باوجود پاکستان میں باز کی غیر قانونی تجارت کا حجم 10ارب روپے سالانہ سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس وقت ایک عام باز 3لاکھ روپے میں، جب کہ اعلیٰ نسل کا باز 1.5سے 3کروڑ روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ 

عموماً عرب باشندے مادّہ باز کی خریداری میں زیادہ دل چسپی لیتے ہیں۔ یاد رہے کہ مختلف عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے شیّوخ تلور کے شکار کے لیے باز کا استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان میں قائم قطری سفارت خانے نے حکومتِ پاکستان سے درخواست کی تھی کہ اُسے 200باز، قطر لے جانے کی اجازت دی جائے، جسے حکومتِ پاکستان نے بہ خوشی منظور کر لیا۔ 

تاہم، جب قطری سفارت خانے کے اہل کاروں نے ایک درجن باز قطر بھیجنے کی کوشش کی، تو اسلام آباد اور لاہور ایئرپورٹ پر موجود کسٹم حُکّام نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ محکمۂ موسمیات کے این اوسی کے بغیر یہ باز پاکستان سے باہر نہیں لے جائے جا سکتے، کیوں کہ ان کی ایکسپورٹ پر پابندی عاید ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے، ڈبلیو ڈبلیو ایف کا ماننا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 15برس کے دوران بازوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ پاکستانی قوانین کی رُو سے اگر کسی باز کو بیرونِ مُلک لے جانا مقصود ہو، اُس کا پاسپورٹ بنوانا اور متعلقہ محکموں سے این او سی لینا ضروری ہے۔ 

دوسری جانب اگر سفارتی مقاصد کی خاطر عرب شیّوخ کو شکار کی اجازت دی گئی ہے، تو کم از کم ان سے شکار گاہوں کا کرایہ ہی وصول کیا جائے اورٹرافی ہنٹنگ کی مَد میں حاصل ہونے والی رقم کو علاقے کی ترقّی و خوش حالی پر خرچ کیا جائے۔ نیز، بیرونِ مُلک سے آنے والے شکاریوں کو بھی چاہیے کہ وہ چند با اثر افراد کو فائدہ پہنچانے کی بہ جائے مقامی باشندوں کی فلاح و بہبود کے لیے ترقّیاتی منصوبے شروع کریں اور مقامی نوجوانوں کو اپنے اپنے ممالک میں روزگار مہیا کریں۔ علاوہ ازیں، غیر قانونی شکار پر پابندی کو یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں خصوصی مجسٹریٹ مقرّر کیے جائیں۔ صرف اُن پرندوں اور جانوروں کے شکار کی اجازت دی جائے کہ جن کی نسل معدومیت کے خطرے سے دو چار نہ ہو۔ 

اس ضمن میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مار خور کے غیر قانونی شکار پر فی مار خور کم از کم ایک لاکھ اور زیادہ سے زیادہ دو لاکھ روپے جُرمانہ مقرّر کیا جائے۔ تلور کی بریڈنگ کے مقام پر شکار پر پابندی عاید کی جائے۔ ٹرافی ہنٹنگ کےلیے معدومیت کے شکار جانوروں اور پرندوں کی تعداد کا تعیّن کیا جائے ، جب کہ ایسے جانوروں کی تعداد دو ، جب کہ پرندوں کی10سے زاید نہیں ہونی چاہیے۔ قدرتی ماحول کا تحفّظ کیا جائے اور اسے ترقّیاتی کاموں کی آڑ میں خراب ہونے سے بچایا جائے۔ نیز، نایاب پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔

سنڈے میگزین سے مزید