آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
اگر پوری دیانتداری سے بتاؤں کہ مجھے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ ذہنی تکلیف کب پہنچی تھی تو شاید برصغیر کے عظیم اردو افسانہ نگار انتظار حسین کو یاد ہو کہ بہت عرصہ پہلے چولستان کی سیر کے دوران ہمارے جیپ ڈرائیور بتارہے تھے کہ ان ریگزاروں میں کوئی خاتون اپنا راستہ بھول جائے تو کسی جھاڑی پر اپنا رنگین دوپٹہ پھینک کر بازیافتگی کا یقین کرسکتی ہے۔ ان باتوں کے دوران میں نے چولستان کے اس دور افتادہ علاقے کی اکا دکا جھاڑیوں کو سلوفین کے لفافوں کے خوفناک نرغے میں دیکھا تو اپنے آنسو ضبط نہ کرسکا کہ اب شاید کسی گم شدہ خاتون کی بازیافتگی مشکل ہوجائے گی۔
ابھی حال ہی میں کسی اخبار میں سلو فین لفافوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پڑھ کر خوشی ہوئی اور اس کے ساتھ ہی کسی انگریزی فلم کا ایک انتہائی خوفناک بلکہ لرزہ خیز منظر بھی یاد آیا کہ کچھ خواتین جو شاید گھریلو ملازمائیں ہونگی کچھ نوزائیدہ بچوں کو کسی پارک میں دھوپ سے لطف اندوز ہونے کے لئے لاتی ہیں اور پھر باہمی گپ بازی میں اس قدر مصروف ہوجاتی ہیں کہ سلوفین کا ایک لفافہ کہیں سے اڑتا ہوا آتا ہے اور ایک بہت ہی پیاری نوزائیدہ بچی کے چہرے پر چپک جاتا ہے مگر ملازمائیں اس پر توجہ نہیں دے سکتیں اور ایک گھرانہ قدرت کے حسین ترین تحفے سے محروم ہوجاتا ہے۔ اب میں بھی

اتنے ہی حسین اور معصوم قدرتی تحائف وصول کرچکا ہوں اس لئے اس فلمی منظر کی لرزہ خیزی کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہوں اور حیران بھی ہوسکتا ہوں کہ بقول کسے ہم صرف چند لمحوں کی سہولت کو ہزاروں سالوں کے عذاب کا سامان کیوں بناتے ہیں؟ ہم کیوں نہیں جان سکتے کہ سلوفین کے جس لفافے میں ہم بازار سے دہی لاتے ہیں وہ کسی کھیت کے کم از کم ایک مربع گز علاقے کو پچاس سالوں کے لئے بنجر بنا سکتا ہے۔ گندے پانی کی نکاس کے راستے میں حائل ہوسکتا ہے۔ کسی معصوم بچے کی ننھی سانس کو روک سکتا ہے ۔ کسی گھر کے چراغ کو گل کرسکتا ہے۔
چند سال پہلے بنگلہ دیش جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں کی دو چار باتیں بہت پسند آئیں ایک تو یہ کہ وہاں کی ایک حکمران خالدہ ضیاء نے وہاں کے مولوی صاحبان اور خاص طور مساجد کے اماموں کو یہ فریضہ سونپنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اپنے علاقے کے تمام گھروں کے یوٹیلٹی بلز جمع کروائیں اور ان کے عوض دس فیصد کاٹ لیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوا تھا کہ لوگوں کے 85فیصد ی بلز ادا ہونے لگے تھے اور دوسرا فائدہ یہ ہوا تھا کہ امام صاحب نے شیعہ فرقے کے لوگوں کے بل بھی جمع کرائے تھے اور سنی عقیدے کے لوگوں کے دروازے پر دستک بھی دینی تھی چنانچہ وہ اپنے خطبوں میں پہلے سے بہت زیادہ محتاط انداز اور زبان استعمال کرنے لگے تھے۔ بنگلہ دیش میں گارمنٹس کا بیشتر کاروبار خواتین کی تحویل میں دئیے جانے کا سب سے بڑا فائدہ جو میں نے دیکھا یہ تھا کہ وہاں کی خواتین کی باڈی لینگوئج بہت پراعتماد ہوگئی ہے اور مالی استحکام کا ثبوت فراہم ہوتا ہے جو بنگلہ دیش کے حوالے سے”گراہین بینک“ جتنی اہمیت رکھتا ہے۔بنگلہ دیش کی ایک اچھی بات مجھے وہاں کی خواندگی کی شرح میں اضافے اور آبادی کی شرح میں کمی سے بھی زیادہ اچھی بات لگی کہ وہاں سلوفین کے لفافوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور اس پابندی پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ سلوفین کے لفافوں کی جگہ مختلف ادارے کاغذ اور کپڑے کے لفافے تیار کرکے دوکانوں پرمفت تقسیم کرتے ہیں۔ ان لفافوں کی تیاری کے اخراجات ان لفافوں پر مختلف اشیاء اور تجارتی اداروں کے اشتہارت چھاپ کر پورے کرتے ہیں۔ کیا ہمارے پاکستان کے کچھ غیر سرکاری دفاعی اور فلاحی ادارے اس نوعیت کی کوئی مثبت، کار آمد، اچھی ،اجتماعی فائدے کی تجویز پر غور فرمانے کی زحمت برداشت کرنے کو تیار ہوسکتے ہیں؟